Saturday, 31 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

مغربی صحارا کا امن مشن معطل ہونے کے دہانے پر: سلامتی کونسل میں امریکا اور روس نے ایک دوسرے کی قراردادیں ویٹو کر دیں

نیویارک میں اقوام متحدہ کا صدر دفتر

اہم نکات: سلامتی کونسل نے جمعے 30 اکتوبر کو مغربی صحارا کے امن مشن کی تجدید کی دونوں قراردادیں مسترد کر دیں۔ امریکی مسودے کو روس نے ویٹو کیا، روسی مسودہ مطلوبہ ووٹ نہ لے سکا۔ مشن کا مینڈیٹ ہفتے 31 اکتوبر کو ختم ہو رہا ہے۔ تنازع کا مرکز مراکش کا خودمختاری منصوبہ ہے جسے امریکا مذاکرات کی واحد بنیاد بنانا چاہتا تھا۔

نیویارک — اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعے کو مغربی صحارا کے معاملے پر غیر معمولی ٹکراؤ دیکھنے میں آیا۔ امریکا اور روس نے ایک دوسرے کی قراردادیں ناکام بنا دیں، جس کے بعد دہائیوں سے باقاعدگی سے تجدید پانے والا امن مشن بغیر کسی نئے مینڈیٹ کے رہ گیا ہے۔

امریکی مسودے میں مشن کی مدت ایک سال بڑھانے کے ساتھ دو بڑی تبدیلیاں تجویز کی گئی تھیں۔ پہلی، مراکش کے خودمختاری منصوبے کو مذاکرات کی واحد بنیاد قرار دینا، اور دوسری، مشن کے نام سے “ریفرنڈم” کا لفظ ہٹا کر اسے “اقوام متحدہ مشن برائے مغربی صحارا” (منوسو) کہنا۔ اس کے ساتھ مشن کے عسکری حصے کو کم کرنے اور مہاجرین کی مردم شماری کی تجویز بھی تھی۔ ووٹنگ میں 11 ارکان نے حمایت کی، روس نے مخالفت میں ووٹ دیا، اور چین، پاکستان اور صومالیہ نے رائے شماری سے گریز کیا۔ روس کے ویٹو نے قرارداد روک دی۔

اس کے بعد روس نے اپنا مسودہ پیش کیا جس میں مشن کی مدت بغیر کسی تبدیلی کے ایک سال بڑھائی جانی تھی۔ اسے صرف تین ووٹ ملے، 11 ارکان نے رائے شماری سے گریز کیا، اور امریکا نے مخالفت کی۔ یوں دوسرا مسودہ بھی منظور نہ ہو سکا۔

مغربی صحارا کا تنازع نصف صدی پرانا ہے۔ اس علاقے کا بڑا حصہ مراکش کے زیر انتظام ہے، جبکہ الجزائر کی حمایت یافتہ پولیساریو فرنٹ آزاد ریاست کا مطالبہ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کا مشن منروسو 1991 سے وہاں موجود ہے، اور اس کا اصل مقصد استصواب رائے کی تیاری تھی۔ وہ ریفرنڈم آج تک نہیں ہو سکا کیونکہ ووٹرز کی اہلیت پر اتفاق نہ ہو سکا۔ امریکی سفیر مائیکل والٹز نے ووٹنگ کے بعد یہی نکتہ اٹھایا کہ ایسے مشن کا نام برقرار نہیں رکھا جا سکتا جس کی بنیادی وجہ ہی عملی نہ رہی ہو۔ روس کے سفیر واسلی نیبنزیا نے جواب میں کہا کہ حتمی حل دونوں فریقوں کو قابل قبول ہونا چاہیے، اور یک طرفہ حل مسلط کرنا تعطل کی طرف لے جائے گا۔

مشن کے پاس 155 عسکری اہلکار ہیں اور اس کا سالانہ بجٹ تقریباً 62 ملین ڈالر ہے۔ مینڈیٹ ختم ہونے کا مطلب فوری طور پر یہ نہیں کہ اہلکار راتوں رات واپس بلائے جائیں گے، لیکن قانونی بنیاد کے بغیر مشن کی کارروائیاں غیر یقینی ہو جاتی ہیں۔ مراکش کے شاہی محل نے مشن کی تجدید نہ ہونے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے اہلکاروں اور ساز و سامان کو آنے والے دنوں میں علاقہ چھوڑ دینا چاہیے۔ پولیساریو فرنٹ کے نمائندے نے امریکی مسودے کے ناکام ہونے پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔

اس فیصلے کی اہمیت صرف مغربی صحارا تک محدود نہیں۔ سلامتی کونسل میں دو مستقل ارکان کا ایک ہی دن ایک دوسرے کے مسودے روکنا یہ بتاتا ہے کہ بڑی طاقتوں کے درمیان پرانے تنازعات پر بھی اب اتفاق کی گنجائش سکڑ رہی ہے۔ اگر کونسل نے آخری لمحات میں کوئی مختصر توسیع نہ کی تو ایک ایسا مشن ختم ہو جائے گا جو تین دہائیوں سے جنگ بندی کی نگرانی کی علامت تھا۔ اس خلا میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ حقیقی ہے، اور اس کا بوجھ سب سے زیادہ عام صحراوی خاندان اٹھائیں گے جن کی روزمرہ زندگی پہلے ہی غیر یقینی ہے۔

متعلقہ خبریں: روس نے یوکرین امن مذاکرات سے یورپ کو باہر رکھنے کا اعلان کر دیا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *