اسپین کے وسطی صوبہ ٹولیڈو میں بدھ کی صبح دو تیز رفتار ٹرینوں کے خوفناک تصادم میں کم از کم 46 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ ہسپانوی میڈیا نے ایمرجنسی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، کیونکہ امدادی ٹیمیں تاحال سب سے زیادہ تباہ شدہ بوگیوں میں پھنسے مسافروں تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
حادثہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً نو بجے لاس ییبینیس اور اُردا کے قصبوں کے درمیان پیش آیا۔ اسپین کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی وی ای کے مطابق میڈرڈ سے سیویا جانے والی رینفے کی اے وی ای ٹرین اسی سمت میں سفر کرنے والی آئریو ٹرین کے پچھلے حصے سے ٹکرا گئی، جو اس وقت رکی ہوئی تھی۔ ٹکر اس قدر شدید تھی کہ آئریو ٹرین کی دو بوگیاں پٹری سے اتر کر ڈھلوان سے نیچے جا گریں۔ رینفے کی ٹرین صبح آٹھ بجے میڈرڈ کے اتوچا اسٹیشن سے روانہ ہوئی تھی اور اسے ساڑھے دس بجے سیویا پہنچنا تھا۔
دونوں ٹرینوں میں پانچ سو سے زیادہ مسافر سوار تھے — رینفے کی ٹرین میں تقریباً 397 اور آئریو کی ٹرین میں 147۔ حادثے کے فوراً بعد بڑی تعداد میں ایمبولینسیں اور امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو علاقے کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ اُردا کے میئر مینوئل گالان نے بتایا کہ سول پروٹیکشن حکام نے ان سے کہا ہے کہ زخمی مسافروں کی دیکھ بھال کے لیے قصبے کا اسپورٹس پویلین تیار رکھا جائے، جبکہ لاس ییبینیس کے میئر خیسوس پیریز نے حادثے کو “سنگین” قرار دیا۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچز نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا: “ٹولیڈو کے سنگین ٹرین حادثے سے مجھے صدمہ پہنچا ہے۔ میں وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوئنٹے اور کاستیا لا مانچا کے صدر ایمیلیانو گارسیا پاخے سے مسلسل رابطے میں ہوں۔ ایمرجنسی سروسز متاثرین کی مدد اور ان کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے موقع پر کام کر رہی ہیں۔” علاقائی حکومت کی ترجمان ایستھر پاڈیلا نے ابتدائی طور پر دس ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا تھا کہ “یہ تعداد یقیناً بڑھے گی”۔ وزیر صحت مونیکا گارسیا نے کہا کہ امدادی کارکنوں کی توجہ سب سے زیادہ تباہ شدہ دو بوگیوں سے زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے اور لاشیں برآمد کرنے پر مرکوز ہے، اور چونکہ “یہ تیز رفتار تصادم تھا، اس لیے ہم ایک المیے کی توقع کر رہے ہیں”۔
حادثے میں بچ جانے والے ایک مسافر میگوئل نے کوپے ریڈیو کو بتایا: “ہم نے ایک زبردست گرج سنی، دس سیکنڈ تک جاری رہنے والی ایک خوفناک دھماکے جیسی آواز، جیسے ٹرین پٹری سے اترنے والی ہو۔ دائیں طرف کی کھڑکی سے ہمیں ایک تباہ شدہ ٹرین نظر آئی — میرا خیال ہے وہ دوسری ٹرین تھی۔”
اسپین کے ریل انفراسٹرکچر آپریٹر اڈیف نے حادثے کے بعد میڈرڈ–اندلوسیا ہائی اسپیڈ لائن پر ٹریفک معطل کر دی ہے، جس سے میڈرڈ، سیوداد ریال اور اندلوسیا کے درمیان خدمات متاثر ہوئی ہیں۔ اڈیف نے ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ “دو ٹرینوں کے درمیان پیچھے سے ٹکر کے بعد میڈرڈ–اندلوسیا ہائی اسپیڈ لائن پر ٹریفک معطل کر دی گئی ہے”۔ خدمات کی بحالی کا وقت تاحال واضح نہیں ہے۔
حادثے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ابتدائی اطلاعات میں سگنلنگ کی خرابی اور ممکنہ انسانی غلطی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ریل انجینئرنگ کے ماہر خوزے ماریا گوئیکولیا روئی گومز نے یوروپا پریس سے گفتگو میں کہا کہ ممکن ہے ٹرینیں ایل زیڈ بی خودکار حفاظتی نظام کے بغیر چل رہی ہوں اور اس کی جگہ اے ایس ایف اے نظام استعمال ہو رہا ہو، جس میں ڈرائیور کی مداخلت کہیں زیادہ درکار ہوتی ہے۔ تفتیش کاروں کو یہ طے کرنا ہے کہ حادثے کے وقت کون سے حفاظتی نظام فعال تھے اور ڈرائیوروں کو کیا سگنل اور ہدایات ملی تھیں۔
یہ دس ماہ کے اندر اسپین میں دوسرا بڑا ٹرین حادثہ ہے۔ جنوری میں اسی لائن پر انہی دو کمپنیوں — رینفے اور آئریو — کی ٹرینوں کے تصادم میں 45 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے، جو 2013 میں سینٹیاگو دے کومپوستیلا کے حادثے (80 ہلاکتیں) کے بعد اسپین کا مہلک ترین ریل حادثہ تھا۔ اسپین میں طوفان آدم نے بھی رواں ماہ ملک میں تباہی مچائی تھی، اور اب یہ حادثہ ایک بار پھر اسپین کے لیے ایک مشکل ہفتہ ثابت ہو رہا ہے۔
اس حادثے کی اہمیت صرف ہلاکتوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ اس سوال میں ہے جو اب اسپین کے پورے تیز رفتار ریل نظام پر اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جب ایک ہی لائن پر، ایک ہی دو آپریٹرز کی ٹرینیں دس ماہ میں دوسری بار اس طرح ٹکرا جائیں، تو سوال کسی ایک ڈرائیور یا ایک سگنل تک محدود نہیں رہتا — پورے حفاظتی نظام، اس کی نگرانی اور اس کے فیصلوں کا جائزہ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اسپین کا اے وی ای نیٹ ورک دنیا کے بڑے تیز رفتار نیٹ ورکس میں شمار ہوتا ہے اور اس پر مسافروں کا اعتماد اس کی سب سے بڑی دولت ہے۔ اس اعتماد کی بحالی کے لیے تحقیقات کا شفاف اور مکمل ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا متاثرین کی فوری مدد۔

قارئین کے تبصرے (0)