اہم نکات: پٹرول 1.85 روپے مہنگا ہو کر 377.91 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.75 روپے اضافے کے بعد 399.82 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا ہے۔ نئی قیمتیں 29 اکتوبر سے نافذ ہیں۔ اس سے ایک روز پہلے پٹرول 3.19 روپے سستا ہوا تھا، یعنی دو دن میں قیمت پہلے نیچے آئی اور پھر دوبارہ اوپر چلی گئی۔
وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن 28 اکتوبر کو جاری کیا، جس کا اطلاق 29 اکتوبر سے ہوا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی نئی قیمت 377.91 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 399.82 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق یہ ردوبدل عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی روشنی میں کیا گیا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ قیمتوں کا یہ سفر صرف دو دن میں دو سمتوں میں ہوا۔ 27 اکتوبر کو پٹرول کی گزشتہ قیمت 379.25 روپے فی لیٹر تھی۔ 28 اکتوبر کے لیے پٹرول 3.19 روپے سستا ہوا اور ڈیزل 2.25 روپے مہنگا ہوا، جس کے بعد 29 اکتوبر کی نئی قیمتوں نے پٹرول کو دوبارہ 377.91 روپے تک پہنچا دیا۔ یہ اتار چڑھاؤ اس نئے روزانہ قیمتوں کے نظام کا نتیجہ ہے جو حکومت نے 17 جولائی 2026 کو متعارف کرایا تھا۔ اس سے پہلے قیمتیں ہفتہ وار بنیادوں پر تبدیل ہوتی تھیں، اب ہر روز نئی قیمت سامنے آتی ہے۔
عام آدمی کے لیے سوال یہی ہے کہ اس سے اس کی جیب پر کیا اثر پڑے گا۔ موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی چلانے والوں کے لیے حکومت نے پہلے ہی 100 روپے فی لیٹر کی سبسڈی کا اعلان کر رکھا ہے، جس کا اطلاق موٹر سائیکلوں، تھری وہیلرز اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں پر ہوتا ہے۔ اس اسکیم سے تقریباً ایک کروڑ 18 لاکھ افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے، جن میں دو پہیوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 2 ہزار روپے تک اور چھوٹی کاروں کے مالکان کو 3 ہزار روپے تک کی رعایت مل سکتی ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان اپنی ضرورت کا بیشتر تیل درآمد کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہ راست مقامی قیمتوں میں جھلکتا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی صورتحال اور اوپیک پلس کے فیصلے وہ عوامل ہیں جو خام تیل کی قیمت کو اوپر نیچے کرتے ہیں۔ ستمبر میں حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات بھی دوبارہ نافذ کیے تھے، جن کے تحت دکانیں اور بازار رات 9 بجے اور شادی ہال رات 10 بجے بند کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
آگے کیا ہوگا، اس کا انحصار عالمی منڈی پر ہے۔ روزانہ قیمتوں کے نظام میں صارفین کو اب ہر صبح نئی قیمت کا انتظار کرنا ہوگا، اور اگر عالمی منڈی میں کشیدگی برقرار رہی تو قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔ دوسری طرف، اگر عالمی قیمتیں نرم پڑیں تو اس کا فائدہ بھی روزانہ کی بنیاد پر صارف تک پہنچے گا — کم از کم نظری طور پر یہی اس نظام کا وعدہ ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)