Friday, 30 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

روس نے یوکرین امن مذاکرات سے یورپ کو باہر رکھنے کا اعلان کر دیا، ابوظبی میں نومبر میں ملاقات متوقع

ماسکو میں کریملن محل شام کی روشنی میں

روس نے واضح کر دیا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے اگلے مذاکرات میں یورپی ممالک کو مدعو نہیں کیا جائے گا۔ کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے اس اعلان نے اس امید کو دھچکا پہنچایا ہے کہ نومبر میں ابوظبی میں ہونے والی ملاقات میں یورپ بھی شریک ہوگا۔ یہ مذاکرات آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے کے بعد روس، امریکہ اور یوکرین کے درمیان براہ راست بات چیت کی بحالی کی کوشش ہیں۔

ٹائم لائن: بات کہاں سے کہاں پہنچی

27 اکتوبر — زیلنسکی کی امید: یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ سہ فریقی مذاکرات نومبر کے پہلے ہفتے میں ہو سکتے ہیں، اور یہ بھی کہا کہ سلامتی کی ضمانتوں پر یورپ کے بغیر بات نہیں ہو سکتی۔

28 اکتوبر — پیوٹن کی فون کال: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور ناروے کے وزیر اعظم یونس گار اسٹورے سے 90 منٹ کی فون کال کی۔ اس کال کے بعد یورپی دارالحکومتوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ یورپ بھی ابوظبی کی میز پر ہوگا۔

28 اکتوبر — اوشاکوف کا دوٹوک جواب: اسی دن اوشاکوف نے روسی صحافیوں سے کہا کہ یورپی شرکت پر “اس وقت بالکل کوئی بات نہیں ہو رہی”۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ یورپی ممالک “اگر ٹکٹ خریدیں تو آ سکتے ہیں، لیکن مذاکرات کی میز پر بلانے کا کسی کا ارادہ نہیں ہے”۔

28 اکتوبر — زیلنسکی کی تاریخ: ہیگ میں پریس کانفرنس میں زیلنسکی نے کہا کہ مذاکرات 6 سے 10 نومبر کے درمیان ابوظبی میں ہو سکتے ہیں، اور امریکہ 4 نومبر کے قریب تاریخ کی تصدیق کر سکتا ہے۔

4 نومبر کے بعد — ممکنہ ملاقات: اوشاکوف کے مطابق ملاقات 4 نومبر کے بعد ہو سکتی ہے، لیکن حتمی تاریخ کا انحصار “میدان جنگ کی صورتحال اور مجموعی حالات” پر ہوگا۔ روسی وفد کی حتمی تشکیل بھی ابھی طے نہیں ہوئی، اگرچہ بنیادی گروپ موجود ہے۔

اس سارے معاملے میں سب سے دلچسپ تضاد یہ ہے کہ فون کال کے بعد فن لینڈ کے صدر اسٹب نے کہا تھا کہ یورپ نومبر کی ملاقات میں شامل ہوگا، جبکہ اوشاکوف نے اس کی تردید کر دی۔ یوکرین بھی یورپ کی شرکت چاہتا ہے، کیونکہ کییف کا موقف ہے کہ سلامتی کی ضمانتیں یورپ کے بغیر طے نہیں ہو سکتیں۔ یورپی ممالک اس سے پہلے تینوں سہ فریقی مذاکرات سے باہر رکھے جا چکے ہیں، اور اب وہ براہ راست شرکت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ماسکو کا موقف یہ ہے کہ یوکرین کو مالی اور عسکری مدد دینے والے یورپی ممالک اس تنازع کا فریق بن چکے ہیں، اس لیے وہ ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتے۔ دوسری طرف یورپ کا کہنا ہے کہ یوکرین کی سلامتی کا دارومدار انہی ضمانتوں پر ہے جو یورپی ممالک دیں گے، اور ان کے بغیر کوئی معاہدہ پائیدار نہیں ہوگا۔

ایجنڈے کے بارے میں جو کچھ سامنے آیا ہے، اس کے مطابق مذاکرات میں توانائی اور سمندری جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے، اور روس لے جائے گئے یوکرینی بچوں کی واپسی جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن یوکرینی حکام خود بھی کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں رکھتے — ان کی امید صرف یہ ہے کہ باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو جائے۔

یہاں اصل سوال تاریخ کا نہیں، میز کی ساخت کا ہے۔ اگر ابوظبی میں معاہدہ ہو بھی جائے، تو کیا وہ معاہدہ اس وقت تک قائم رہ سکے گا جب اس کی ضمانت دینے والے یورپی ممالک میز پر موجود ہی نہیں تھے؟ یہی وہ سوال ہے جو نومبر کی ملاقات سے پہلے ہی اس کی کامیابی پر سوالیہ نشان لگا رہا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *