پاکستان اور سری لنکا کے درمیان ون ڈے ٹرائی سیریز کا فائنل ہفتے، 31 اکتوبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ میچ دوپہر ایک بجے شروع ہوگا اور ٹاس ساڑھے بارہ بجے ہوگا۔ پاکستان میں میچ پی ٹی وی اسپورٹس پر براہ راست دیکھا جا سکے گا، جبکہ ٹیپ میڈ اور پی سی بی لائیو پر اسٹریمنگ ہوگی۔ یہ فائنل اس لیے بھی خاص ہے کہ چار دن پہلے اسی میدان پر سری لنکا نے پاکستان کو صرف 110 رنز پر ڈھیر کر کے آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔
لیگ مرحلے میں پاکستان چار میچوں میں تین جیت کے ساتھ 6 پوائنٹس لے کر پہلے نمبر پر رہا، جبکہ سری لنکا دو جیت اور دو شکست کے ساتھ 4 پوائنٹس لے کر دوسرے نمبر پر رہا۔ انگلینڈ، جس نے آخری لیگ میچ میں سری لنکا کو 55 رنز سے ہرایا تھا، 2 پوائنٹس کے ساتھ باہر ہو گیا۔ سیریز کا آغاز 18 اکتوبر کو راولپنڈی سے ہوا تھا، جہاں پاکستان نے پہلا مقابلہ 37 رنز سے جیتا تھا۔ اس میچ میں سلمان علی آغا نے سنچری بنائی تھی۔ لیکن 27 اکتوبر کو لاہور میں کہانی الٹ گئی — پاکستان کی پوری ٹیم 25.3 اوورز میں 110 رنز پر ختم ہو گئی، اور سری لنکا نے ہدف آسانی سے دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔
اس فائنل میں تین مقابلے سب سے زیادہ اہم ہوں گے۔ پہلا، پاکستان کے اوپری بلے بازوں کا سری لنکا کے نئے گیند کے حملے کے سامنے امتحان — 27 اکتوبر کو دلشان مدوشنکا نے پاکستان کی بیٹنگ کو تہس نہس کر دیا تھا، اور اگر پاور پلے میں پھر تین وکٹیں گر گئیں تو فائنل بھی اسی راستے پر چل پڑے گا۔ دوسرا، سلمان علی آغا کی فارم — وہ اس سیریز میں پاکستان کے سب سے قابل اعتماد بلے باز رہے ہیں، اور فائنل میں ان کی ایک بڑی اننگز میزبان ٹیم کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ تیسرا، کپتان شاہین شاہ آفریدی کا نئی گیند سے حملہ — لاہور کی پچ پر ابتدائی وکٹیں سری لنکا کے مضبوط مڈل آرڈر کو دباؤ میں لا سکتی ہیں۔
پاکستان کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کی ٹیم نے اس ٹورنامنٹ میں ابھی اپنی بہترین کرکٹ نہیں کھیلی، حالانکہ اس نے پہلے تین میچ جیتے تھے۔ یہ بیان دراصل فائنل کی نفسیات بتاتا ہے: پاکستان کو یہ ثابت کرنا ہے کہ 110 والی اننگز ایک برا دن تھا، کوئی نئی عادت نہیں۔ دوسری طرف سری لنکا کو یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کی وہ جیت اتفاق نہیں تھی۔ گھر کے تماشائیوں کے سامنے، اپنے شہر میں، فائنل کا دباؤ دونوں ٹیموں پر برابر ہوگا — لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ فائنل میں وہی ٹیم جیتتی ہے جو پہلے دس اوورز میں گھبراہٹ پر قابو پا لے۔
حتمی الیون کا اعلان ٹاس کے وقت ہوگا۔ لیکن ایک بات طے ہے: جو ٹیم پہلے بیٹنگ کرے گی، اسے لاہور کی پچ پر ایک بڑا مجموعہ بنانا ہوگا، کیونکہ شام کی اوس دوسری اننگز میں گیند بازوں کے لیے حالات مشکل بنا سکتی ہے۔ ہفتے کی دوپہر قذافی اسٹیڈیم میں صرف ٹرافی کا فیصلہ نہیں ہوگا — یہ بھی طے ہوگا کہ 110 والی شکست کو پاکستان کی ٹیم نے سبق بنایا تھا یا بوجھ۔

قارئین کے تبصرے (0)