Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

نورین نیازی کی طبیعت بگڑ گئی، کوٹ لکھپت جیل سے پنجاب کارڈیالوجی منتقل

پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی، لاہور کا ٹاور

لاہور: پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہن نورین نیازی کی جیل میں طبیعت خراب ہونے کے بعد انہیں لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کے وکیل کے مطابق نورین نیازی کو کوٹ لکھپت جیل میں دل میں تکلیف محسوس ہوئی، جس پر انہیں دل کے امراض کے اس خصوصی ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹر ان کے ابتدائی طبی ٹیسٹ کر رہے ہیں۔

نورین نیازی کے وکیل رانا مدثر عمر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: “نورین نیازی صاحبہ کی جیل میں طبیعت خراب ہونے پر پنجاب کارڈیالوجی منتقل کیا گیا ہے۔ ان کی صحت کیلئے دعاؤں کی درخواست ہے۔” انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ 70 سالہ نورین نیازی کی ہسپتال منتقلی کے بارے میں خاندان کے کسی فرد کو اطلاع نہیں دی گئی۔

رپورٹس کے مطابق نورین نیازی کو بدھ کی شام ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ لایا گیا، جہاں انہیں دل کی دھڑکن تیز ہونے، بلڈ پریشر بڑھنے اور سانس میں دشواری کی شکایت تھی۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ای سی جی میں کچھ تبدیلیاں سامنے آنے پر ڈاکٹروں نے خون کے ٹیسٹ تجویز کیے ہیں، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ آیا انہیں دل کا دورہ پڑا ہے یا نہیں۔ یہ واضح رہے کہ اب تک دل کے دورے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، اور حتمی تشخیص ٹیسٹوں کے نتائج پر منحصر ہے۔ ہسپتال انتظامیہ یا پنجاب حکومت کی جانب سے تاحال ان کی حالت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

نورین نیازی ستمبر سے نظربند ہیں۔ ان کی بہن علیمہ خان کو 20 ستمبر کو اور نورین نیازی و عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو لاہور میں مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس (3 ایم پی او) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کے ملک گیر احتجاج اور 27 ستمبر کو اسلام آباد کی طرف منصوبہ بند لانگ مارچ سے پہلے عمل میں آئی تھیں۔ ابتدائی نظربندی 30 روز کی تھی، جس میں بعد میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی گئی۔ اس نظربندی کے خلاف دائر درخواست پر لاہور ہائیکورٹ نے 26 اکتوبر کو پنجاب حکومت کی رپورٹ دیکھنے کے بعد درخواست نمٹا دی تھی۔

پی ٹی آئی نے نورین نیازی کی صحت بگڑنے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پارٹی کے بیان میں ان کی حالت کو “انتہائی تشویشناک” قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایک 70 سالہ خاتون کو بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھنا اور ان کی ہسپتال منتقلی پر خاندان کو مطلع نہ کرنا سنگین معاملہ ہے۔ پارٹی نے یہ بھی کہا کہ اگر انہیں کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری موجودہ حکمرانوں اور متعلقہ انتظامیہ پر ہوگی۔ یہ پی ٹی آئی کا موقف ہے؛ حکومت یا جیل حکام نے اب تک اس الزام پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

یہ خبر صرف ایک خاندان کی خبر نہیں ہے۔ حراست میں کسی بزرگ قیدی کی صحت بگڑنا ہمیشہ ایک حساس معاملہ ہوتا ہے، کیونکہ اس میں دو سوال ایک ساتھ اٹھتے ہیں: قیدی کو بروقت اور مکمل طبی سہولت ملی یا نہیں، اور خاندان کو صورتحال سے آگاہ رکھا گیا یا نہیں۔ جب زیر حراست شخص کسی بڑی سیاسی جماعت کے بانی کا قریبی رشتہ دار ہو تو یہ سوال سیاسی درجہ حرارت بھی بڑھا دیتا ہے، اور ہر فریق اپنے اپنے زاویے سے اس کی تشریح کرتا ہے۔ ایسے میں سب سے اہم چیز حقائق کی شفافیت ہوتی ہے — ڈاکٹروں کی واضح رپورٹ، خاندان تک رسائی، اور حکام کا بروقت موقف۔

اب سب کی نظریں ڈاکٹروں کے ٹیسٹوں کے نتائج پر ہیں، جن سے یہ واضح ہوگا کہ نورین نیازی کی حالت کتنی سنگین ہے اور انہیں مزید کتنا علاج درکار ہے۔ 101 اردو اس صورتحال پر نظر رکھے گا اور جیسے ہی ہسپتال یا حکومت کی طرف سے کوئی مصدقہ بیان سامنے آئے گا، قارئین کو آگاہ کیا جائے گا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *