اہم نکات
- کے ایس ای 100: 1,549.44 پوائنٹس (0.95 فیصد) گر کر 162,374.88 پر بند — مسلسل دوسرا منفی سیشن، انڈیکس 163,000 کی سطح سے نیچے
- دباؤ کی وجہ: امریکا-ایران کشیدگی بڑھنے کا خدشہ؛ برینٹ خام تیل 116 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند، اپریل کے بعد بلند ترین سطح
- کاروباری حجم: 398.9 ملین حصص کا لین دین، مالیت 18.2 ارب روپے؛ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 159 ارب روپے کی کمی
- اگلا امتحان: پیر 26 اکتوبر کو اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس — مارکیٹ 50 بیسس پوائنٹس شرح سود میں اضافے کی توقع کر رہی ہے
جمعے کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,549.44 پوائنٹس یعنی 0.95 فیصد گر کر 162,374.88 پر بند ہوا — پچھلے سیشن کے 163,924.32 کے مقابلے میں۔ دن کے دوران انڈیکس 1,674 پوائنٹس کی رینج میں گھومتا رہا: 163,966.86 کی بلند ترین سطح چھوئی، پھر فروخت کے دباؤ میں 162,292.44 کی کم ترین سطح تک گیا اور آخر کار 163,000 سے نیچے بند ہوا۔
فروخت کا دباؤ بینکوں اور توانائی کے حصص سے آیا۔ میزاں بینک، اینگرو ہولڈنگز، لکی سیمنٹ، حب پاور، پاکستان پیٹرولیم، ایم سی بی بینک، سسٹمز لمیٹڈ، نیشنل بینک، آئل اینڈ گیس ڈیویلپمنٹ کمپنی اور حبیب بینک نے مجموعی طور پر انڈیکس سے 985 پوائنٹس کھائے۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب کے مطابق مارکیٹ دونوں سمتوں میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہی — سرمایہ کار محتاط تھے اور ہفتے کے اختتام سے پہلے اپنی پوزیشنیں سمیٹتے رہے۔
اس مندی کی جڑیں کراچی سے باہر ہیں۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے خدشے نے تیل کی قیمتوں کو اچھال دیا — برینٹ خام تیل جمعے کو 116.72 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو 29 اپریل کے بعد بلند ترین سطح ہے اور مسلسل تیسرے ہفتے بڑھوتری ہے۔ پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے یہ دوہرا دباؤ ہے: مہنگی درآمدات اور مہنگائی کا خدشہ، اور یہی خدشہ ایکوئٹیز کو بھی دبا رہا ہے۔ ڈان کے مطابق ملک پہلے ہی ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور قلت سے دوچار ہے۔
اس پر ایک اور پریشانی: پی ایس ایکس کی ویب سائٹ صبح سے بند پڑی تھی اور رات گئے تک بحال نہ ہو سکی۔ ایکسچینج نے اس غیر معمولی بندش کی کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی — سرمایہ کاروں کے لیے یہ صورتحال ویسے ہی تشویش ناک تھی، مندی کے دن تو اور بھی۔
پیر کا فیصلہ: شرح سود بڑھے گی؟
اب سب کی نظریں پیر 26 اکتوبر پر ہیں، جب اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔ مارکیٹ کی توقع ہے کہ بینچ مارک شرح سود میں 50 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جائے گا۔ یہ توقع بے وجہ نہیں — تیل کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی کے دباؤ کو ہوا دے رہی ہیں، اور مرکزی بینک کے پاس مہنگائی روکنے کا بنیادی ہتھیار شرح سود ہی ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے اس فیصلے کے دو رخ ہیں۔ اگر شرح سود بڑھتی ہے تو بینکوں کے منافع پر وقتی دباؤ آئے گا اور سیمنٹ و آٹو جیسے قرض پر چلنے والے شعبوں کی لاگت بڑھے گی — مندی کے لیے مزید ایندھن۔ لیکن اگر اسٹیٹ بینک شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کرے تو مارکیٹ کو “ریلیف ریلی” مل سکتی ہے۔ علی نجیب کی پیش گوئی ہے کہ انڈیکس 160,000 سے 168,000 کی رینج میں اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا — یعنی سمت کا تعین اب خبروں کے ہاتھ میں ہے، تکنیکی سطحوں کے نہیں۔
حجم کے اعداد بھی کہانی سناتے ہیں: 398.9 ملین حصص کا لین دین ہوا (پچھلے سیشن سے 8.68 فیصد زیادہ)، مالیت 18.2 ارب روپے رہی۔ مگر یہ سرگرمی خریداری کی نہیں، فروخت کی تھی — 311 کمپنیاں گریں، صرف 136 بڑھیں، 48 بے تحرک رہیں۔ مارکیٹ کی مجموعی کیپٹلائزیشن میں ایک ہی دن میں 159 ارب روپے کی کمی آئی۔ پرویز احمد کمپنی 32.7 ملین حصص کے ساتھ والیوم میں سب سے آگے رہی۔ یہ اعداد اس پہلے کے اتار چڑھاؤ سے مختلف نہیں، مگر ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ میں بیان کردہ معاشی استحکام کی تصویر سے ضرور متصادم ہیں۔
پیر کا دن دو سوالوں کا جواب دے گا: شرح سود کتنی بڑھتی ہے، اور تیل کی قیمت کس رخ جاتی ہے۔ ان دونوں جوابوں کے بغیر اگلے ہفتے کی مارکیٹ کا نقشہ کھینچنا قیاس آرائی کے سوا کچھ نہیں — اور یہی وجہ ہے کہ جمعے کو خریدار کنارے پر کھڑے تماشا دیکھتے رہے۔

قارئین کے تبصرے (0)