Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

پٹرول 2.93 روپے سستا، ڈیزل 61 پیسے مہنگا: 13 اکتوبر سے نئی قیمتیں نافذ

جی ٹی روڈ پر پی ایس او پٹرول پمپ کا قیمت بورڈ

اسلام آباد: پٹرولیم ڈویژن نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نئی ردوبدل کا اعلان کر دیا ہے۔ اوگرا کی نظرثانی شدہ ایکس ڈپو قیمتوں کے مطابق پٹرول 2 روپے 93 پیسے فی لیٹر سستا ہو گیا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 61 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق منگل 13 اکتوبر سے ہو گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق موٹر اسپرٹ (پٹرول) کی نئی قیمت 395 روپے 37 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس سے پہلے پٹرول 398 روپے 30 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔ دوسری جانب ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 396 روپے 24 پیسے سے بڑھا کر 396 روپے 85 پیسے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

قیمتوں میں یہ تبدیلی اوگرا کے روزانہ قیمتوں کے نظام کے تحت کی گئی ہے۔ اس نظام کے تحت اوگرا پیر سے جمعے تک ہر روز ایکس ڈپو قیمتوں کا اعلان کرتا ہے، جو پلیٹس کی شرحوں، پریمیم اور دیگر اخراجات کے سات روزہ اوسط کی بنیاد پر طے ہوتی ہیں۔ جمعے کو جاری ہونے والی قیمت ہفتے اور اتوار کو بھی برقرار رہتی ہے۔ پٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ نظام ملکی قیمتوں کو عالمی منڈی سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، تاکہ ایک ساتھ بڑے جھٹکے کے بجائے قیمتوں میں بتدریج تبدیلی آئے۔

اس سے پہلے 9 اکتوبر کی نظرثانی میں پٹرول 398.96 روپے اور ڈیزل 395.72 روپے فی لیٹر مقرر ہوا تھا، اور روزانہ نظام کے کام کرنے کا طریقہ بھی وہیں تفصیل سے بتایا گیا تھا۔ اس سے پہلے ملک میں پٹرولیم قیمتوں کا اعلان ہر پندرہ دن بعد ہوتا تھا، جس سے ایک ساتھ بڑی تبدیلی کا جھٹکا لگتا تھا۔ روزانہ نظام میں تبدیلیاں چھوٹی ہوتی ہیں لیکن صارف کو ہر روز نئی قیمت دیکھنی پڑتی ہے — یہی وجہ ہے کہ اب پمپ پر جانے سے پہلے تازہ نرخ معلوم کرنا عادت بنانا ہو گی۔

بین الاقوامی منڈی میں پیر کے روز برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا اور یہ 106.76 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔ سعودی عرب پر حالیہ حملوں کے بعد تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، اور یہی وہ اوسط ہے جو اوگرا کے حساب کتاب میں جا کر اگلے دنوں کی ملکی قیمتوں کا تعین کرے گی۔ عالمی قیمتوں کے ساتھ ساتھ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بھی ایکس ڈپو قیمت میں کردار ادا کرتی ہے، اس لیے صرف خام تیل نہیں بلکہ کرنسی مارکیٹ پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔

عام صارف کے لیے اس اعلان کے دو رخ ہیں۔ پٹرول سستا ہونے سے موٹر سائیکل اور گاڑی چلانے والوں کو براہ راست ریلیف ملے گا — ہفتے میں ایک بار ٹینک بھروانے والے گھرانے کو 2.93 روپے فی لیٹر کی کمی فوراً محسوس ہو گی۔ لیکن ڈیزل مہنگا ہونے کا اثر بالواسطہ ہر گھر تک پہنچے گا۔ ملک میں مال برداری کا بڑا حصہ ڈیزل ٹرکوں پر ہوتا ہے، اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھنے سے آنے والے ہفتوں میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔ یہی ایندھن کی قیمتوں کا پرانا مخمصہ ہے — پمپ پر ریلیف، بازار میں دباؤ۔

روزانہ نظام کے تحت اگلی قیمت کا اعلان منگل کی شام متوقع ہے، جو بدھ سے نافذ ہو گی۔ برینٹ کی بڑھتی قیمت کو دیکھتے ہوئے نہ موٹر سائیکل سوار اور نہ ٹرانسپورٹر یہ سمجھیں کہ آج کے نرخ زیادہ دن قائم رہیں گے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *