Saturday, 31 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

شہباز شریف نے ایل پی جی اصلاحات کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی بنا دی، سلنڈر کی قیمت 7 ہزار سے اوپر جانے پر ہلچل

ایل پی جی گیس سلنڈروں کا ڈھیر

اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے شعبے میں مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے آٹھ رکنی وزارتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ کمیٹی کو ایک ماہ میں اپنی سفارشات پیش کرنا ہوں گی، اور اس دوران قیمتوں کے تعین، سلنڈر کے معیار اور مقامی گیس کی تقسیم کا پورا نظام زیر غور آئے گا۔

پیٹرولیم ڈویژن کی تجاویز کے مطابق سرکاری ادارے اب ایل پی جی کی درآمد میں براہ راست حصہ لیں گے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل، سوئی گیس کمپنیاں، پاک عرب ریفائنری اور پاکستان ایل این جی جیسے ادارے سعودی آرامکو کے نرخوں سے منسلک درآمدی قیمت کے فارمولے پر ماہانہ نرخ طے کریں گے۔ اس منصوبے میں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے ماہانہ نرخ جاری کرنے کا اختیار واپس لینے کی تجویز بھی شامل ہے۔

کمیٹی کی سربراہی وفاقی وزیر پیٹرولیم کریں گے۔ اس میں اقتصادی امور اور اطلاعات کے وزرا، وزیراعظم کے مشیر برائے بین الصوبائی رابطہ، معاون خصوصی برائے توانائی، سیکریٹری پیٹرولیم، ڈائریکٹر جنرل مائع گیسز اور گورنمنٹ ریلیشنز یونٹ کے سربراہ شامل ہیں۔

اس فیصلے کا پس منظر بازار کی وہ صورت حال ہے جس نے عام گھروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ سرکاری نرخ کے مطابق 11.57 کلوگرام کا گھریلو سلنڈر تقریباً 3,296 روپے کا ہونا چاہیے، مگر بازار میں یہ 6,000 سے 7,200 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ ایران کی سرحد پر تجارت رکنے اور سمندری راستے سے رسد کم ہونے کو اس بحران کی بڑی وجہ بتایا جا رہا ہے۔

ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور ڈیلروں نے ان اصلاحات پر احتجاج کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا فریم ورک بناتے وقت صنعت سے مشاورت نہیں کی گئی۔ صنعت کے نمائندے یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ سرکاری اداروں کو ایل پی جی درآمد کا تجربہ کم ہے، اور صرف سعودی نرخوں کو بنیاد بنانا قیمت مزید بڑھا سکتا ہے کیونکہ نجی رسد کا بڑا حصہ ایران اور عمان سے آتا ہے۔

تجاویز میں ایک پروڈیوسر پرائس ڈیفرینشل فنڈ بھی شامل ہے۔ مقامی پیداوار کو سعودی نرخ سے منسلک قیمت ملے گی، اور درآمدی و مقامی قیمت کے فرق سے بننے والی رقم ایک مخصوص سرکاری کھاتے میں جائے گی جس کا آڈٹ آڈیٹر جنرل کرے گا۔ اس رقم سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مستحق صارفین کو ہدفی سبسڈی دینے کی بات بھی کی گئی ہے۔ مارکیٹنگ اور درآمدی کمپنیوں کا مارجن 35,000 روپے فی ٹن سے بڑھا کر کم از کم 50,000 روپے فی ٹن کرنے کی تجویز ہے۔

یہ معاملہ صرف ایک کمیٹی کی تشکیل تک محدود نہیں۔ پاکستان میں ایل پی جی ان لاکھوں گھروں کا ایندھن ہے جہاں پائپ لائن گیس نہیں پہنچتی، اور سردیوں میں اس کی طلب مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر نیا نظام رسد بحال کر کے بازار اور سرکاری نرخ کا فرق کم کر دے تو یہ عام صارف کے لیے حقیقی ریلیف ہو گا۔ لیکن اگر سرکاری ادارے درآمد میں تاخیر یا مہنگے سودوں کا شکار ہوئے تو قیمت کا بوجھ پھر صارف ہی اٹھائے گا۔ اس لیے کمیٹی کی ایک ماہ کی رپورٹ سے زیادہ اہم یہ ہو گا کہ اس کی سفارشات پر کتنی جلدی اور کتنی شفافیت سے عمل ہوتا ہے۔

اگلے چند ہفتوں میں دو چیزیں دیکھنے والی ہوں گی: پہلی، کمیٹی صنعت کی مشاورت کو سنجیدگی سے لیتی ہے یا نہیں، اور دوسری، سردیوں سے پہلے رسد کی بحالی کے لیے کوئی فوری قدم اٹھایا جاتا ہے یا نہیں۔ صارف کے لیے اصل خبر کمیٹی کا اعلان نہیں، اس کے بعد آنے والا نرخ ہو گا۔

متعلقہ خبریں: پٹرول کی قیمتوں کا روزانہ نظام کیسے کام کرتا ہے اور پٹرول سستا، ڈیزل مہنگا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *