ڈینگی کے بارے میں ایک عجیب بات برسوں سے ڈاکٹروں کو پریشان کر رہی تھی: پہلی بار متاثر ہونے والا شخص عام طور پر ہلکی بیماری کے ساتھ ٹھیک ہو جاتا ہے، مگر دوسری بار مختلف قسم کے وائرس سے متاثر ہونے پر بیماری کہیں زیادہ شدید کیوں ہو جاتی ہے؟ 28 اکتوبر کو جریدے “سائنس ٹرانسلیشنل میڈیسن” میں شائع ہونے والی ایک تحقیق نے اس سوال کا ایک ٹھوس جواب پیش کر دیا ہے۔
تحقیق کی سربراہی کیملا اوڈیو اور ان کی ٹیم نے کی۔ انہوں نے 45 صحت مند بالغ رضاکاروں کو کنٹرول شدہ ماحول میں ڈینگی وائرس کی ایک کمزور قسم (ٹائپ 3) دی۔ رضاکار تین گروپوں میں تھے: وہ لوگ جو کبھی ڈینگی کا شکار نہیں ہوئے تھے، وہ جو ایک بار کسی دوسری قسم سے متاثر ہو چکے تھے، اور وہ جو کئی بار متاثر ہو چکے تھے۔ اس طرح ٹیم بیماری کے آغاز سے ہی وائرس کی مقدار، اینٹی باڈیز اور مدافعتی خلیوں کی نگرانی کر سکی۔
نتیجہ حیران کن تھا۔ جن رضاکاروں کی پرانی اینٹی باڈیز نے وائرس کو روکنے کے بجائے اس کی افزائش میں مدد کی، ان میں وائرس کی مقدار سب سے زیادہ رہی، اور ان کے سی ڈی 8 ٹی خلیے اور اینٹی باڈیز کمزور پڑتے گئے۔ اس کے برعکس، جن لوگوں میں وائرس کے پروٹین این ایس 1 کے خلاف اینٹی باڈیز زیادہ تھیں، ان کا مدافعتی ردعمل زیادہ متوازن رہا اور وائرس کی مقدار کم رہی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز کی وبائی امراض کی ماہر لیا کاٹزلنک، جو اس تحقیق کی شریک مصنف ہیں، کہتی ہیں کہ اس حیاتیات کو سمجھنا بہتر ویکسین بنانے میں مدد دے گا۔
ڈینگی کی چار قسمیں (سیروٹائپس) ہوتی ہیں۔ پہلی ویکسین ڈینگواکسیا نے ان بچوں میں شدید ڈینگی کا خطرہ بڑھا دیا تھا جو پہلے کبھی متاثر نہیں ہوئے تھے اور بعد میں وائرس کا شکار ہوئے۔ نئی ویکسین کیوڈینگا (ٹی اے کے 003) بھی ہر انفیکشن نہیں روکتی، اور اس کا تحفظ قسم اور مریض کی انفیکشن کی تاریخ کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈینگی کی ویکسین بنانا اتنا مشکل رہا ہے: ویکسین کو چاروں قسموں کے خلاف تحفظ دینا ہوتا ہے، ورنہ وہ خود دوسرے انفیکشن جیسا خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔
یہ تحقیق پاکستان جیسے ملکوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جہاں ڈینگی ہر سال مون سون کے بعد لوٹتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق جنوری سے اگست 2026 کے دوران 97 ملکوں میں 22 لاکھ کیسز اور 1100 سے زیادہ اموات رپورٹ ہوئیں، اور دنیا کی تقریباً نصف آبادی ڈینگی کے خطرے میں ہے۔ اس نئی تحقیق کا عملی پیغام دوہرا ہے: پہلا، ویکسین کی تیاری میں اب این ایس 1 پروٹین کے خلاف مدافعت کو خاص اہمیت دی جائے گی، اور دوسرا، مریضوں کی نگرانی میں یہ جاننا اہم ہو گا کہ مریض پہلے کس قسم سے متاثر ہو چکا ہے۔
یہ تحقیق کوئی علاج نہیں ہے، اور 45 رضاکاروں کا تجربہ بڑے پیمانے پر نتائج کی ضمانت نہیں دیتا۔ مگر یہ پہلی بار ہے کہ انسانی جسم میں ڈینگی کے دوسرے انفیکشن کی شدت کا طریقہ کار اتنی وضاحت سے دیکھا گیا ہے۔ اگلا مرحلہ یہ ہو گا کہ اس علم کو ویکسین کے نئے ڈیزائن میں بدلا جائے — اور اس وقت تک مچھروں سے بچاؤ، کھڑا پانی ختم کرنا اور بخار کی صورت میں فوری ٹیسٹ ہی سب سے قابل اعتماد دفاع ہے۔
متعلقہ خبریں: گرمی سے ریکارڈ اموات اور کینیا میں ایبولا کا پہلا کیس۔

قارئین کے تبصرے (0)