اسلام آباد — پاکستان نے افغانستان کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی سرزمین پاکستان میں دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوتی رہی تو اسلام آباد مزید کارروائی کا حق رکھتا ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر طارق فضل چوہدری نے پیر 26 اکتوبر کو یہ انتباہ جاری کیا، جو پاک افغان کشیدگی میں تازہ ترین موڑ ہے۔
ریڈیو پاکستان کے حوالے سے جاری بیان میں وزیر نے کہا کہ کابل کو سرحد پار دراندازی ختم کرنا ہوگی۔ ان کے الفاظ میں، اگر افغان علاقہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہوتا ہے تو پاکستان تمام ضروری اقدامات کا حق رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان الزامات کا تبادلہ ایک بار پھر تیز ہو گیا ہے۔
اس انتباہ سے ایک دن پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں انسداد دہشت گردی آپریشن کے دوران دو فوجی اور چھ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے آپریشن میں حصہ لینے والی فورسز کو سراہا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی مصدقہ اطلاعات پر کی گئی، اور علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
اتوار 25 اکتوبر کو وزارت اطلاعات نے بھی ایکس پر ایک بیان میں کابل کے اس دعوے کو مسترد کر دیا تھا کہ اسلام آباد اپنی ناکامیوں کا الزام افغانستان پر ڈال رہا ہے۔ بیان میں ان الزامات کو “توجہ ہٹانے والا” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کابل دعوؤں کے بجائے قابل تصدیق کارروائی کرے۔ یہ بیان سابق امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کی 24 اکتوبر کی ایکس پوسٹ کے جواب میں آیا، جس میں انہوں نے بغیر ثبوت یا ذرائع بتائے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان افغانوں کو مسلح کر رہا ہے یا بھرتی کر رہا ہے۔
پس منظر میں دونوں جانب کے دیرینہ الزامات ہیں۔ پاکستان کا موقف ہے کہ کابل ٹی ٹی پی، بلوچستان لبریشن آرمی اور القاعدہ برصغیر کو پناہ دیتا ہے، جبکہ کابل اس کی تردید کرتا ہے۔ جنوری تا مارچ 2026 کی ایک امریکی رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی کی تعداد چار سے چھ ہزار کے درمیان بتائی گئی تھی۔ گزشتہ ماہ افغانستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی فورسز نے 28 جنگجو ہلاک اور 32 گرفتار کیے، جن میں پاکستان سے داخل ہونے والے داعش کے ارکان بھی شامل تھے۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ اسی روز تہران میں پاکستانی اور سعودی حکام کی ایرانی قیادت سے ملاقات بھی ہو رہی ہے، اور ایک ہفتے قبل گوادر کی گبد سرحد ایران سے تجارت کے لیے کھولی گئی تھی۔ خطے میں سفارتی سرگرمی اور سرحدی کشیدگی ایک ساتھ چل رہی ہیں، اور اسلام آباد کا پیغام بظاہر دونوں محاذوں پر ایک ہی ہے: بات چیت بھی، اور کارروائی کا آپشن بھی۔
26 اکتوبر کی وارننگ پر کابل کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ آنے والے دنوں میں یہی طے کرے گا کہ یہ بیان محض دباؤ کی حکمت عملی تھا یا سرحد پر کسی نئی کارروائی کی تمہید۔
مزید پڑھیں: آج تہران میں اہم ملاقات: فیلڈ مارشل عاصم منیر اور سعودی وزیر دفاع ایرانی حکام سے مذاکرات کریں گے اور ایک ہفتے بعد گوادر کی گبد سرحد کھل گئی

قارئین کے تبصرے (0)