امریکا نے خلیج کے کئی عرب ممالک کو خبردار کر دیا ہے کہ وہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر مگر شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہیں۔ یہ انکشاف وال اسٹریٹ جرنل کی منگل کی رپورٹ میں ہوا ہے، جس میں ان گفتگوؤں سے آگاہ افراد کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ پیغامات سفارتی اور عسکری ذرائع سے پہنچائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ وارننگ اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے خلاف بھاری کارروائیوں کے ایک نئے دور کی تیاری کر رہے ہیں — مقصد تہران کو کمزور کر کے مذاکرات کی میز پر لانا ہے، مگر اس کے ساتھ خطے میں کشیدگی بھڑکنے کا خطرہ بھی جڑا ہے۔
فوجی تیاریوں میں ٹیکساس سے اسرائیل کو پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کا ایک اضافی بیٹری بھیجنا شامل ہے، جس کی تصدیق فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا اور دو عہدیداروں سے ہوئی ہے۔ امریکی فوجیوں کو ان اڈوں سے ہٹا لیا گیا ہے جہاں وہ ایرانی حملوں کی زد میں تھے، گولہ بارود کے ذخائر دوبارہ بھرے جا رہے ہیں، اور بمبار طیارے اور جنگی جیٹ تیاری کر رہے ہیں۔ اگلے ماہ تقریباً بیس جنگی جہازوں کے بیڑے میں ایک اضافی ایئرکرافٹ کیریئر اسٹرائیک گروپ اور ایک میرین یونٹ بھی شامل ہونے کو تیار ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں رپورٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا، لیکن وہ انتخابات کے بعد ایک بڑے حملے کی طرف مائل ہیں جو ایرانی انفراسٹرکچر اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ دوسرا راستہ معاہدے کی کوشش ہے، مگر علاقائی ثالثوں کی سفارتی کوششیں ابھی تک نتیجہ نہیں دے سکیں۔
وائٹ ہاؤس نے اس رپورٹ پر براہ راست تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ “حساس فوجی منصوبوں پر تبصرہ نہیں کرے گا”، البتہ “صدر ٹرمپ تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں تاکہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔”
ٹرمپ نے منگل کو ٹیکساس کے شہر لبک میں ایک ریلی میں کہا: “آپ چند ہفتوں میں ایران کو دیکھیں گے، اگر آپ کو اعتراض نہ ہو۔” اس سے پہلے وہ کہہ چکے ہیں کہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے وہ ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔
اسرائیل میں بھی اس رپورٹ کی گونج سنائی دی۔ منگل کی رات ایگزٹ پولز کے بعد وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو “ایران سے لاحق وجودی خطرے کو ختم کرنے کا ایک منفرد تاریخی موقع” ملا ہے۔ اسرائیل میں ووٹوں کی گنتی جاری ہے اور ابھی کسی بلاک کو 61 نشستوں کی اکثریت نہیں ملی۔
ایران کی طرف سے فوری ردعمل بھی آیا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو ایکس پر لکھا کہ خلیج میں اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی کسی بھی فوجی مہم جوئی کا “عالمی منڈیوں پر تباہ کن اثر” پڑے گا۔ ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن بار بار اپنے وعدوں سے مکرتا رہا ہے۔ عراقچی نے یہ بھی کہا کہ جنگ ہو یا نہ ہو، ایران کی پالیسیاں وہی رہیں گی۔
پس منظر یہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی، اور اب اپنے آٹھویں ماہ میں ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اکتوبر کے وسط تک اس جنگ کی لاگت 47.1 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جس کا تقریباً ساٹھ فیصد گولہ بارود پر خرچ ہوا۔ جون میں امن کی مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، لیکن آبنائے ہرمز سمیت کئی نکات پر اختلافات کے باعث وہ عمل ٹوٹ گیا۔ اقوام متحدہ کے جوہری ادارے کے سربراہ رافیل گروسی نے سلامتی کونسل میں بتایا کہ ایران نے تباہ شدہ جوہری تنصیبات کی مرمت کی کوئی کوشش نظر نہیں آئی۔
یہ خبر پاکستان اور خلیج میں رہنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے لیے براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ خلیجی ریاستیں پاکستان کی ترسیلات زر کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں، اور آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کی ایک بڑی مقدار گزرتی ہے — اس لیے وہاں کوئی بھی نئی جنگ تیل کی قیمتوں، فضائی سفر اور روزگار، تینوں کو ایک ساتھ ہلا سکتی ہے۔ دوسری طرف، یہ رپورٹ کسی اعلان کی خبر نہیں، بلکہ تیاری کی خبر ہے: ٹرمپ نے حتمی فیصلہ نہیں کیا، وائٹ ہاؤس نے نہ تصدیق کی ہے نہ تردید، اور 3 نومبر کے انتخابات تک سفارت کاری کے لیے وقت باقی ہے۔ یہی وہ کھڑکی ہے جس میں اگلے چند دنوں میں یا تو کوئی معاہدہ سامنے آئے گا، یا خطہ ایک اور تباہ کن دور کی طرف بڑھ جائے گا۔
مزید پڑھیں: ریاض حملے کے بعد ٹرمپ کا نیا موقف: امریکا حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ حملوں میں شامل ہو سکتا ہے اور اسرائیل انتخابات: ایگزٹ پولز میں کوئی فاتح نہیں، نیتن یاہو بلاک 50 اور حزب اختلاف 52 نشستوں پر

قارئین کے تبصرے (0)