برطانوی اداکار سر پیٹرک اسٹیورٹ 86 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کی موت بدھ، 28 اکتوبر کو لاس اینجلس میں اپنے گھر پر ہوئی، اور اس کا اعلان جمعرات کو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وہ اپنی اہلیہ سنی کی محبت بھری دیکھ بھال میں، الزائمر اور لیوی باڈی ڈیمینشیا کے ساتھ “ایک مختصر اور پُراثر سفر” کے بعد رخصت ہوئے۔ یہ دونوں تشخیصیں پہلے کبھی عوامی طور پر ظاہر نہیں کی گئی تھیں۔
اسٹیورٹ کی کہانی غربت سے شروع ہوئی تھی۔ وہ یارکشائر کے علاقے میرفیلڈ میں پیدا ہوئے، 18 برس کی عمر میں اداکاری شروع کی، اور 1960 کی دہائی سے رائل شیکسپیئر کمپنی کے رکن کے طور پر شیکسپیئر کے ڈراموں میں نام کمایا۔ لیکن دنیا بھر میں شہرت انہیں 47 برس کی عمر میں ملی، جب وہ 1987 میں “اسٹار ٹریک: دی نیکسٹ جنریشن” میں کیپٹن جین لوک پیکارڈ بنے۔ یہ سیریز سات سیزن چلی اور اس نے اسٹیورٹ کو ایک ایسے کردار کا مالک بنا دیا جو عقل، وقار اور اخلاقی قیادت کی علامت بن گیا۔ ان کا جملہ “میک اٹ سو” (یعنی “ایسا ہی کرو”) آج بھی سائنس فکشن کی تاریخ کا مشہور ترین جملہ شمار ہوتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے قریبی دوست ایان میک کیلن نے پہلے انہیں مشورہ دیا تھا کہ اسٹار ٹریک قبول نہ کریں اور تھیٹر میں ہی رہیں — لیکن اسٹیورٹ نے یہ کردار قبول کیا، اور پھر اسے چار فلموں اور 2020 سے 2023 تک چلنے والی سیریز “اسٹار ٹریک: پیکارڈ” میں بھی نبھایا۔
دوسری بڑی فرنچائز میں بھی ان کا کردار اتنا ہی یادگار رہا۔ سن 2000 کی فلم “ایکس مین” سے انہوں نے پروفیسر چارلس زیویر کا کردار نبھانا شروع کیا — وہیل چیئر پر بیٹھے ہوئے ایک ایسے استاد کا کردار جو انسانوں اور میوٹنٹس کے درمیان امن چاہتا ہے۔ اس کردار کو انہوں نے کئی فلموں میں دہرایا، جن میں 2017 کی “لوگن” بھی شامل ہے، اور مارول اسٹوڈیوز کے مطابق وہ آنے والی فلم “ایونجرز: ڈومزڈے” میں بھی نظر آنے والے تھے۔
ان کے انتقال پر دنیا بھر سے خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ایان میک کیلن نے انہیں “بحر اوقیانوس کے دونوں کناروں پر اپنی نسل کا سب سے معزز اور محبوب اداکار” قرار دیا۔ اصل اسٹار ٹریک کے کیپٹن کرک، ولیم شیٹنر نے انہیں “دوست، ساتھی اور شاندار اداکار” کہا۔ ہیو جیک مین نے لکھا کہ “ہم نے اسٹیج اور اسکرین کے ایک عظیم فنکار کو کھو دیا ہے”۔ مارول اسٹوڈیوز نے اپنے بیان میں کہا کہ اسٹیورٹ نے پروفیسر زیویر کو “غیر معمولی وقار، ذہانت اور انسانیت” کے ساتھ زندہ کیا۔
اسٹیورٹ کی اہمیت صرف ان کے کرداروں میں نہیں تھی، بلکہ اس بات میں تھی کہ انہوں نے شیکسپیئر کے وقار کو مقبول فلموں اور ٹی وی تک پہنچایا۔ پیکارڈ ایک ایسا کپتان تھا جو طاقت سے زیادہ عقل اور مکالمے پر یقین رکھتا تھا، اور زیویر ایک ایسا استاد تھا جو نفرت کے جواب میں بھی رواداری سکھاتا تھا۔ یہ دونوں کردار ایک ہی آدمی کے اندر سے نکلے تھے — ایک ایسا آدمی جو 80 برس کی عمر کے بعد بھی کام کر رہا تھا، اور جس نے کبھی ریٹائر ہونے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔
لیوی باڈی ڈیمینشیا، جس کا ذکر ان کے انتقال کے بیان میں ہے، الزائمر کے بعد ترقی پذیر ڈیمینشیا کی دوسری سب سے عام قسم ہے۔ اس میں دماغ میں غیر معمولی پروٹین جمع ہو جاتے ہیں، جو یادداشت، سوچ اور حرکت کو متاثر کرتے ہیں۔ اسٹیورٹ کے اہل خانہ نے ان کی دیکھ بھال کرنے والوں کے لیے وسائل کی فہرست بھی شیئر کی ہے — ایک آخری اشارہ کہ ان کی زندگی کا پیغام صرف اداکاری نہیں، انسانیت تھی۔
کیپٹن پیکارڈ کا مشہور حکم آج بھی گونجتا ہے: “میک اٹ سو”۔ اس بار یہ حکم خود ان کے لیے ہے — اور وہ اسے پورا کر کے جا چکے ہیں۔

قارئین کے تبصرے (0)