Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

قطر کی ثالثی میں امریکہ ایران معاہدے کی کوشش، تہران نے مسودہ ناقابل قبول قرار دے دیا

دوحہ کی فلک بوس عمارتوں کا منظر

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں ایک نازک موڑ پر پہنچ گئی ہیں۔ قطر کی قیادت میں ثالثوں نے تہران کو ایک نیا مسودہ پیش کیا ہے، جس میں سات دن کے اندر اعتماد سازی کے اقدامات کا خاکہ دیا گیا ہے، لیکن ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے اسے ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔ مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار کے مطابق یہ مسودہ اتوار کو پیش کیا گیا تھا اور اس ہفتے کے آخر تک تہران کے جواب کی توقع ہے۔

خبر رساں ادارے ایکسیوس کی رپورٹ کے مطابق ثالث ایران پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو بمباری کا شکار جوہری تنصیبات تک رسائی دے، جس کے بدلے میں امریکہ کی جانب سے پابندیوں میں کچھ نرمی کی جائے۔ پاکستان، سعودی عرب، مصر اور ترکیہ بھی اس کوشش کی حمایت کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایکسیوس کو بتایا کہ ایران سے ثالثوں کے ذریعے بات چیت ہو رہی ہے، لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ کامیاب ہوگی یا نہیں۔ ان کے الفاظ میں، “ہمیں یہ کام مکمل کرنا ہے — یا تو معاہدے کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے۔”

دوسری طرف تہران کا لہجہ سخت ہے۔ مذاکرات میں شریک ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا کہ دوحہ نے صرف “ناقابل قبول خیالات پیش کیے ہیں، کوئی پیشکش نہیں کی” اور جوہری معاملے پر لچک نہ دکھانے کی پالیسی برقرار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا کہ تہران ثالثوں سے قریبی رابطے میں ہے اور اپنا سات روزہ منصوبہ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں نافذ کر سکتا ہے۔ یہ وہی منصوبہ ہے جسے ایران پہلے پیش کر چکا ہے، اور اب دونوں فریق اپنے اپنے سات روزہ خاکوں پر اصرار کر رہے ہیں۔

اس تعطل کی ایک پرت امریکی سیاست بھی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے صدر ٹرمپ کی ہدایت پر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی کو خط لکھا ہے، جس کا مقصد سفارتی بات چیت دوبارہ شروع کرنا اور ایک اور امریکی حملے کا امکان ٹالنا ہے۔ ٹرمپ نے بعد میں اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے وینس سے ایران سے رابطہ کرنے کو کہا تھا۔ یہ تضاد خود اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن میں بھی اس معاملے پر یکسوئی نہیں ہے۔

یہ جنگ اب آٹھ ماہ سے جاری ہے اور اس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیل چکے ہیں۔ عالمی جہاز رانی اور تیل کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، اور حالیہ ہفتوں میں لڑائی سعودی عرب اور یمن تک پھیل گئی تھی۔ اسی پس منظر میں خلیجی ممالک کو تیار رہنے کا امریکی پیغام بھی سامنے آیا تھا، اور تہران کا دوٹوک موقف پہلے بھی خبروں میں رہا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا سات دن کا فارمولا دونوں فریقوں کے بنیادی مطالبات کو پورا کر سکتا ہے۔ امریکہ جوہری تنصیبات کی جانچ چاہتا ہے، ایران پابندیوں میں نرمی اور اپنی جوہری پالیسی پر سمجھوتہ نہ کرنے کی ضمانت چاہتا ہے۔ ثالثوں کے پاس وقت کم ہے: ٹرمپ کئی ہفتوں سے بڑے پیمانے پر حملوں کی دھمکی دے رہے ہیں، اور ہر گزرتا دن اس خطرے کو بڑھاتا ہے کہ بات چیت کی جگہ دوبارہ بمباری لے لے۔ اگلے چند دنوں میں تہران کا باضابطہ جواب یہ طے کرے گا کہ یہ جنگ مذاکرات کی میز پر ختم ہوتی ہے یا میدان جنگ میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *