Thursday, 29 October 2026
بریکنگ نیوز
صحت

روزانہ مٹھی بھر مونگ پھلی بوڑھے دماغ کو انسولین کے لیے زیادہ حساس بنا سکتی ہے، تحقیق

چھلکے سمیت اور چھلی ہوئی مونگ پھلی

نیدرلینڈز کی ماسٹرخت یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کی ایک تحقیق نے ایک سادہ سی خوراک کے حیران کن فائدے کی طرف توجہ دلائی ہے: روزانہ 60 گرام بغیر نمک والی، چھلکے سمیت بھنی ہوئی مونگ پھلی کھانے سے بڑی عمر کے افراد کے دماغ کے یادداشت سے جڑے حصوں میں انسولین کے تئیں ردعمل بہتر پایا گیا ہے۔ یہ تحقیق “فوڈ اینڈ فنکشن” جریدے میں شائع ہوئی ہے۔

تحقیق میں 60 سے 75 سال کی عمر کے 31 صحت مند افراد نے حصہ لیا۔ یہ ایک رینڈمائزڈ کراس اوور ٹرائل تھا، یعنی ہر شریک نے 16 ہفتے تک روزانہ 60 گرام مونگ پھلی کھائی اور 16 ہفتے تک مونگ پھلی سے پرہیز کیا، دونوں مرحلوں کے درمیان 8 ہفتے کا وقفہ رکھا گیا۔ اس ڈیزائن کی خوبی یہ ہے کہ ہر شخص اپنا ہی موازنہ بن جاتا ہے۔ دماغی اسکین کے لیے جدید اے ایس ایل ایم آر آئی تکنیک استعمال کی گئی، جس سے ناک کے ذریعے انسولین دینے کے بعد دماغ میں خون کے بہاؤ میں تبدیلی کو ماپا گیا۔

نتائج میں دماغ کے دائیں نصف کرے میں ایک ایسا خطہ سامنے آیا جہاں مونگ پھلی کے مرحلے کے بعد انسولین کا ردعمل بہتر تھا۔ اس خطے میں ہپوکیمپس شامل ہے، جو یادداشت کا مرکزی حصہ مانا جاتا ہے، اور اس کے ارد گرد کے علاقے — لنگوئل گائرس، پیراہپوکیمپل گائرس اور پوسٹیریئر سنگولیٹ گائرس — بھی شامل تھے۔ تحقیق کے سینئر مصنف ڈاکٹر پیٹر جورس کے مطابق، “جیسے جیسے لوگ بوڑھے ہوتے ہیں، دماغ انسولین کے تئیں کم حساس ہو سکتا ہے، جس کا تعلق عمر کے ساتھ یادداشت کی کمزوری سے جوڑا گیا ہے۔ ہماری تحقیق میں روزانہ مونگ پھلی کھانے سے یادداشت سے جڑے دماغی علاقوں میں انسولین کا ردعمل بہتر پایا گیا۔”

یہ نتائج اسی ٹیم کی 2025 کی تحقیق سے بھی جڑے ہیں، جس میں اسی 16 ہفتے کی خوراک سے دماغ میں خون کا بہاؤ 3.6 فیصد بڑھا اور زبانی یادداشت کے اسکور میں 5.8 فیصد بہتری دیکھی گئی تھی۔ محققین کے مطابق مونگ پھلی میں صحت بخش چکنائیاں، فائبر، اہم معدنیات اور ایل آرجینائن پایا جاتا ہے، جو نائٹرک آکسائیڈ بنانے میں مدد کرتا ہے — اور یہ عمل سیکھنے اور یادداشت سے جڑا ہوا ہے۔

لیکن احتیاط بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ یہ ایک چھوٹی تحقیق تھی — صرف 31 افراد — اور اس میں توانائی اور غذائی اجزا کے لحاظ سے مماثل کنٹرول گروپ نہیں تھا۔ انسولین سے دماغ میں خون کے بہاؤ میں تبدیلی اعصابی سرگرمی کا بالواسطہ پیمانہ ہے، براہ راست ثبوت نہیں۔ محققین نے خود واضح کیا ہے کہ یہ نتائج یہ ثابت نہیں کرتے کہ مونگ پھلی الزائمر یا ڈیمینشیا سے بچاتی ہے۔ ایک شریک نے معدے کی تکلیف کی وجہ سے تحقیق چھوڑی، تاہم کوئی سنگین مضر اثر سامنے نہیں آیا، اور اضافی توانائی کے باوجود کمر یا جسمانی چربی میں اضافہ نہیں ہوا۔

عملی پیغام سادہ ہے: اگر آپ کو مونگ پھلی سے الرجی نہیں ہے تو روزانہ ایک مٹھی بھر بغیر نمک والی بھنی ہوئی مونگ پھلی ایک سستی اور آسان عادت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ کسی دوا یا علاج کا متبادل نہیں ہے، اور یادداشت کے مسائل کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہی درست راستہ ہے۔ عمر کے ساتھ دماغی صحت میں تبدیلی ایک وسیع موضوع ہے، اور یہ تحقیق اس میں ایک چھوٹا مگر دلچسپ اضافہ ہے — نہ معجزہ، نہ افسانہ، بلکہ ایک سادہ خوراک پر سائنسی نظر۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *