Wednesday, 28 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

انگور اڈہ میں افغان فائرنگ سے ایک شہری شہید، پانچ زخمی — پاک فوج کا جوابی حملہ، کئی چیک پوسٹیں تباہ

پاکستان افغانستان سرحد کے پہاڑی علاقے کا منظر

جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں منگل کی رات افغان فورسز کی فائرنگ سے ایک شہری شہید اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کا نشانہ شہری آبادی بنی، جس کے بعد پاک فوج نے فوری اور بھرپور جوابی کارروائی کی اور افغان فورسز کی کئی چیک پوسٹیں تباہ کر دیں۔

ڈان، ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کی 28 اکتوبر کی رپورٹوں میں اس واقعے کی تفصیل ایک جیسی ہے: افغان جانب سے پاکستانی سرحدی چوکیوں اور رہائشی علاقوں پر اسنائپر، ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے بلااشتعال فائرنگ کی گئی۔ ایک مارٹر گولہ ایک گھر پر آ گرا، جس سے گھر میں موجود خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے اور ایک شہری جان سے گیا۔

خیبر پختونخوا کی مشیر اطلاعات سمر ہارون بلور نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ افغان طالبان ریجیم نے، ان کے الفاظ میں، ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔ ان کے بیان کے مطابق اس حملے سے مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے، کیونکہ شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔

پاک فوج نے حملے کا جواب چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے دیا، جس میں توپ خانے کا استعمال بھی شامل تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی متعدد سرحدی چوکیاں، مارٹر پوزیشنیں اور دفاعی بنکر نشانہ بنے، اور افغان اہلکار اپنی چوکیاں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ سرحدی علاقے پر پاکستانی فورسز کا مکمل کنٹرول برقرار ہے اور فوج ہائی الرٹ پر ہے۔

اس تصدیق شدہ واقعے کے علاوہ مجموعی جانی نقصان کے بارے میں مختلف میڈیا رپورٹوں میں مختلف اعداد سامنے آئے ہیں، جن کی کسی دوسرے آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ نیوز 18 کی ایک رپورٹ میں سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی جانب 13 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور اس کشیدگی کا آغاز پاکستانی پوزیشنوں پر طالبان کے حملے کے بعد ہوا۔ دوسری طرف اے بی پی لائیو کی رپورٹ میں ابتدائی اطلاعات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دو پاکستانی فوجی شہید اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دونوں دعوے ایک دوسرے سے بھی مختلف ہیں اور ڈان، ٹریبیون اور بزنس ریکارڈر کی تفصیلی رپورٹوں سے بھی میل نہیں کھاتے، اس لیے انہیں ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اس مضمون میں صرف وہ اعداد بطور حقیقت درج کیے گئے ہیں جن پر تینوں اخبارات متفق ہیں: ایک شہری شہید اور ایک خاندان کے پانچ افراد زخمی۔

انگور اڈہ پاک افغان سرحد پر ایک حساس اور اہم گزرگاہ ہے۔ یہ تجارتی راستہ بھی ہے اور دونوں جانب کے لوگوں کی آمد و رفت کا بڑا ذریعہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ہر جھڑپ کا اثر صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہتا، بازار بند ہوتے ہیں، آمد و رفت رک جاتی ہے اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی براہ راست متاثر ہوتی ہے۔

نیوز 18 کے ذرائع کے مطابق سرحدی کشیدگی اور گزرگاہوں کی بندش سے دوطرفہ تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس میں تقریباً 95 فیصد کمی آئی ہے۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوطرفہ تجارت 2024-25 میں 1.3 ارب ڈالر سے گر کر 2025-26 میں 358 ملین ڈالر رہ گئی تھی، اور پاکستان نے اکتوبر 2025 کی مہلک جھڑپوں کے بعد اپنی مرکزی سرحدی گزرگاہیں بند کر دی تھیں، جن میں طورخم، خرلاچی، غلام خان، انگور اڈہ اور چمن شامل ہیں۔ یہ تجارتی اعداد نیوز 18 کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دیے گئے ہیں، اس لیے انہیں اسی نسبت سے پڑھا جانا چاہیے۔

اسلام آباد کا موقف مسلسل یہی رہا ہے کہ افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان سمیت عسکریت پسند گروپوں کے حملے بند ہونے تک سرحدی پابندیاں برقرار رہیں گی۔ کابل اس الزام کی تردید کرتا رہا ہے۔ یہی بنیادی اختلاف ہے جو ہر سرحدی واقعے کو بڑے تصادم میں بدلنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایک گھر پر گرنے والا گولہ بھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نیا تناؤ پیدا کر دیتا ہے۔

اس واقعے کا سب سے تشویشناک پہلو شہری آبادی کا نشانہ بننا ہے۔ سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کا تبادلہ ایک فوجی معاملہ سمجھا جا سکتا ہے، لیکن جب گولہ کسی گھر پر گرے اور ایک خاندان کے پانچ افراد زخمی ہو جائیں تو معاملہ عام لوگوں کی جان و مال کا بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی سطح پر ردعمل شدید ہے، اور یہی نکتہ آنے والے دنوں میں دونوں جانب کے بیانات میں سب سے زیادہ دہرایا جائے گا۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ جھڑپ ایک رات کی کارروائی تک محدود رہے گی یا سرحد پر کشیدگی کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوگی۔ دونوں جانب کی فورسز الرٹ ہیں، تجارتی راستے بند ہیں اور سیاسی اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ایسے میں انگور اڈہ کے بازار کے دکاندار اور سرحد کے دونوں طرف بسنے والے خاندان ایک بار پھر اس انتظار میں ہیں کہ گولوں کی آواز کب تھمے گی اور ان کی زندگی کب معمول پر آئے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *