لاہور کی فضا ایک مرتبہ پھر بھاری ہونے لگی ہے، اور موسمِ سرما سے پہلے ہی شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس غیر صحت مند حد میں داخل ہو گیا۔ بدھ کی شام پنجاب انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی کے مانیٹرنگ نیٹ ورک کے مطابق لاہور کا اوسط اے کیو آئی 155 ریکارڈ کیا گیا، جو “حساس گروہوں کے لیے غیر صحت مند” کیٹیگری میں آتا ہے۔ سفاری پارک میں آلودگی 172، شاہدرہ میں 168 اور ایجرٹن روڈ پر 162 تک پہنچی، جبکہ سفاری پارک میں خطرناک پی ایم 2.5 ذرات کی مقدار 103.9 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ناپی گئی۔ عالمی لائیو رینکنگ میں لاہور ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں میں شمار ہوا۔
اسی پس منظر میں پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے جمعے کو لاہور میں ای پی اے گرین بلڈنگ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ لاہور میں پی ایم 2.5 آلودگی میں 13.5 فیصد کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق رواں سیزن میں اب تک شہر کا اوسط اے کیو آئی 250 سے نیچے رہا ہے۔ پریس کانفرنس میں ای پی اینڈ سی سی ڈی کی سیکرٹری سلوت سعید اور ای پی اے کے ڈائریکٹر جنرل عبداللہ نیّر شیخ بھی موجود تھے۔ وزیر کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی ایمشن ٹیسٹنگ کی آخری تاریخ 15 اکتوبر سے بڑھا کر 15 نومبر کر دی گئی ہے، اور گزشتہ برس تقریباً پانچ لاکھ گاڑیوں کو ایمشن سرٹیفکیٹ جاری ہوئے، جبکہ اب نجی ورکشاپس کو بھی ٹیسٹنگ نظام میں شامل کیا جا رہا ہے۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کی شناخت کے لیے سیف سٹی کیمرے استعمال کیے جا رہے ہیں، اور سرکاری گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائی ہو رہی ہے۔ مری داخل ہونے والی ہر گاڑی کے لیے ایمشن ٹیسٹنگ سرٹیفکیٹ لازم قرار دیا گیا ہے۔ صنعتوں کی نگرانی کے لیے کیمروں کا استعمال بڑھایا گیا ہے، تقریباً آٹھ ہزار صنعتی یونٹس کا انوینٹری تیار کی جا رہی ہے اور ایک سروے میں آلودگی کے نو ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی کر کے وہاں ہدفی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومت نے شدید آلودہ علاقوں میں کم ایمشن زون قائم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
اینٹوں کے بھٹوں کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ پنجاب بھر کے تقریباً آٹھ ہزار بھٹے زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو چکے ہیں، جن میں 709 مکمل میکانائزڈ ہیں، اور نگرانی بہتر بنانے کے لیے بھٹوں کو کیو آر کوڈ جاری کیے گئے ہیں۔ فصلوں کے باقیات جلانے کی حوصلہ شکنی کے لیے کسانوں کو 60 فیصد سبسڈی پر دس ہزار سپر سیڈر فراہم کیے گئے۔ پندرہ سموگ گنز کام کر رہی ہیں اور مزید پندرہ خریدی جا رہی ہیں۔ وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت مصنوعی بارش کے بجائے آلودگی کو اس کے ذرائع پر قابو کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔
نگرانی کے لیے ڈرونز، کیمروں اور ڈیجیٹل نظام سے لیس ایک ہزار رکنی ماحولیاتی انفورسمنٹ فورس تعینات کی گئی ہے، جو کوڑا، ٹائر اور پلاسٹک جلانے والوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے، جبکہ تعمیراتی مقامات پر دھول روکنے کے لیے اسپرنکلرز لگائے جا رہے ہیں۔ حکومت نے آئندہ جون تک تین ہزار الیکٹرک بسیں چلانے اور ایک لاکھ طلبہ کو الیکٹرک بائیکس دینے کا اعلان بھی کیا۔ سموگ کے خلاف بارہ سرکاری محکمے مل کر کام کر رہے ہیں، اور شہری ماحولیاتی خلاف ورزیوں کی شکایت ہیلپ لائن 1373 پر درج کرا سکتے ہیں۔
ایک روز قبل جمعرات کو جاری اپنے بیان میں مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ ہواؤں کے رخ کی تبدیلی سے بھارتی شہروں کی آلودہ ہوا پاکستان میں داخل ہو رہی ہے، اس لیے سموگ کے مستقل حل کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ ان کے الفاظ میں: “سرحد پار آلودگی سخت ماحولیاتی کنٹرول رکھنے والے ممالک کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جیسا کہ انڈونیشیا کے جنگلاتی آگ نے سنگاپور کی فضا خراب کی۔ ہواؤں سے اٹھنے والا دھواں خطے بھر میں پھیل کر ماحول آلودہ کرتا ہے۔” انہوں نے گاڑیوں اور صنعتوں کے دھوئیں کو فضائی آلودگی کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔
دعوے اپنی جگہ، مگر حکومت کی پیش کردہ کمی کے اعدادوشمار کے پیچھے کوئی تفصیلی طریقہ کار یا مدت کا ذکر پریس کانفرنس میں نہیں ہوا — ورلڈ بینک کی رپورٹ کا حوالہ تو دیا گیا، مگر اس کا خاکہ نہیں بتایا گیا۔ یہ بھی دلچسپ ہے کہ بھارت کی طرف سے آنے والی ہواؤں کا ذکر ایسے وقت میں کیا گیا جب نومبر میں فصلوں کے باقیات جلانے کا موسم اپنے عروج پر ہو گا اور لاہور کی فضا ایک بار پھر دنیا کی خبروں میں آئے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا کیمرے، کیو آر کوڈ اور سموگ گنز اس سال واقعی وہ فرق ڈالیں گے جو پچھلے برسوں میں وعدوں سے نہیں پڑا۔

قارئین کے تبصرے (0)