اہم نکات
- پاکستان میں اب پٹرول کی قیمت روزانہ بدلتی ہے — پندرہ دن والا پرانا نظام ختم۔ آج (15 اکتوبر) سے پٹرول 393.86 روپے فی لیٹر (1.20 روپے اضافہ)، ڈیزل 396.65 روپے۔
- وجہ: سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تیل تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ، آبنائے ہرمز میں 24 گھنٹوں میں دو جہاز ڈوبے، برینٹ 104 سے 106 ڈالر کے درمیان جھول رہا ہے۔
- سیدھا اثر: عالمی قیمت میں ہر اچھل کود اگلی صبح آپ کے پٹرول پمپ پر نظر آتی ہے۔ کل کا 1.20 روپے اضافہ جنگی خدشات کا براہ راست نتیجہ ہے۔
سعودی عرب کی کابینہ نے منگل کو خبردار کیا تھا: “مملکت اپنی سلامتی یا بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کی آزادی کے لیے کسی خطرے کی اجازت نہیں دے گی۔” چوبیس گھنٹے بھی نہ گزرے تھے کہ یہ وارننگ میدان میں اتر آئی — اتحادی طیاروں نے صنعا میں یمن پیٹرولیم کمپنی سمیت دھمار اور صعدہ میں تیل تنصیبات کو نشانہ بنایا، اور جواب میں حوثیوں نے دھہران میں آرامکو کے ہیڈکوارٹر کی انتظامی عمارت پر حملہ کر دیا، جہاں محدود آگ لگی۔
بدھ کی رات ریاض کی فضا میں میزائل کا ملبہ گرا اور چار افراد زخمی ہوئے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں اور تیل تنصیبات پر حملے جاری رہیں گے۔ یہ اب بیانات کی جنگ نہیں رہی — یہ تیل کی جنگ ہے، اور اس کے شعلے آپ کے پٹرول پمپ تک پہنچ رہے ہیں۔
سب سے خطرناک محاذ آبنائے ہرمز ہے۔ صرف چوبیس گھنٹوں میں دو جہاز ڈوب گئے — کنٹینر جہاز جی ایف ایس پرائیڈ اور ایک بلک کیریئر، دونوں پر میزائل یا پروجیکٹائل لگے۔ ایران کا کہنا ہے کہ وہ جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے “نئے حربے” استعمال کر رہا ہے تاکہ تیل کی قیمتیں اونچی رہیں۔ دنیا کا تقریباً پانچواں حصہ تیل اسی تنگ آبی گزرگاہ سے نکلتا ہے؛ یہاں ایک بھی جہاز ڈوبے تو انشورنس، کرایہ اور خام تیل — تینوں کی قیمتیں ایک ساتھ چھلانگ لگاتی ہیں۔
اور قیمتیں چھلانگ لگا بھی رہی ہیں۔ برینٹ کروڈ 106.29 ڈالر کو چھو کر اب تقریباً 104.67 ڈالر پر ہے، مگر اتار چڑھاؤ تھما نہیں۔ ڈبلیو ٹی آئی 94 ڈالر کے آس پاس ہے۔ مارکیٹ کی زبان میں اسے اچانک اوپر نیچے ہونے والی قیمت کہتے ہیں — اور ہر جھٹکا پاکستان کے لیے مہنگا پڑتا ہے۔
یہاں ایک بات سمجھ لیں جو بہت سے لوگ ابھی تک نہیں جانتے: پاکستان میں پٹرول کی قیمت اب روزانہ طے ہوتی ہے۔ پندرہ دن بعد نوٹیفکیشن والا زمانہ گیا۔ اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن ہر صبح نئی قیمت جاری کرتے ہیں، جو عالمی Platts قیمتوں، پریمیم اور دیگر اخراجات سے جڑی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب سیدھا ہے — برینٹ میں آج جو ہوگا، کل صبح وہ آپ کے پمپ پر ہوگا۔
ثبوت آپ کے سامنے ہے۔ 14 اکتوبر کو پٹرول 2.71 روپے سستا ہوا تھا — 392.66 روپے فی لیٹر۔ صرف ایک دن بعد، 15 اکتوبر سے قیمت 393.86 روپے ہو گئی — 1.20 روپے کا اضافہ۔ ڈیزل 17 پیسے سستا ہو کر 396.65 روپے پر آیا۔ یہ 1.20 روپے کا اضافہ کسی ٹیکس کی وجہ سے نہیں — یہ جنگی خدشات کی قیمت ہے، جو برینٹ کی اچھل کود سے سیدھی آپ کی ٹینکی میں اتری ہے۔
ڈیزل کی کہانی اور بھی سنجیدہ ہے۔ ڈیزل ٹرکوں، بسوں اور ٹریکٹروں کا ایندھن ہے — اس کی قیمت بڑھے تو کرایے بڑھتے ہیں، کرایے بڑھیں تو سبزی، دالیں اور ہر سامان مہنگا ہوتا ہے۔ اسی لیے ماہرین ڈیزل کو “مہنگائی کا انجن” کہتے ہیں۔ ابھی ڈیزل 17 پیسے سستا ہوا ہے، لیکن اگر ہرمز میں حملے جاری رہے تو یہ ریلیف زیادہ دن نہیں ٹکے گا۔
پاکستان کا اس جنگ سے رشتہ صرف تیل کا نہیں۔ لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں کام کرتے ہیں — ان کے گھر والوں کی روٹی اسی تنخواہ سے چلتی ہے۔ پی آئی اے کی ریاض کی پروازیں پہلے ہی متاثر ہیں۔ اگر کشیدگی بڑھی تو یہ دباؤ تیل سے نکل کر روزگار اور ترسیلات تک پھیل سکتا ہے۔
تو آگے کیا دیکھنا ہے؟ تین چیزیں۔ پہلی: آبنائے ہرمز — اگر وہاں مزید جہاز نشانہ بنے تو کرایہ اور خام تیل دونوں اوپر جائیں گے۔ دوسری: برینٹ کا 106 ڈالر سے اوپر ٹکنا — یہ نفسیاتی حد ٹوٹی تو مارکیٹ میں خوف بیٹھ جائے گا۔ تیسری: روزانہ کی قیمت — اب ہر صبح اوگرا کی ویب سائٹ پر نئی قیمت چیک کرنا عادت بنا لیں، کیونکہ جنگ کے دنوں میں کل کی قیمت آج کی ضمانت نہیں۔
آبنائے ہرمز میں جی ایف ایس پرائیڈ کے ڈوبنے کی مکمل تفصیل یہاں پڑھیں

قارئین کے تبصرے (0)