میلبورن — درمیانی عمر میں دماغی صحت کے خطرے کو کم کرنے کے لیے نرسوں کی زیر نگرانی ایک نیا پروگرام کامیاب ثابت ہوا ہے۔ آسٹریلیا کی موناش یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق جنرل پریکٹس کی نرسوں کے ذریعے چلائے جانے والے 12 ماہ کے پروگرام سے شرکاء کے ڈیمینشیا خطرے کے اسکور میں نمایاں بہتری آئی، جب کہ معمول کی دیکھ بھال حاصل کرنے والے گروپ میں یہ بہتری نہیں دیکھی گئی۔ یہ تحقیق ‘دی لانسیٹ ریجنل ہیلتھ — ویسٹرن پیسیفک’ میں شائع ہوئی ہے۔
اس تحقیق میں آسٹریلیا کے 31 جنرل پریکٹس مراکز سے 45 سے 65 سال کی عمر کے 403 سے زیادہ افراد شامل تھے، جن میں ڈیمینشیا کے قابل تبدیل خطرات موجود تھے۔ شرکاء کو ‘ہیپی مائنڈ’ نامی ایپ کے ذریعے ذاتی نوعیت کی رہنمائی، اہداف کا تعین اور پیشرفت کی نگرانی کی سہولت دی گئی، جب کہ نرسیں ان کی باقاعدہ رہنمائی کرتی رہیں۔
تحقیق کے سینئر مصنف ایسوسی ایٹ پروفیسر جانسن جارج کے مطابق دماغی صحت کی حکمت عملیوں کو بنیادی طبی دیکھ بھال میں شامل کرنا طویل مدتی کمیونٹی صحت کے لیے کلیدی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کو دماغی صحت کے لیے ذاتی نوعیت کا طبی معائنہ اور کوچنگ سمجھا جا سکتا ہے، جس میں نرس لوگوں کو ان شعبوں کی نشاندہی میں مدد کرتی ہے جہاں وہ بہتری لا سکتے ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ ڈیمینشیا کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا، مگر اس کے کئی عوامل — جیسے جسمانی سرگرمی کی کمی، تمباکو نوشی، زیادہ وزن، سماعت کی کمزوری اور سماجی تنہائی — قابل تبدیل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ درمیانی عمر میں مداخلت خاصی اہم سمجھی جاتی ہے، کیونکہ اس عمر میں طرز زندگی میں تبدیلیاں بعد کی زندگی میں دماغی صحت پر گہرا اثر ڈال سکتی ہیں۔
اس ماڈل کی خوبی اس کی سادگی ہے۔ یہ کسی مہنگے اسپتال یا ماہر مرکز پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ عام کلینک کی نرسوں اور ایک موبائل ایپ سے کام چلاتا ہے۔ اسی لیے پاکستان جیسے ملکوں کے لیے بھی یہ سوچنے کی بات ہے کہ بنیادی صحت کے مراکز میں اس طرح کی رہنمائی شامل کی جائے تو درمیانی عمر کے افراد کو دماغی صحت کے بارے میں عملی مدد مل سکتی ہے، بغیر کسی بڑے خرچ کے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر محمد ریحان سرور کے مطابق اگر مزید جائزے اس طریقے کی حمایت کرتے ہیں تو یہ درمیانی عمر کے افراد کو طرز زندگی میں تبدیلیاں لانے اور انہیں برقرار رکھنے کے لیے زیادہ منظم مدد فراہم کر سکتا ہے۔ یہ کوئی معجزاتی علاج نہیں، مگر دماغی صحت کی طرف ایک عملی قدم ضرور ہے۔
مزید پڑھیں: بچپن میں دوڑنے والے بچے جوانی میں ڈپریشن سے محفوظ؟ تیس سال پر محیط تحقیق کا نیا انکشاف اور پھیپھڑوں کے کینسر کی نئی دوا نے موت کا خطرہ 44 فیصد کم کر دیا، بڑا ٹرائل کامیاب

قارئین کے تبصرے (0)