Saturday, 31 October 2026
بریکنگ نیوز
سائنس و ٹیکنالوجی

پلوٹو سے بھی آگے ایک نئی دنیا: روبن آبزرویٹری نے نظام شمسی کے چھٹے بونے سیارے کا امیدوار ڈھونڈ نکالا

ویرا روبن آبزرویٹری کی دوربین کا ماؤنٹ

دریافت کی ٹائم لائن: فروری 2016 — یہ جسم پہلی بار ڈارک انرجی کیمرے کی پرانی تصاویر میں موجود تھا، مگر کسی نے اسے پہچانا نہیں۔ 4 مارچ تا 11 جولائی 2026 — روبن آبزرویٹری نے اسے 20 راتوں میں 30 بار دیکھا۔ 13 اکتوبر 2026 کی شام — میتھیو ہولمین نے تلاشی کوڈ چلایا تو ایک غیر معمولی روشن نقطہ سامنے آیا۔ 27 اکتوبر 2026 — انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین کے مائنر پلینٹ سینٹر نے دریافت کا اعلان کیا، اور اسپوکین میں سائنس دانوں نے نتائج پیش کیے۔

چلی میں واقع ویرا سی روبن آبزرویٹری نے نظام شمسی کے بیرونی کنارے پر ایک ایسا برفیلا جسم دریافت کیا ہے جو پلوٹو کے خاندان میں شامل ہونے کا مضبوط امیدوار ہے۔ اسے عارضی نام 2026 ED138 دیا گیا ہے۔ یہ اس وقت سورج سے تقریباً 46 فلکیاتی اکائیوں (ایک اکائی = زمین اور سورج کا اوسط فاصلہ) کے فاصلے پر ہے، جبکہ پلوٹو کا اوسط فاصلہ 40 اکائیاں ہے۔

دریافت ہارورڈ اینڈ اسمتھسونین سینٹر فار ایسٹروفزکس کے سینئر ایسٹروفزسسٹ میتھیو ہولمین نے کی، جو روبن آپریشنز ٹیم کے رکن ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھی کیون نیپئر کے ساتھ بنائے گئے ایک تلاشی کوڈ سے روبن کے اعداد و شمار چھانے تو ایک متحرک نقطہ اس کی دوری کے لحاظ سے غیر معمولی حد تک روشن نکلا۔ واشنگٹن یونیورسٹی کے ماریو یورچ، جو روبن کی نظام شمسی ٹیم کے سربراہ ہیں، نے روبن کی فہرستوں میں مزید 20 مشاہدات ڈھونڈے، اور پرانی تصاویر میں یہ جسم 2016 تک پیچھے جا کر ملا — یوں اس کے مدار کا دس سال سے زیادہ کا ریکارڈ بن گیا۔

ابتدائی تجزیے کے مطابق اس جسم کا قطر 600 سے 1500 کلومیٹر کے درمیان ہے۔ اگر یہ حد درست نکلی تو یہ نیپچون سے آگے دریافت ہونے والے سب سے بڑے بونے سیاروں کے امیدواروں میں سے ایک ہو گا، اور تقریباً 20 سال میں ملنے والا سب سے بڑا ٹرانس نیپچونین جسم ہو گا۔ اس کا مدار 24.5 ڈگری جھکا ہوا ہے اور سورج سے اس کا فاصلہ 36.86 سے 49.04 اکائیوں کے درمیان رہتا ہے — یعنی اس کا پورا مدار پلوٹو کے فاصلے کی حد کے اندر آتا ہے، صرف اس سال یہ پلوٹو سے زیادہ دور ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ جسم اربوں سال پہلے سورج کے قریب بنا تھا اور نیپچون کی کشش نے اسے باہر دھکیل دیا تھا۔

ایک اہم وضاحت ضروری ہے: یہ ابھی بونا سیارہ نہیں کہلایا، صرف امیدوار ہے۔ بونا سیارہ کہلانے کے لیے کسی جسم کا اتنا بڑا ہونا ضروری ہے کہ اپنی کشش سے گول شکل اختیار کر لے، اور اس کے لیے انفراریڈ مشاہدات سے اس کے اصل حجم کی تصدیق کرنا ہو گی۔ اگر تصدیق ہو گئی تو یہ انٹرنیشنل آسٹرونومیکل یونین کے تسلیم شدہ پانچ بونے سیاروں — پلوٹو، سیرس، ایرس، ہاؤمیا اور میک میک — کے بعد چھٹا ہو گا۔

اس دریافت کی اصل اہمیت روبن آبزرویٹری کی طاقت میں ہے۔ اس کا سمونئی سروے ٹیلی اسکوپ جون میں دس سالہ سروے کے باضابطہ آغاز سے پہلے ہی 11,000 سے زیادہ نئے سیارچے ڈھونڈ چکا تھا۔ ED138 اس سروے کے آغاز سے پہلے کی جانچ کے دوران ملا ہے، اور سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا امیدوار ضرور ہے، آخری ہرگز نہیں۔ آنے والے برسوں میں نظام شمسی کا نقشہ اس سے کہیں زیادہ بھرپور ہو سکتا ہے جتنا ہم نے اب تک سمجھا ہے — اور یہ نقشہ ایک ایسی دوربین بنا رہی ہے جو آسمان کو پہلے کبھی نہ دیکھی گئی رفتار سے چھان رہی ہے۔

متعلقہ خبریں: گوگل کا سن کیچر منصوبہ اور گوگل کا SynthID Detector۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *