دنیا کے معروف طبی جریدے دی لینسٹ کی تازہ رپورٹ نے ایک خوفناک ریکارڈ درج کیا ہے: سن 2023 میں گرمی سے منسلک اموات کی تعداد 7 لاکھ 10 ہزار تک پہنچ گئی، جو اس رپورٹ کی تاریخ میں کسی ایک سال کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان اموات میں سے 71.5 فیصد براہ راست انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہوئیں۔ یہ تعداد اس سال ملیریا یا ایچ آئی وی سے ہونے والی اموات سے بھی زیادہ ہے۔
یہ رپورٹ “2026 لینسٹ کاؤنٹ ڈاؤن آن ہیلتھ اینڈ کلائمیٹ چینج” کے نام سے شائع ہوئی ہے، جسے یونیورسٹی کالج لندن کی قیادت میں عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے 30 سے زیادہ ممالک کے 146 محققین نے تیار کیا ہے۔ اس میں صحت اور موسمیات سے جڑے 54 اشاریوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2016 سے 2023 کے درمیان گرمی سے اوسطاً 5 لاکھ 40 ہزار 800 اموات ہر سال ہوئیں، جن میں سے 68 فیصد (تقریباً 3 لاکھ 69 ہزار 900) موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے تھیں۔ اس سے پہلی دہائی (2006 سے 2015) میں یہ شرح 55 فیصد تھی۔ مجموعی طور پر 2016 سے 2023 کے درمیان موسمیاتی تبدیلی تقریباً 30 لاکھ گرمی سے متعلق اموات کی ذمہ دار ٹھہری۔
معاشی نقصان بھی اتنا ہی بڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں شدید گرمی کی وجہ سے دنیا کو ممکنہ آمدنی میں 1.07 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا، جو عالمی پیداوار کا 0.91 فیصد ہے۔ یہ تیسرا مسلسل سال ہے جب گرمی سے ہونے والا آمدنی کا نقصان ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔
رپورٹ کے مصنفین کا مطالبہ صرف اعداد بتانے تک محدود نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کو باقاعدہ طور پر “عالمی صحت ایمرجنسی” قرار دیا جائے، اور عالمی ادارہ صحت ایک نیا آلہ کار بنائے جس سے تمام ممالک کا ردعمل مربوط ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت کو موسمیاتی پالیسی کے ہر فیصلے — اخراج کے اہداف سے لے کر موسمیاتی فنڈنگ تک — کا مرکزی پیمانہ بنایا جائے۔ یہ واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک ایسا اعلان نہیں کیا ہے؛ یہ رپورٹ کا مطالبہ ہے، نہ کہ کوئی فیصلہ۔
پاکستان کے لیے یہ رپورٹ خاص طور پر اہم ہے۔ ڈان کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم سمیت ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2022 کے سیلابوں نے صحت کے نظام کو جو نقصان پہنچایا تھا، وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا — اسپتالوں کو نقصان پہنچا تھا، ادویات کی فراہمی متاثر ہوئی تھی، اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ماہرین کا مطالبہ ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے محفوظ اسپتال بنائے جائیں، بروقت وارننگ کا نظام مضبوط کیا جائے، اور گرمی سے بچاؤ کے عملی منصوبے تیار کیے جائیں۔ جرمن واچ کے کلائمیٹ رسک انڈیکس 2025 میں پاکستان کو سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک قرار دیا گیا تھا۔
یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ “ایمرجنسی” کا لفظ صرف علامتی نہیں ہے۔ جب کسی مسئلے کو عالمی صحت ایمرجنسی قرار دیا جاتا ہے، تو اس کے لیے فنڈنگ، تحقیق اور بین الاقوامی تعاون کے دروازے کھلتے ہیں — جیسا کہ وباؤں کے معاملے میں ہوتا ہے۔ لینسٹ کے محققین کا استدلال یہ ہے کہ گرمی کی اموات اب وبا جیسی رفتار سے بڑھ رہی ہیں، لیکن ان کا علاج ابھی تک ملک بہ ملک، ٹکڑوں میں ہو رہا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک، جو اس بحران میں سب سے کم حصہ ڈالنے کے باوجود سب سے زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں، انہی مربوط کوششوں کے سب سے زیادہ منتظر ہیں۔
رپورٹ 9 نومبر کو ترکی کے شہر انتالیا میں شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس (COP31) سے پہلے جاری کی گئی ہے۔ وہ کانفرنس اب اس سوال کا پہلا امتحان ہوگی کہ کیا دنیا گرمی کی ان اموات کو محض اعداد سمجھتی ہے، یا واقعی ایک ایمرجنسی۔

قارئین کے تبصرے (0)