جرمنی میں آج نوجوان سڑکوں پر نکل رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق ملک کے 34 شہروں میں ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد افراد مظاہروں میں شریک ہوں گے — یہ اس نوجوان تحریک کا تازہ ترین پڑاؤ ہے جو اس سال یورپ بھر میں پھیلتی جا رہی ہے۔
مظاہروں کی قیادت “جنریشن زی ریگلٹ” یعنی “جنریشن زی سنبھالے گی” کے نام سے ایک مہم کر رہی ہے۔ اس کے مطالبات سیدھے اور ٹھوس ہیں: تعلیم میں زیادہ سرمایہ کاری، بڑھتے ہوئے اخراجات سے ریلیف، اور لازمی فوجی سروس کی مخالفت۔ برلن، فرینکفرٹ اور میونخ سمیت 34 شہروں میں ریلیاں طے ہیں۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے خدشات کا جواب صرف مزید کٹوتیوں اور نئے بوجھ سے دیا ہے۔ میونخ کی ریلی میں خطاب کرنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے کہا کہ نوجوان اپنے اجتماع کے بنیادی حق کو اس وقت تک استعمال کرتے رہیں گے جب تک انہیں نظر انداز کرنا بند نہیں کیا جاتا۔
شکایات صرف نعرے نہیں، روزمرہ کی حقیقت ہیں۔ برلن کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے ایک طالب علم نے بتایا کہ وہ اس لیے مارچ میں شریک ہو رہا ہے کیونکہ اس کے کیمپس کی عمارتیں خستہ حال ہیں — لیکچر رومز کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے کوئی ویران عمارت ہو، حالانکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں انہیں روز پڑھنا ہوتا ہے۔
جرمنی اس لہر کا پہلا پڑاؤ نہیں۔ سربیا میں طلبہ تحریک نے ملک کے دیرینہ حکمران کو انتخابی میدان میں شکست دینے میں کردار ادا کیا۔ فرانس میں نوجوانوں اور مزدوروں کے مظاہرے بار بار فسادات اور لوٹ مار میں بدل چکے ہیں۔ اور البانیہ میں “فلیمنگو تحریک” کے نام سے طلبہ کئی روز سے ترانہ کی سڑکوں پر ہیں۔
فرانس کی مثال ہی وہ چیز ہے جس سے جرمن حکام بچنا چاہتے ہیں۔ حکام کو توقع ہے کہ آج کے مظاہرے زیادہ تر پرامن رہیں گے، لیکن انہوں نے خبردار کیا ہے کہ انتہا پسند گروپ اس تحریک کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ وفاقی وزارت داخلہ کے مطابق انتہائی بائیں بازو کے بعض گروپ اور غیر ملکی انتہا پسند تحریکوں سے منسلک کچھ گروپ اس مہم کی حمایت کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔
اس خدشے کے اثرات برلن میں نظر بھی آ رہے ہیں۔ دارالحکومت کی مشہور شاپنگ سڑک کورفرسٹنڈیم پر بعض دکانوں نے کھڑکیوں پر تختے لگا دیے ہیں اور جلد بند ہونے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست ہیسے کے وزیر داخلہ رومن پوزیک نے کہا کہ فرانس کی تصاویر — لوٹ مار، جلتے گھر اور گاڑیاں، پولیس پر حملے — سب کے ذہنوں میں ہیں، اور فرانس کو مثال نہیں بنایا جانا چاہیے۔
لیکن یہ مہم اتنی سادہ بھی نہیں جتنی اس کا نام لگتی ہے۔ اس میں شامل سیاسی و سماجی گروپوں کی وسیع آمیزش کے باعث یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اصل میں اسے کون چلا رہا ہے اور کیا یہ واقعی نوجوانوں کی تحریک ہے۔ جرمنی کی قومی طلبہ تنظیم بی ایس کے نے خود کو “جنریشن زی ریگلٹ” سے الگ کر لیا ہے، تاہم اس نے طلبہ کے خدشات کو جائز قرار دیا ہے — اور 20 نومبر کو اپنے علیحدہ احتجاجی دن کا اعلان کیا ہے۔
پس منظر بھی اس پیغام کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ جرمنی معاشی بحالی کی جدوجہد کر رہا ہے، جبکہ پنشن اور عوامی خدمات پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ بے بی بومر نسل ریٹائر ہو رہی ہے اور کام کرنے والی آبادی سکڑ رہی ہے۔ ایسے میں تعلیم کی فنڈنگ اور روزمرہ کے اخراجات نوجوان نسل کے لیے تجریدی موضوعات نہیں، ان کی روز کی زندگی کے مسائل ہیں۔
فرانس میں طلبہ کے احتجاج نے اکتوبر کے آغاز میں ہی اس لہر کی شدت دکھا دی تھی۔
اب سب کی نظریں آج کے مظاہروں پر ہیں۔ اگر بڑی تعداد میں پرامن شرکت ہوئی تو “جنریشن زی ریگلٹ” جرمن سیاست میں ایک ایسی قوت بن جائے گی جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ اور اگر کہیں بدنظمی ہوئی تو اس کے ناقدین کو وہی دلیل مل جائے گی جو وہ پورا ہفتہ دیتے آئے ہیں۔ بہرحال، آج کا ٹرن آؤٹ — اور 20 نومبر کے طلبہ احتجاج میں شرکت — وہ اعداد ہیں جن پر سب کی نظر رہے گی۔

قارئین کے تبصرے (0)