ممبئی — انٹرنیشنل انڈین فلم اکیڈمی (آئیفا) ایوارڈز 2026 کے فاتحین کا اعلان کر دیا گیا ہے، اور اس سال کی سب سے بڑی فاتح آدتیہ دھر کی فلم “دھرندھر” رہی۔ فلم نے بہترین فلم، بہترین ہدایت کاری، بہترین اداکار سمیت کئی اہم کیٹیگریز میں ایوارڈز اپنے نام کیے۔ فاتحین کا اعلان جمعے 30 اکتوبر کو آئیفا کے سرکاری سوشل میڈیا چینلز کے ذریعے کیا گیا، اور تقریب 22 اور 23 جنوری 2027 کو منعقد ہو گی۔
رنویر سنگھ کو “دھرندھر” میں مرکزی کردار پر بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔ سنجے دت اسی فلم پر بہترین معاون اداکار اور اکشے کھنہ بہترین منفی کردار قرار پائے۔ آدتیہ دھر نے بہترین ہدایت کاری کے ساتھ بہترین اصل کہانی، بہترین اسکرین پلے اور بہترین مکالمے کے ایوارڈز بھی جیتے — ایک ہی فلم ساز کے لیے پانچ بڑے اعزاز۔ بہترین فلم کا ایوارڈ جیوتی دیش پانڈے، آدتیہ دھر اور لوکیش دھر نے حاصل کیا۔
بہترین اداکارہ کا ایوارڈ انیت پڑا نے “سیارا” کے لیے جیتا۔ یہ ان کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے کیونکہ “سیارا” اس سال کی سب سے زیادہ زیر بحث فلموں میں سے ایک رہی ہے۔ موسیقی میں بھی “سیارا” کی چھاپ رہی: فہیم عبد اللہ اور شریا گھوشال بہترین پلے بیک گلوکار قرار پائے۔ ہما قریشی نے “جولی ایل ایل بی 3” پر بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ جیتا۔
تکنیکی شعبوں میں بھی “دھرندھر” آگے رہی۔ وکاش نولکھا نے بہترین سینماٹوگرافی، شیو کمار پانکر نے بہترین ایڈیٹنگ اور بشودیپ چٹرجی نے بہترین ساؤنڈ ڈیزائن کا ایوارڈ جیتا۔ “چھاوا” نے بہترین ساؤنڈ مکسنگ، بہترین بیک گراؤنڈ اسکور (اے آر رحمان) اور بہترین ویژول ایفیکٹس میں کامیابی حاصل کی۔ بہترین بین الاقوامی فلم کا ایوارڈ جیمز کیمرون کی “اوتار: فائر اینڈ ایش” کو ملا۔
ڈیجیٹل ایوارڈز میں آریان خان کی “دی بیڈز آف بالی وڈ” نے بہترین ویب سیریز اور بہترین ہدایت کاری کے ایوارڈز جیتے، جبکہ انیا سنگھ اور راگھو جویال معاون اداکاری میں کامیاب رہے۔ سانیہ ملہوترا نے “مسز” پر ڈیجیٹل کیٹیگری میں بہترین اداکارہ اور ابھیشیک بنرجی نے “اسٹولن” پر بہترین اداکار کا ایوارڈ حاصل کیا۔
اس سال کے آئیفا کی ایک خاص بات یہ ہے کہ فاتحین کا اعلان بغیر کسی بڑی جسمانی تقریب کے کیا گیا، اور اصل تقریب جنوری 2027 میں ابوظبی میں ہو گی۔ “دھرندھر” کی کامیابی محض ایوارڈز تک محدود نہیں — فلم کا پہلا حصہ دنیا بھر میں ایک ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کما چکا ہے۔ اس لیے یہ ایوارڈز باکس آفس کی کامیابی پر مہر کی حیثیت رکھتے ہیں، نہ کہ اس سے الگ کوئی فیصلہ۔ دوسری طرف، “سیارا” اور “چھاوا” کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ ناظرین نے اس سال صرف بڑے بجٹ کی فلموں کو نہیں، موسیقی اور کہانی والی فلموں کو بھی سراہا ہے۔ آئیفا 2027 میں یہ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ آیا “دھرندھر” کا دوسرا حصہ اسی رفتار کو برقرار رکھتا ہے یا نئی فلمیں اس کی جگہ لیتی ہیں۔
متعلقہ خبریں: نانا پاٹیکر کا انتقال اور در نجات کا ریکارڈ۔

قارئین کے تبصرے (0)