Friday, 30 October 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

جی ایس پی پلس پر یورپ کی کڑی نظر: رومانیہ کے سفیر نے پاکستان کو مزید اقدامات کا پیغام دے دیا

اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس کا ہال

یورپی یونین پاکستان کے انسانی حقوق کے ریکارڈ اور جی ایس پی پلس کے وعدوں پر عمل کو قریب سے دیکھ رہی ہے۔ یہ پیغام رومانیہ کے سفیر ڈین اسٹوئنیسکو نے جمعرات کو اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے انسانی حقوق کے شعبے میں کچھ مثبت پیش رفت کی ہے، لیکن جنوری 2027 کے بعد بھی تجارتی سہولت برقرار رکھنے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے۔

جی ایس پی پلس کیا ہے؟

یہ یورپی یونین کا ایک تجارتی نظام ہے جس کے تحت پاکستان سمیت کچھ ترقی پذیر ممالک اپنی مصنوعات یورپ کو کم یا صفر ڈیوٹی پر برآمد کر سکتے ہیں۔ بدلے میں ان ممالک کو انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات اور اچھی حکمرانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان کو یہ سہولت 2014 سے حاصل ہے، اور یورپ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے — ملکی برآمدات کا تقریباً 28 فیصد یورپ جاتا ہے، جس میں ٹیکسٹائل اور ملبوسات کا حصہ 70 سے 76 فیصد ہے۔

رومانیہ کے سفیر نے کیا کہا؟

سفیر نے کہا کہ یورپی یونین پاکستان کی جی ایس پی پلس وعدوں پر عمل کی حتمی تشخیص خود کرے گی، اور اس عمل کے نتیجے کے بارے میں وہ کوئی حتمی رائے دینے سے گریز کریں گے۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا رومانیہ جنوری 2027 کے بعد بھی پاکستان کی اس سہولت تک رسائی کی حمایت کرے گا، جس پر انہوں نے کہا کہ کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مگر مزید کام درکار ہے۔ رومانیہ اور پاکستان کے درمیان دو طرفہ تجارت اس وقت تقریباً 15 کروڑ 60 لاکھ ڈالر ہے، جو سفیر کے مطابق دونوں معیشتوں کی اصل صلاحیت سے کم ہے۔

2027 میں کیا بدلنے جا رہا ہے؟

یورپی یونین کا نیا جی ایس پی ضابطہ 22 جون کو شائع ہوا تھا اور یکم جنوری 2027 سے نافذ ہوگا۔ اس کے تحت پاکستان سمیت تمام موجودہ فائدہ اٹھانے والے ممالک کو از سر نو درخواست دینی ہوگی — سہولت خودکار طور پر آگے نہیں بڑھے گی۔ جن بین الاقوامی معاہدوں پر عمل درکار ہوگا، ان کی تعداد 27 سے بڑھ کر 32 ہو جائے گی۔ موجودہ سہولت دو سال کی عبوری مدت کے دوران، یعنی 2028 کے آخر تک، برقرار رہے گی، بشرطیکہ پاکستان اپنے موجودہ وعدوں پر قائم رہے۔ اس کے بعد نئی درخواست اور آئندہ کا عملی منصوبہ پیش کرنا ہوگا۔

یورپ کو کن باتوں پر اعتراض ہے؟

یورپی کمیشن کی 2023 سے 2025 کی نگرانی رپورٹ میں انسانی حقوق، جیلوں کی اصلاحات، جبری گمشدگیوں، اظہار رائے کی آزادی، بچوں کی مشقت اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ جیسے شعبوں میں خدشات درج کیے گئے ہیں۔ یورپی یونین کے پاکستان میں سفیر ریمنڈاس کاروبلس پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اپنی تجارتی تعلق میں “انتہائی نازک” موڑ پر کھڑا ہے اور سہولت کی ضمانت ہرگز نہیں دی جا سکتی۔

اگر یہ سہولت متاثر ہوئی تو کیا ہوگا؟

اعداد خود اس کی اہمیت بتاتے ہیں۔ صرف 2024 میں پاکستان نے 7.5 ارب یورو کی مصنوعات جی ایس پی پلس کے تحت یورپ کو برآمد کیں، جس سے تقریباً 73 کروڑ 20 لاکھ یورو کی ڈیوٹی کی بچت ہوئی۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں لاکھوں ملازمتیں اسی سہولت سے جڑی ہیں۔ اگر رسائی کم ہوئی یا مصنوعات کی فہرست چھوٹی کی گئی، تو برآمدکنندگان کی لاگت بڑھے گی اور یورپی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کا مقابلہ مشکل ہو جائے گا۔

یہ معاملہ صرف تجارت کا نہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی وعدوں کو قانون سے آگے، عملی سطح پر کتنا نبھاتا ہے۔ رومانیہ کے سفیر کا بیان دراصل اسی رسمی جائزے سے پہلے کا ایک سفارتی اشارہ ہے — کہ وقت کم ہے، اور اگلے دو سال کی عبوری مدت میں جو پیش رفت ہوگی، وہی 2029 کے بعد کی تجارت کا فیصلہ کرے گی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *