سوڈان کے جنوبی دارفور صوبے کے دارالحکومت نیالا کی ایک مصروف مارکیٹ پر پیر کی شام ہونے والے ڈرون حملے میں 100 سے زیادہ افراد ہلاک اور 113 زخمی ہو گئے۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمرجنسی لائرز نے اس حملے کی ذمہ داری سوڈانی فوج پر عائد کی ہے اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ایمرجنسی لائرز کے مطابق ڈرون نے نیالا کے دمایا محلے میں واقع تانقونگ مارکیٹ کو نشانہ بنایا۔ یہ وہ وقت تھا جب مارکیٹ میں خریداروں اور دکانداروں کی خاصی چہل پہل تھی۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ اس حملے نے شہریوں کی مارکیٹ کو اجتماعی قتل کی جگہ بنا دیا ہے اور یہ جاری جنگ کے دوران شہریوں کے مصائب میں مزید اضافہ ہے۔
ڈاکٹرز ود آؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے بتایا کہ نیالا ٹیچنگ اسپتال میں 36 لاشیں لائی گئیں جبکہ 150 سے زیادہ زخمیوں کا علاج کیا گیا۔ زخمیوں میں شریپنل لگنے، شدید جلنے اور دیگر سنگین زخموں کے مریض شامل تھے۔ کئی مریضوں کو ٹک ٹک اور گدھا گاڑیوں پر اسپتال پہنچایا گیا کیونکہ ایمبولینسوں کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ ایم ایس ایف کے مطابق ایک دوسرا ڈرون حملہ شہر کے ایک رہائشی محلے پر بھی ہوا۔
یہ واضح رہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں مختلف اعداد سامنے آئے ہیں۔ ایمرجنسی لائرز اور آر ایس ایف سے منسلک حکومت کے وزیر صحت نے 100 سے زیادہ ہلاکتوں کی بات کی ہے، جبکہ اسپتال میں موصول ہونے والی لاشوں کی تعداد 36 بتائی گئی ہے۔ آزاد ذرائع سے حتمی تعداد کی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی، اور یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی کی حالت نازک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
نیالا پیرا ملٹری فورس ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ اپریل 2023 سے سوڈانی فوج اور آر ایس ایف کے درمیان جاری جنگ نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں ڈرون حملوں میں تیزی آئی ہے اور دونوں فریقوں پر آبادی والے علاقوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں خرطوم کے قریب المارخیات بجلی گھر پر ہونے والے ایک اور حملے سے دارالحکومت کے بڑے حصے میں بجلی اور پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔
یہ حملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ سوڈان کی جنگ میں اب عام شہریوں کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں رہی — نہ بازار، نہ محلے، نہ اسپتالوں کے اطراف۔ جنگ کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے باوجود عالمی توجہ اس بحران سے ہٹتی جا رہی ہے، جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں افراد خوراک، علاج اور پناہ سے محروم ہیں۔ مارکیٹ جیسی روزمرہ کی جگہ پر اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سوڈان کا بحران محض فوجی محاذوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے جس کی قیمت عام شہری چکا رہے ہیں۔
سوڈانی فوج کی جانب سے اس حملے پر ابھی کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایمرجنسی لائرز نے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو سکے۔ خطے میں شہری آبادی پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے — اردن کے فضائی حملوں کے بعد شام نے نصیب کراسنگ بند کر دی تھی۔

قارئین کے تبصرے (0)