Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

فیصل قریشی اور حریم فاروق کا ‘مینگو جٹ’ کے خلاف مبینہ منفی مہم پر احتجاج

سینما ہال میں فلم دیکھتے تماشائی

اداکار فیصل قریشی اور حریم فاروق نے اپنی پنجابی فلم “مینگو جٹ” کے خلاف مبینہ پےڈ منفی مہم پر کھل کر احتجاج کیا ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ منظم انداز میں پھیلائی جانے والی منفی تشہیر نہ صرف ایک فلم کو نقصان پہنچاتی ہے بلکہ پاکستان کی پہلے سے مشکلات کا شکار فلم انڈسٹری کو بھی زک پہنچاتی ہے۔

فیصل قریشی نے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو میں سوال اٹھایا کہ کچھ لوگ فلم دیکھے بغیر ہی اس پر منفی تبصرے کیسے کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ ناقدین فلم دیکھنے کے بعد جمعہ، ہفتہ اور اتوار گزرنے کا انتظار کرتے ہیں، پھر تبصرہ کرتے ہیں — لیکن جب پےڈ مہم چل رہی ہو تو منفی تبصرے فلم کی ریلیز کے اگلے ہی دن سے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ ان کے اپنے الفاظ میں، “کیونکہ یہ ایک منفی چیز ہے جو انہیں کھلائی گئی ہے، آپ وہی بات دہرا رہے ہیں۔ لیکن سنجیدگی سے، اپنے فائدے پر توجہ دیتے ہوئے آپ کتنے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟”

حریم فاروق، جو اس فلم کی پروڈیوسر بھی ہیں اور اس میں اداکاری بھی کر رہی ہیں، نے انسٹاگرام پر ایسے اسکرین شاٹس شیئر کیے جن سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا فلم کے خلاف کچھ منفی پوسٹس کے لیے ادائیگی کی گئی تھی۔ ڈان امیجز کے مطابق فیصل قریشی نے اپنی ویڈیو میں فلم کا نام نہیں لیا تھا، لیکن ان کے تبصرے اس وقت سامنے آئے جب دونوں اداکاروں نے “مینگو جٹ” کے خلاف مبینہ پےڈ منفی تبصروں کا معاملہ اٹھایا تھا۔ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس منفی مہم کے باعث فلم کے سینما شوز متاثر ہو رہے ہیں۔

فیصل قریشی کا مؤقف واضح ہے: کسی فلم کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ صرف ناظرین کو کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر فلم پر ملے جلے تبصرے آتے ہیں، دنیا کی بڑی بڑی فلموں کو بھی بہت سے لوگ پسند نہیں کرتے، اور کئی عجیب فلمیں لوگوں کو بہت پسند آ جاتی ہیں۔ ذائقے کا اختلاف اور جان بوجھ کر بنائی گئی منفی مہم دو الگ چیزیں ہیں، اور ان میں فرق کرنا ضروری ہے۔ ان کا جملہ اب سوشل میڈیا پر گونج رہا ہے: “کسی بھی چیز کے خلاف پےڈ پروپیگنڈا انڈسٹری کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ہماری انڈسٹری پہلے ہی بہت چھوٹی ہے۔”

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستانی سینما پہلے ہی سکڑتے ہوئے ناظرین، محدود اسکرینوں اور بین الاقوامی مواد کے مقابلے سے لڑ رہا ہے۔ پاکستانی ڈراموں کی بیرون ملک پذیرائی یہ بتاتی ہے کہ مقامی کہانیوں میں دم ہے، لیکن جب ایک فلم کو ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہی منظم منفی مہم کا سامنا کرنا پڑے تو اس کا اثر صرف اس فلم تک محدود نہیں رہتا — پروڈیوسر اگلی فلم بنانے سے پہلے دو بار سوچتا ہے، اور سینما مالکان مقامی فلموں کو شوز دینے سے گھبرانے لگتے ہیں۔ الزامات کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے، لیکن بحث نے ایک پرانا سوال پھر زندہ کر دیا ہے: تنقید اور مہم میں فرق کون طے کرے گا؟

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *