Sunday, 1 November 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

گورنر راج “ناگزیر” تھا، تاخیر سے زیادہ نقصان ہوتا: شہباز شریف کا خیبر پختونخوا پر دوٹوک موقف

پشاور یونیورسٹی کا پینوراما منظر

11 اکتوبر 2026: صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر کے گورنر راج لگا دیا۔ صوبائی حکومت معطل ہوئی اور انتظامی کنٹرول گورنر کے حوالے کر دیا گیا۔

14 سے 30 اکتوبر: پارلیمنٹ میں اس اقدام کی توثیق ہوئی، اپوزیشن نے اسے چیلنج کیا، اور نئی صوبائی انتظامیہ نے سابق حکومت کے دور کے محکموں کے ریکارڈ کی جانچ شروع کر دی۔ پی ٹی آئی کے سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی حراست میں رہے اور ان کے دور کے ترقیاتی فنڈز و ٹھیکوں کی تحقیقات کی خبریں سامنے آئیں۔

31 اکتوبر: وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کیا اور گورنر راج کا کھل کر دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ “ناگزیر حالات” میں کیا گیا، اور تاخیر سے صوبے کو مزید نقصان پہنچتا۔ انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹیوں نے 48 گھنٹے مذاکرات کیے، ایک مسودہ بھی تیار ہوا، لیکن منظوری نہ مل سکی — جس کے بعد فیصلہ کرنا پڑا۔

وزیراعظم نے اسی خطاب میں پی ٹی آئی کی صوبے میں 13 سالہ حکمرانی پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسپتالوں، یونیورسٹیوں، اسکولوں، ڈیموں اور سولر منصوبوں کے وعدے کہاں گئے، اور کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے تحت دہشت گردی کے خلاف ملنے والی رقوم کے باوجود سیف سٹی اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ میں بہتری نظر نہیں آئی۔ ان کے بقول دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان نے تقریباً 80 ہزار جانیں گنوائیں اور 150 سے 200 ارب ڈالر کا معاشی نقصان اٹھایا۔

اب وزیراعظم نے اپنی جماعت کے صوبائی ارکان کو ایک واضح ہدایت دی ہے: طویل مدتی منصوبے روک دو، اگلے چھ ماہ سے ایک سال تک صرف فوری ریلیف پر توجہ دو — قانون و نظم میں چھوٹی بہتری، ایک اسکول، اسپتالوں تک دوائیں۔ یہ حکمت عملی سیاسی طور پر سمجھ میں آتی ہے: گورنر راج کے تحت حکومت کو جلد نظر آنے والے نتائج چاہییں۔ لیکن سوال اپنی جگہ قائم ہے — کیا فوری ریلیف کے چھوٹے قدم صوبے کے بڑے ساختی مسائل، یعنی دہشت گردی، کمزور ادارے اور سیاسی تقسیم، کا جواب بن سکتے ہیں؟ پشاور ہائی کورٹ میں ایمرجنسی کے خلاف درخواستیں اور پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا احتجاج بتاتا ہے کہ یہ معاملہ ابھی عدالتوں اور ایوانوں میں بھی زندہ رہے گا۔ خیبر پختونخوا کی سیاست کا اگلا موڑ 10 نومبر کو عدالت کی سماعت اور اس کے بعد آنے والے فیصلوں سے طے ہوگا۔

مزید پس منظر: یہاں پڑھیں اور یہاں پڑھیں

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *