Wednesday, 28 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

ڈپریشن اور کام کا نقصان: عمر 35 کے اس پار اور اس پار اثر کیوں بدل جاتا ہے؟

دفتر میں کمپیوٹرز پر کام کرتے ملازمین کا منظر

سوال: یہ تحقیق کیا کہتی ہے؟

اکتوبر 2026 میں جرنل آف آکیوپیشنل اینڈ انوائرنمنٹل میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق، ڈپریشن کی علامات کا تعلق ملازمین کی کام کی پیداواری صلاحیت میں کمی سے سب سے زیادہ واضح طور پر جڑا ہوا ہے۔ تحقیق سیول نیشنل یونیورسٹی اسپتال کے پروفیسر یون یونگ ہو اور ہانکوک یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز کی پروفیسر جیونگ جو یون کی ٹیم نے کی۔ جنوری 2024 میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 20 سے 49 سال کی عمر کے ایک ہزار ملازمین کا سروے کیا گیا، جن میں 489 افراد 35 سال سے کم عمر اور 511 افراد 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کے تھے۔

سوال: کام کے نقصان سے کیا مراد ہے؟

محققین نے کام کے نقصان کو تین حصوں میں ناپا: غیر حاضری، یعنی صحت کے مسائل کے باعث کام پر نہ آ سکنا؛ پریزینٹیزم، یعنی کام پر آ کر بھی صحت کے مسائل کے باعث پوری کارکردگی نہ دکھا پانا؛ اور مجموعی نقصان، جو ان دونوں کا مجموعہ ہے۔ ڈپریشن کی علامات کی شناخت کے لیے عالمی سطح پر استعمال ہونے والا اسکریننگ ٹول پی ایچ کیو-9 استعمال کیا گیا، جس میں 10 یا اس سے زیادہ اسکور کو علامات کی موجودگی سمجھا گیا۔

سوال: 35 سال سے کم عمر ملازمین پر اثر کیسا تھا؟

اس گروپ میں ڈپریشن کی علامات والے ملازمین کے کام سے غیر حاضر رہنے کا امکان علامات سے محروم ملازمین کے مقابلے میں 5.42 گنا زیادہ تھا۔ ان میں پریزینٹیزم کا امکان 2.13 گنا اور مجموعی کام کے نقصان کا امکان 2.43 گنا زیادہ پایا گیا۔ اس عمر کے گروپ میں جسمانی صحت اور تعلقات جیسے عوامل کام کے نقصان سے زیادہ جڑے ہوئے تھے۔ ہیلتھ چوسن کی رپورٹ کے مطابق اس گروپ میں پریزینٹیزم اور مجموعی کام کے نقصان کی اوسط سطح بھی زیادہ تھی۔

سوال: 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کے ملازمین میں فرق کیا تھا؟

بڑی عمر کے گروپ میں تصویر الٹ گئی۔ یہاں ڈپریشن کی علامات والے ملازمین میں پریزینٹیزم کا امکان 4.78 گنا، مجموعی نقصان کا امکان 4.84 گنا اور غیر حاضری کا امکان 2.89 گنا زیادہ تھا۔ یعنی یہ ملازمین کام پر تو آتے ہیں، مگر پوری توجہ اور کارکردگی کے ساتھ کام نہیں کر پاتے۔ اس گروپ میں ذہنی صحت اور زندگی میں معنی کی تلاش جیسے عوامل زیادہ اہم نکلے۔

سوال: محققین نے کیا حل تجویز کیا ہے؟

پروفیسر جیونگ جو یون نے کہا، “چونکہ کام کے نقصان سے جڑے صحت کے عوامل عمر کے حساب سے مختلف ہیں، اس لیے ایک ہی طریقہ سب پر لاگو کرنے کے بجائے عمر کے مطابق صحت کی حکمت عملیاں درکار ہیں۔” ٹیم نے تجویز دی کہ 35 سال سے کم عمر ملازمین کے لیے جسمانی سرگرمی، ٹیم سازی اور ساتھیوں کی رہنمائی (پیئر مینٹرنگ) مفید ہو سکتی ہے، جبکہ 35 سال یا اس سے زیادہ عمر کے لیے ذہنی دباؤ کا انتظام، مائنڈ فل نیس اور زندگی میں معنی پر مرکوز پروگرام زیادہ کارآمد ہوں گے۔ ساتھ ہی تمام عمر کے گروپوں میں ڈپریشن کی اسکریننگ، جلد مداخلت اور ذہنی صحت کے گرد بدنامی کم کرنے پر بھی زور دیا گیا۔

سوال: پروفیسر یون یونگ ہو کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

پروفیسر یون نے کہا، “ڈپریشن وہ عنصر ہے جو کام کی پیداواری صلاحیت میں کمی سے سب سے زیادہ واضح طور پر جڑا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ صحت کو صرف فرد کا مسئلہ یا کمپنی کی فلاحی سہولت سمجھنے کے بجائے اسے ملازمین کی صحت میں سرمایہ کاری سمجھنا چاہیے، جو پیداواری صلاحیت اور مسابقت بڑھاتی ہے۔

سوال: یہ تحقیق پاکستانی قارئین کے لیے کیوں اہم ہے؟

یہ تحقیق جنوبی کوریا کے ملازمین پر ہوئی ہے، اس لیے اس کے اعداد کو پاکستان پر براہ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا، مگر اس کا بنیادی سبق آفاقی ہے: ذہنی صحت کے مسائل دفتر میں سب سے پہلے “نظر نہ آنے والے” نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں — کبھی چھٹی کی صورت میں، کبھی میز پر بیٹھ کر بھی کام نہ کر پانے کی صورت میں۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ ہر عمر کے ملازم کو ایک ہی نسخہ دینا کام نہیں کرتا۔ نوجوان ملازم کو ٹیم کا سہارا اور جسمانی سرگرمی چاہیے ہو سکتی ہے، جبکہ تجربہ کار ملازم کو دباؤ سے نمٹنے اور کام میں معنی تلاش کرنے میں مدد درکار ہو سکتی ہے۔

یہ مضمون صرف عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ ڈپریشن کی علامات محسوس ہونے پر کسی مستند طبی ماہر سے رجوع کرنا چاہیے۔

کام کی جگہ پر ذہنی صحت پر کھلی بات چیت ہی وہ پہلا قدم ہے جس سے یہ پوشیدہ نقصان کم ہو سکتا ہے — اور یہ قدم کسی پالیسی کا انتظار کیے بغیر آج بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *