خطرناک ای کولی انفیکشن کے خلاف پہلی ویکسین بنانے کی امید کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ دی لانسیٹ انفیکشس ڈیزیزز میں شائع ہونے والے فیز تھری ٹرائل کے مکمل نتائج بتاتے ہیں کہ تجرباتی ویکسین نے خون میں مضبوط اینٹی باڈیز تو پیدا کیں، مگر بڑی عمر کے افراد کو خطرناک انفیکشن سے بچا نہ سکی۔
اس ٹرائل کا نام E.mbrace تھا۔ اس میں 30 جون 2021 سے 13 فروری 2025 کے درمیان 17,701 افراد کو ویکسین یا پلیسبو دیا گیا — 8,858 کو ویکسین ExPEC9V اور 8,843 کو پلیسبو۔ یہ ویکسین ای کولی کی نو اقسام کو نشانہ بناتی تھی، جو بزرگوں میں خون اور دیگر جراثیم سے پاک مقامات میں انفیکشن کی سب سے بڑی وجہ بنتی ہیں۔
نتائج واضح تھے۔ ویکسین کی اقسام سے ہونے والے انفیکشن کے صرف 24 کیسز سامنے آئے: ویکسین گروپ میں 11 اور پلیسبو گروپ میں 13۔ اس حساب سے ویکسین کی افادیت صرف 14.63 فیصد نکلی، جس کا اعتماد کا وقفہ منفی 106.57 سے 65.38 تک پھیلا ہوا تھا — یعنی اعداد و شمار کی زبان میں “کوئی تحفظ ثابت نہیں ہوا”۔
یہ ٹرائل دراصل فروری 2025 میں ہی روک دیا گیا تھا، جب ایک آزاد ڈیٹا مانیٹرنگ کمیٹی نے عبوری جائزے میں پایا کہ ویکسین کے مطلوبہ ہدف تک پہنچنے کا امکان نہیں ہے۔ اب شائع ہونے والے مکمل نتائج نے اس فیصلے کی تصدیق کر دی ہے، اور جانسن اینڈ جانسن اور سانوفی نے اس ویکسین کی تیاری بند کر دی ہے۔
یہ ناکامی اس لیے اہم ہے کہ ای کولی کا خطرہ معمولی نہیں۔ ایکسٹرا انٹسٹائنل ای کولی ہر سال تقریباً ایک کروڑ خطرناک انفیکشن کی وجہ بنتا ہے، اور بزرگوں میں سیپسس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اینٹی بائیوٹک مزاحمت نے علاج کو مزید مشکل کر دیا ہے — ایک کثیر ملکی تحقیق کے مطابق ای کولی کے خون کے نمونوں میں کم از کم 10 فیصد کثیر دوائی مزاحم ہیں۔
حفاظتی پہلو سے ویکسین قابل قبول رہی: ہلکے مضر اثرات ویکسین گروپ میں کچھ زیادہ ہوئے، لیکن سنگین مضر اثرات دونوں گروپوں میں متوازن رہے، اور ویکسین سے کوئی موت نہیں ہوئی۔
تجزیہ: یہ کہانی طب کی ایک پرانی غلط فہمی کو توڑتی ہے — کہ خون میں اینٹی باڈیز کی زیادہ تعداد کا مطلب تحفظ ہے۔ اس ٹرائل نے دکھایا کہ اینٹی باڈیز بننے کے باوجود بیکٹیریا جسم کے اندر اپنا راستہ بنا سکتا ہے۔ سائنس دانوں کے لیے یہ مایوسی کے ساتھ ایک قیمتی سبق بھی ہے: اب انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کون سی مدافعتی علامت واقعی تحفظ دیتی ہے، نہ کہ صرف خون کے ٹیسٹ میں کیا نظر آتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں پیشاب کی نالی کے انفیکشن اور سیپسس عام ہیں، اس سوال کا جواب براہ راست لاکھوں مریضوں سے جڑا ہوا ہے۔
ای کولی کی ویکسین کی دوڑ ابھی ختم نہیں ہوئی — لیکن اگلی کوشش کو اس ناکامی سے سیکھ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

قارئین کے تبصرے (0)