اہم نکات: کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتہ وار 4,045 پوائنٹس (2.4 فیصد) گر کر 162,375 پر بند ہوا — مسلسل پانچویں ہفتے کی مندی۔ جمعہ کو انڈیکس 1,550 پوائنٹس گر کر 163,000 کی سطح سے نیچے آیا۔ برینٹ خام تیل 114 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوا۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس آج 26 اکتوبر کو ہو رہا ہے، فیصلہ شام کو متوقع ہے۔
کراچی — پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا سلسلہ پانچویں ہفتے بھی نہ ٹوٹ سکا۔ 23 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 4,044.84 پوائنٹس کم ہو کر 162,374.84 پر بند ہوا۔ یہ مسلسل پانچواں ہفتہ ہے جب مارکیٹ سرخ میں بند ہوئی، اور اس سے سرمایہ کاروں کی بے چینی میں واضح اضافہ ہوا ہے۔
ہفتے کا آخری سیشن سب سے بھاری رہا۔ جمعہ کو انڈیکس 1,550 پوائنٹس (0.95 فیصد) گر کر 163,000 کی نفسیاتی سطح سے نیچے آ گیا۔ فروخت وسیع پیمانے پر ہوئی، خاص طور پر ریفائنریز، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور پاور سیکٹرز میں۔ جب فروخت کسی ایک شعبے تک محدود نہ رہے بلکہ پورے بورڈ پر پھیل جائے، تو یہ محض ایک خبر کا ردعمل نہیں ہوتا — یہ مجموعی اعتماد کی کمی کی علامت ہوتی ہے۔
اس مندی کے پیچھے کئی دباؤ ایک ساتھ کام کر رہے ہیں۔ برینٹ خام تیل ہفتے کے دوران 114 ڈالر فی بیرل سے اوپر بند ہوا، جبکہ پچھلے ہفتے کی اوسط 106 ڈالر تھی — آٹھ ڈالر سے زیادہ کا اضافہ۔ تیل مہنگا ہونے کا مطلب پاکستان کے لیے درآمدی بل بڑھنا ہے۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں تجارتی خسارہ پہلے ہی 21.1 فیصد بڑھ کر 9.33 ارب ڈالر ہو چکا ہے، اور درآمدات کی شرح نمو برآمدات سے تقریباً دگنی رہی ہے۔ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ اگست 2026 میں صرف 0.67 فیصد بڑھی، جو صنعتی رفتار میں سستی کی واضح علامت ہے۔
اس کے برعکس روپیہ مضبوط رہا۔ انٹربینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 276.91 سے 276.82 روپے پر بند ہوا، یعنی 0.09 روپے کی معمولی بہتری۔ اسٹیٹ بینک کے ذخائر 16 اکتوبر تک 19 ملین ڈالر بڑھ کر 21.49 ارب ڈالر ہو گئے، اور مجموعی مائع ذخائر 26.83 ارب ڈالر رہے۔ مالی سال 2026 کی جی ڈی پی نمو 3.70 فیصد سے کم کر کے 3.65 فیصد کر دی گئی ہے، معیشت کا حجم 126.4 کھرب روپے (450.4 ارب ڈالر) اور فی کس آمدنی 1,896 ڈالر بتائی گئی ہے۔
اب سب کی نظریں آج کے فیصلے پر ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس پیر 26 اکتوبر کو ہو رہا ہے، اور فیصلہ شام کو متوقع ہے۔ گزشتہ اجلاس 14 ستمبر کو شرح 11.5 فیصد برقرار رکھی گئی تھی۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے سروے میں 61 فیصد شرکا نے اضافے کی توقع ظاہر کی، جن میں 54 فیصد 50 بیسز پوائنٹس اضافے کے حامی ہیں۔ اگر شرح بڑھتی ہے تو قرض مہنگا ہوگا، مگر مہنگائی پر قابو پانے کا پیغام جائے گا۔ اگر برقرار رہتی ہے تو مارکیٹ اسے کاروبار کے لیے ریلیف سمجھے گی، مگر مہنگائی کا خدشہ برقرار رہے گا۔
چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے اس ہفتے کا سبق سادہ ہے: پانچ ہفتوں کی مسلسل مندی میں گھبرا کر فروخت کرنا اکثر نقصان کو پکا کر دیتا ہے، لیکن بغیر سوچے سمجھے خریدنا بھی دانشمندی نہیں۔ آج شام اسٹیٹ بینک کا فیصلہ مارکیٹ کی اگلی سمت طے کرے گا، اور منگل کی صبح کا پہلا سیشن ہی بتا دے گا کہ سرمایہ کار اس فیصلے کو کیسے پڑھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف ڈیل کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں مندی

قارئین کے تبصرے (0)