Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ریاض حملے کے بعد ٹرمپ کا نیا موقف: امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ حملوں میں شامل ہو سکتا ہے، ایران پر بمباری بھی دوبارہ ممکن

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ امریکا یمن کے حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ مل کر حملوں میں شامل ہو سکتا ہے، اور ایران پر بمباری بھی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے۔ یہ بیان ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تازہ میزائل حملے کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے اور ایئرپورٹ کی کارروائیاں عارضی طور پر معطل کر دی گئیں۔

وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا: “ہم کر سکتے ہیں۔ ہم اس پر غور کریں گے۔ ہمیں ابھی اس تازہ حملے کا پتا چلا ہے، اس لیے ہم کوئی فیصلہ کریں گے۔”

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک علاقائی عہدیدار کے مطابق میزائل نے ایئرپورٹ کے اس احاطے کو نشانہ بنایا جہاں ٹرمینل 3 اور 4 واقع ہیں اور گھریلو پروازیں چلتی ہیں۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی ہے کہ حملے کے بعد ایئرپورٹ عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور زخمیوں کی درست تعداد کا تعین ابھی ہو رہا ہے۔ ہفتے کے اس حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ الجزیرہ کے مطابق یہ صرف ایک ہفتے میں کنگ خالد ایئرپورٹ پر تیسرا حملہ ہے — جمعرات کے حملوں میں تین سعودی شہری ہلاک ہوئے تھے، جن میں سعودی ایئرلائن کا ایک پائلٹ بھی شامل تھا۔

ٹرمپ کا تازہ بیان ان کے اپنے دو روز پرانے وعدے سے براہِ راست متصادم ہے۔ 8 اکتوبر کو انہوں نے کہا تھا کہ تین نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر کوئی امریکی حملہ نہیں ہوگا۔ اب وہ “غور کرنے” کی بات کر رہے ہیں۔ یہ لہجہ اس لیے بھی قابلِ توجہ ہے کہ صرف ایک روز قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ٹرمپ کو ایران کا امن فارمولا پہنچایا تھا، اور کریملن کے مطابق ٹرمپ نے ایران تنازعے میں روس کی کوششوں کا خیرمقدم کیا تھا۔ ایک طرف امن کی بات، دوسری طرف بمباری کی دھمکی — واشنگٹن بیک وقت دونوں راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے۔

تازہ حملے کے بعد امریکا اور برطانیہ نے بھی اپنے شہریوں کو کنگ خالد ایئرپورٹ کے استعمال سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ جرمنی، اسپین، فرانس اور کینیڈا پہلے ہی ایسے انتباہات جاری کر چکے ہیں۔ کویت ایئرویز نے ریاض سے آنے جانے والی دو پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔ اے ایف پی کے طبی ذرائع کے مطابق سعودی حکام نے ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے ڈاکٹروں کو بڑے پیمانے پر طلب کیا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے: ٹرمپ کے منہ سے نکلا “ہم اس پر غور کریں گے” ایک چھوٹا سا جملہ ہے، لیکن اس کے سائے بہت لمبے ہیں۔ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ عملاً جنگ کی کیفیت میں ہے، اور اگر واشنگٹن واقعی حوثیوں کے خلاف سعودی مہم میں شامل ہوتا ہے تو یمن ایک دوسرا محاذ بن جائے گا — بالکل اس وقت جب سعودی اتحاد یمن میں حوثیوں کے 136 فوجی اہداف پہلے ہی تباہ کر چکا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی پہلے ہی دباؤ میں ہے، اور پاکستان جیسے درآمدی ممالک کے لیے اس کا مطلب پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے — وہی پٹرول جو پاکستان میں 400 روپے فی لیٹر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ دوسری طرف پیر کو شرم الشیخ میں غزہ امن سربراہی اجلاس ہو رہا ہے، اور ٹرمپ کا پیغام واضح ہے: مذاکرات کی میز پر سنجیدگی دکھاؤ، ورنہ بمباری کا آپشن میز پر موجود ہے۔

اب سب کی نظریں وائٹ ہاؤس کے اگلے فیصلے پر ہیں۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فیصلہ جلد ہوگا — اور مشرقِ وسطیٰ کی یہ آگ اگر پھیلی تو اس کی تپش ریاض سے تہران اور واشنگٹن تک ہر دارالحکومت محسوس کرے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *