غزہ میں اتوار کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 8 فلسطینی ہلاک ہو گئے، جن میں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس میں مارے جانے والے 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ طبی ذرائع اور حماس کے زیر انتظام وزارت داخلہ نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔
طبی عملے کے مطابق غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں 3 افراد جان سے گئے۔ دوسرا حملہ خان یونس کے مغربی علاقے میں ہوا، جہاں وزارت داخلہ کے مطابق 5 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے۔ دونوں حملے ایک ہی دن میں، الگ الگ مقامات پر کیے گئے۔
اسرائیلی فوج نے خان یونس کے حملے پر مختصر بیان میں کہا کہ اس نے وہاں “کئی عسکریت پسندوں” کو نشانہ بنایا، تاہم اس نے مزید تفصیل نہیں دی۔ غزہ سٹی کے حملے پر فوج نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب اسرائیل کا کہنا ہے کہ حماس ایک سال پرانی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ مسلح ہو رہی ہے اور حملے کر رہی ہے، اور اسرائیلی کارروائیوں میں حالیہ ہفتوں میں تیزی آئی ہے۔ غزہ کے حکام ان حملوں کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے حکام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں اب تک 1500 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے میں اس کے 4 فوجی مارے گئے ہیں۔ ہفتے کو وزارت صحت نے گزشتہ 48 گھنٹوں میں 6 فلسطینیوں کی ہلاکت اور 26 کے زخمی ہونے کی خبر دی تھی — اتوار کے ایک دن میں 8 ہلاکتیں اس سلسلے میں ایک تیز جھٹکا ہیں۔
پولیس اہلکاروں کا نشانہ بننا اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ اہلکار غزہ کے اندرونی نظم و نسق اور شہری انتظامیہ کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی ہلاکت سے یہ سوال پھر اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ جنگ بندی کے دوران شہری اداروں کے اہلکاروں کو کس حد تک تحفظ حاصل ہے، اور آیا فریقین کی جانب سے “عسکریت پسند” اور “شہری اہلکار” کی تعریف میں فرق جنگ بندی کو مزید کمزور کر رہا ہے۔
جنگ بندی کے بعد سے ہلاکتوں کا سلسلہ رکا نہیں ہے، اور ہر نیا حملہ اس معاہدے کی ساکھ پر ایک اور ضرب لگاتا ہے۔ اگر یہ سلسلہ اسی رفتار سے جاری رہا تو جنگ بندی ایک رسمی اعلان سے زیادہ کچھ نہیں رہ جائے گی، اور غزہ کے عام شہریوں کے لیے روزمرہ کی زندگی پھر اسی خوف کے سائے میں گزرے گی جس سے نکلنے کی امید انہیں معاہدے سے بندھی تھی۔ اس صورتحال میں ثالثوں کے لیے بھی یہ سوال سنگین ہوتا جا رہا ہے کہ وہ فریقین کو معاہدے کی پاسداری پر کیسے مجبور کریں گے۔

قارئین کے تبصرے (0)