Saturday, 24 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

کم جونگ ان کا اچانک چین کا دورہ: نئے پل سے ڈنڈونگ پہنچے، ایک سال سے زائد عرصے میں پہلا غیر ملکی سفر

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان (بائیں) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ہاتھ ملاتے ہوئے — ستمبر 2023 کی فائل تصویر

سیئول — شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان ہفتے کے روز ایک سال سے زائد عرصے میں پہلی بار اپنے ملک سے باہر نکلے اور خصوصی ٹرین میں چین کے سرحدی شہر ڈنڈونگ پہنچ گئے۔ جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم جونگ ان دونوں ملکوں کو ملانے والے نئے یالو ندی پل سے چین میں داخل ہوئے۔ رائٹرز نے بھی یونہاپ کے حوالے سے اس خبر کی تصدیق کی ہے۔

جنوبی کوریا کے اخبار “جونگ آنگ ڈیلی” کے مطابق کم جونگ ان کی آمد پر چین کے وزیر اعظم لی چھانگ نے ان کا استقبال کیا۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دورے کا وقت سوچ سمجھ کر چنا گیا — کل 25 اکتوبر کو کوریا جنگ (1950-53) میں چینی فوجیوں کے داخلے کی 76ویں برسی ہے، جسے دونوں ملک مشترکہ طور پر مناتے ہیں۔ ذرائع کے الفاظ میں: «یہ دورہ بظاہر 25 اکتوبر کے موقع پر طے کیا گیا، جب شمالی کوریا اور چین کوریا جنگ میں چینی فوجیوں کے داخلے کی یاد مناتے ہیں۔»

اس کہانی کا ایک اہم کردار وہ پل خود بھی ہے جس سے کم جونگ ان چین میں داخل ہوئے۔ ڈنڈونگ کو شمالی کوریا کے شہر سینوئیجو سے ملانے والا چار لین والا یہ پل 3,026 میٹر لمبا ہے اور 2014 میں ہی مکمل ہو چکا تھا — مگر شمالی کوریا کی جانب رابطہ سڑکوں اور کسٹمز کی سہولتیں نہ بننے کے باعث بارہ سال تک بند پڑا رہا۔ چین نے اس کی تعمیر پر تقریباً 31 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے۔ اس ماہ 15 اکتوبر کو اس کے باقاعدہ افتتاح کے محض نو دن بعد کم جونگ ان اسی پل سے چین میں داخل ہوئے — یہ اس راستے کا پہلا بڑا سیاسی استعمال ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس سرحدی گزرگاہ کے کھلنے سے برسوں کی کشیدگی اور وبا کے باعث متاثرہ تجارت کو نئی جان ملنے کی امید ہے۔

دورے سے چند گھنٹے قبل ہی ڈنڈونگ میں غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی تھیں۔ جاپان کی کیوڈو نیوز نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ شہر کے کئی حصوں میں سخت ٹریفک پابندیاں عائد کر دی گئیں اور ہوٹلوں کی بکنگ بند ہو گئی — جس سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شمالی کوریا کا کوئی اعلیٰ اہلکار علاقے میں آ رہا ہے۔ ڈنڈونگ چین کے صوبے لیاوننگ کا وہ شہر ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔

یہ دورہ ان افواہوں کے پس منظر میں بھی اہم ہے جو حالیہ ہفتوں میں بیرون ملک سوشل میڈیا پر کم جونگ ان کی موت سے متعلق پھیلتی رہیں۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے ہفتے کو ہی بتایا کہ کم جونگ ان نے بدھ اور جمعرات کو پیانگ یانگ میں فوج کی کمپنی کمانڈروں کی کانفرنس کی صدارت کی، جس میں “نئے دور میں طاقتور فوج کی تعمیر” پر تقریر کی۔ ان کی یہ عوامی نمودار افواہوں کو عملاً مسترد کرتی ہے۔

دورے کا وقت بھی اتفاق نہیں لگتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سال کے اختتام سے قبل شمالی کوریا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں، اور ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (ایپیک) کا سربراہی اجلاس چین کے شہر شینزین میں ہونے والا ہے۔ مبصرین کے خیال میں کم جونگ ان امریکہ سے کسی بھی رابطے سے پہلے بیجنگ کے ساتھ ہم آہنگی چاہتے ہیں — ٹرمپ کی سفارتی کوششیں ان دنوں روس اور یوکرین کے محاذ پر بھی جاری ہیں۔

ابھی تک نہ تو چین کی وزارت خارجہ نے اس دورے پر کوئی تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی جنوبی کوریا کی وزارت اتحاد کے ترجمان نے فوری ردعمل دیا — یہ احتیاط ظاہر کرتی ہے کہ دورہ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور متعلقہ دارالحکومت صورت حال کو پرکھ رہے ہیں۔

یہ خبر کیوں اہم ہے: چین شمالی کوریا کی معیشت کی شہ رگ ہے — ایندھن، خوراک اور تجارت کا بڑا حصہ اسی سرحد سے گزرتا ہے۔ بارہ سال بند رہنے والے پل کا کھلنا اور اس کے فوراً بعد کم جونگ ان کا اسی راستے سے دورہ اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ اور پیانگ یانگ معاشی تعلقات کو نئے سرے سے جوڑ رہے ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہ خبر دور رس ہے: چین پاکستان کا قریبی شراکت دار ہے، اور کوریا جزیرہ نما میں استحکام پورے ایشیا کے امن اور تجارت پر اثر ڈالتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *