ریاض: اتوار کی صبح سعودی عرب کے فضائی دفاع نے دارالحکومت ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور دو ڈرون تباہ کر دیے، جبکہ جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی طرف داغا گیا ایک کروز میزائل بھی ناکام بنا دیا گیا۔ سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیانات میں دونوں کارروائیوں کی تصدیق کی۔
المالکی کے مطابق، “خمیس مشیط کی طرف حوثی ملیشیا کی جانب سے داغا گیا ایک کروز میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا۔” اس سے پہلے انہوں نے بتایا تھا کہ ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل بھی فضائی دفاع نے تباہ کیا، اور دارالحکومت کے اوپر دو ڈرون بھی مار گرائے گئے۔
ریاض میں صبح کے وقت رہائشیوں کو “فضائی خطرے” کے الرٹ موصول ہوئے جن میں محفوظ مقام پر رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے شہر میں تین دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ بعد میں سعودی سول ڈیفنس نے اعلان کیا کہ ریاض میں خطرہ ختم ہو گیا ہے، اور شہریوں سے ہدایات پر عمل کرنے اور جمع ہونے یا فلم بندی سے گریز کی اپیل کی۔ ابہا شہر اور خمیس مشیط گورنریٹ میں بھی صبح کے وقت وارننگ جاری کی گئی — خمیس مشیط کے لیے یہ صبح کی دوسری وارننگ تھی۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اتوار کو ٹرمینلز 1 اور 2 پر پروازیں بحال کر دیں، اور مسافروں کو روانگی سے پہلے اپنی ایئرلائن سے تصدیق کی ہدایت کی۔ ایئرپورٹ حالیہ دنوں میں حوثی حملوں کے باعث بار بار متاثر ہوا ہے؛ ہفتے کو روکے گئے میزائلوں کا ملبہ مکہ، جدہ، طائف اور رابغ میں گرا تھا۔
یہ حملے اس سلسلے کی تازہ کڑی ہیں جو اکتوبر کے آغاز سے جاری ہے۔ 21 اکتوبر کی شام دمام کے کنگ فہد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے تھے، اور گزشتہ روز مکہ اور جدہ سمیت چار شہروں میں فضائی خطرے کے الرٹ جاری ہوئے تھے۔ ہفتے کو یمن کے جنوبی بندرگاہی شہر عدن میں کوسٹ گارڈ تنصیبات بھی حوثی میزائلوں کا نشانہ بنی تھیں۔
پس منظر: فروری سے جاری امریکہ اسرائیل ایران جنگ کے بعد سے خطے میں کشیدگی مسلسل بلند ہے، اور اکتوبر میں حوثیوں نے سعودی شہروں پر حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ 10 اکتوبر کو کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں 12 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اتحاد نے یمن میں حوثی ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
پاکستان کے لیے اس پیش رفت کی براہ راست اہمیت ہے۔ سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، جن میں بڑی تعداد ریاض اور مشرقی صوبے میں ہے، اور عمرہ زائرین کی آمدورفت بھی ان ہوائی اڈوں سے جڑی ہے۔ ساتھ ہی مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس کا اثر پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔
تجزیہ: ایک ہی صبح دارالحکومت اور جنوب مغربی شہر کا بیک وقت نشانہ بننا اس بات کی علامت ہے کہ حوثی حملوں کا دائرہ کسی ایک شہر تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ سعودی عرب کے مختلف خطوں کو بیک وقت دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، تمام میزائلوں کا روکا جانا اور ایئرپورٹ کا جلد بحال ہونا یہ بھی دکھاتا ہے کہ سعودی فضائی دفاع اور انتظامیہ معمول کی زندگی جلد بحال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ اصل سوال اب یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ یہیں تھمے گا، یا امریکہ ایران کشیدگی کے سائے میں اس میں مزید شدت آئے گی — اس کا جواب آنے والے دنوں کے واقعات دیں گے۔

قارئین کے تبصرے (0)