Monday, 19 October 2026
بریکنگ نیوز
شوبز و ثقافت

بالی وڈ کے مشہور اداکار نانا پاٹیکر 75 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

بالی وڈ کے مشہور اداکار نانا پاٹیکر کی فائل تصویر

نئی دہلی: ہندوستانی سنیما کا ایک عظیم باب بند ہو گیا۔ بالی وڈ کے مشہور اداکار اور فلم ساز نانا پاٹیکر جمعرات کی صبح گوا میں اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے کے باعث انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 75 سال تھی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق پاٹیکر گھر پر اپنے بھتیجے پرساد پاٹیکر کے ساتھ تھے۔ گزشتہ رات سے انہیں سر میں درد کی شکایت تھی۔ صبح وہ بے ہوش حالت میں پائے گئے، جس کے بعد انہیں فوری طور پر منی پال اسپتال پہنچایا گیا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک مسلسل سی پی آر کے ذریعے ان کی زندگی بچانے کی کوشش کی، مگر کامیابی نہ ہو سکی۔ شعبہ آنکولوجی کے سربراہ ڈاکٹر شیکھر سلکر نے خبر رساں ادارے اے این آئی کو بتایا کہ پاٹیکر کو صبح 5 بج کر 20 منٹ پر مردہ قرار دے دیا گیا۔ ان کے مطابق ایک میڈیکو لیگل کیس درج کیا گیا ہے اور پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ اداکار کے بیٹے ملہار پاٹیکر اس وقت پونے میں تھے اور خبر ملتے ہی گوا کے لیے روانہ ہو گئے۔

نانا پاٹیکر — جن کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا — یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹرا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مراٹھی تھیٹر سے اداکاری کا سفر شروع کیا اور 1978 میں فلم “گمن” سے بالی وڈ میں قدم رکھا۔ ستر اور اسی کی دہائی میں انہوں نے کئی آرٹ فلموں میں کام کیا، جن میں میرا نائر کی ایوارڈ یافتہ فلم “سلام بمبے” بھی شامل ہے، جس کے بعد وہ مین اسٹریم سنیما کی طرف آ گئے۔

اپنی دھماکہ دار آواز، جاندار ڈائیلاگ ڈیلیوری اور غیر روایتی کرداروں کے انتخاب کی بدولت انہوں نے تین قومی فلم ایوارڈز حاصل کیے — “پریندا” (1990) اور “اگنی ساکشی” (1997) میں بہترین معاون اداکار اور “کرنتی ویر” (1995) میں بہترین اداکار کا اعزاز۔ 2013 میں بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری سے نوازا، اور 2016 میں مراٹھی فلم “نٹ سمراٹ” پر انہیں فلم فیئر کا بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔

سنگین کردار ہوں یا کامیڈی، نانا نے ہر صنف میں اپنی چھاپ چھوڑی۔ “شکتی: دی پاور” (2002)، “اب تک چھپن” (2004)، “اپہرن” (2005) اور “ٹیکسی نمبر 9211” (2006) میں ان کے شدید انداز نے ناقدین کو حیران کیا، جبکہ “ویلکم” (2007) اور اس کے سیکوئل “ویلکم بیک” (2015) میں گینگسٹر “ادے شیٹھی” کا کردار آج بھی مداحوں کے دلوں اور انٹرنیٹ کے میمز میں زندہ ہے۔ سیاسی تھرلر “راجنیتی” (2010) میں ان کے کردار کو بھی سراہا گیا، اور وہ حالیہ کامیڈی “ہاؤس فل 5” میں بھی نظر آئے۔ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران وہ بھارتی فوج کے ساتھ خدمات بھی انجام دے چکے تھے۔

ان کے انتقال پر فلم انڈسٹری میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ ان کے ساتھی اداکار اکشے کمار نے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا: “وہ ان نایاب اداکاروں میں سے ایک تھے جنہیں توجہ حاصل کرنے کے لیے زیادہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ آواز، وہ شدت، ہر پرفارمنس میں وہ سچائی — وہ بالکل اپنے ہی تھے۔” رتیش دیشمکھ نے کہا کہ اس خبر پر وہ “الفاظ سے آگے” دکھ کا اظہار کرتے ہیں۔

یہ خبر کیوں اہم ہے؟ نانا پاٹیکر صرف ایک اداکار نہیں تھے — وہ اس دور کے نمائندہ تھے جب بالی وڈ میں کردار اسٹار سے بڑے ہوا کرتے تھے۔ ان کی اداکاری میں وہ کڑوا سچ تھا جو ناظرین کو بے چین کرتا تھا، اور اسی لیے ان کے ڈائیلاگ نسلوں تک یاد رکھے گئے۔ پاکستان میں بھی ان کی فلموں کے بے شمار مداح ہیں؛ “ویلکم” جیسی فلمیں یہاں ٹیلی ویژن اور کیبل پر بارہا دکھائی گئیں۔ ان کا جانا نہ صرف ہندوستانی بلکہ پورے جنوبی ایشیائی سنیما کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے — اور آنے والے دنوں میں ان کے کام پر نئے سرے سے غور و فکر کا موقع بھی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *