Friday, 30 October 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر: ایئر کوالٹی انڈیکس 419 تک جا پہنچا

سیٹلائٹ سے نظر آنے والی پاکستان پر سموگ کی گھنی تہہ

جمعرات کی صبح لاہور کی ہوا ایک بار پھر دنیا کی سب سے زہریلی ہوا بن گئی۔ عالمی مانیٹرنگ ادارے آئی کیو ایئر کے اعداد کے مطابق صبح 10 سے 11 بجے کے درمیان لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 419 تک جا پہنچا، جس کے ساتھ یہ شہر دنیا بھر میں آلودگی کی فہرست میں پہلے نمبر پر آ گیا۔ مصر کا دارالحکومت قاہرہ 274 کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ کراچی 165 کے ساتھ آٹھویں نمبر پر تھا۔

یہ محض ایک دن کی خراب خبر نہیں ہے۔ پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (PAQI) کی تازہ رپورٹ “انویلنگ پاکستانز ایئر پولیوشن” کے مطابق ملک میں زہریلی ہوا ہر سال تقریباً ایک لاکھ 28 ہزار قبل از وقت اموات کا سبب بن رہی ہے۔ رپورٹ کا اندازہ ہے کہ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں سانس لینے سے پاکستانیوں کی اوسط عمر 3.9 سال کم ہو رہی ہے، اور لاہور کے رہائشیوں کے لیے یہ نقصان سات سال تک پہنچ سکتا ہے۔ معیشت کو بھی اس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے — رپورٹ کے مطابق آلودگی کی قیمت ملکی جی ڈی پی کے 6.5 فیصد کے برابر ہے۔

لاہور کی صورتحال سب سے زیادہ تشویشناک ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہر میں باریک ذرات (PM2.5) کی سالانہ اوسط مقدار 110 مائیکروگرام فی مکعب میٹر سے زیادہ ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی سالانہ حد صرف پانچ مائیکروگرام ہے۔ یعنی لاہور کی ہوا میں یہ خطرناک ذرات عالمی معیار سے 22 گنا زیادہ ہیں۔ یہ وہ ذرات ہیں جو پھیپھڑوں سے گزر کر خون میں شامل ہو جاتے ہیں اور دل و دماغ کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

رپورٹ نے ملک میں پہلی بار تمام شعبوں کی متحدہ ایمیشن انوینٹری تیار کی ہے، جس میں کراچی، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور پشاور سمیت بڑے شہروں کا جائزہ لیا گیا۔ اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، PM2.5، نائٹروجن آکسائیڈز اور سلفر ڈائی آکسائیڈ کی شہر بہ شہر اور شعبہ بہ شعبہ تفصیل دی گئی ہے۔ آلودگی کے بڑے ذرائع میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتیں، تعمیراتی گرد اور فصلوں کی باقیات جلانا شامل ہیں۔ رپورٹ کا ایک حوصلہ افزا نکتہ یہ ہے کہ درست اقدامات سے آلودہ ذرات میں نصف تک کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل سموگ سیزن کے آغاز پر حکومت نے آلودگی میں 13.5 فیصد کمی کا دعویٰ کیا تھا، اور گاڑیوں کی ایمیشن ٹیسٹنگ کو اس کی وجہ بتایا تھا۔ لیکن 419 کا انڈیکس بتاتا ہے کہ دعووں اور زمینی حقیقت کے درمیان اب بھی بڑا فاصلہ ہے۔ سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی سموگ ہر سال اسی شدت سے لوٹ آتی ہے، اور ہر سال اس کا بوجھ عام شہری کی صحت اور جیب پر پڑتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ لاہور کی ہوا کب خراب ہوئی — سوال یہ ہے کہ اسے ٹھیک کرنے کے لیے کون سا مستقل نظام بنے گا۔ وقتی تدابیر، جیسے ماسک پہننا اور باہر نکلنے سے گریز، چند دن کی راحت تو دے سکتی ہیں، لیکن مسئلے کی جڑ نہیں کاٹتیں۔ PAQI کی انوینٹری اب حکومت کے پاس ایک نقشہ رکھ دیتی ہے کہ کون سا شعبہ کتنی آلودگی پھیلا رہا ہے۔ اگلا مرحلہ یہ ہے کہ اس نقشے پر عمل ہو — گاڑیوں کی سخت جانچ، صنعتوں پر کنٹرول، اور فصلوں کی باقیات جلانے کا متبادل۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، ہر سردیوں میں لاہور کی صبح اسی سرخی کے ساتھ شروع ہوگی۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *