پراجیکٹ سن کیچر کیا ہے؟
یہ گوگل کا ایک تجرباتی منصوبہ ہے جس کا خواب بڑا ہے: خلا میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز بنانا۔ 2 اکتوبر 2026 کو اس منصوبے کا پہلا پروٹوٹائپ سیٹلائٹ خلا میں بھیجا گیا جو گوگل کے اے آئی ٹینسر پروسیسنگ یونٹس (ٹی پی یوز) لے کر گیا ہے۔ یہ سیٹلائٹ اسپیس ایکس کے ٹرانسپورٹر-18 رائیڈ شیئر مشن کے ذریعے کیلیفورنیا کے وینڈن برگ اسپیس فورس بیس سے لانچ کیا گیا اور پلینٹ لیبز کے سیٹلائٹ پر سوار تھا۔ گوگل نے تصدیق کی ہے کہ سیٹلائٹ سے رابطہ قائم ہو گیا ہے اور یہ منصوبے کے مطابق کام کر رہا ہے۔
خلاء میں ڈیٹا سینٹر کیوں؟ زمین پر کیا مسئلہ ہے؟
مسئلہ بجلی اور پانی کا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز بے پناہ بجلی کھاتے ہیں اور ٹھنڈا رکھنے کے لیے بے تحاشہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں ان کے خلاف مقامی مزاحمت بڑھ رہی ہے: لوگ نہیں چاہتے کہ ان کے شہر کی بجلی اور پانی کسی ٹیک کمپنی کے سرورز پر خرچ ہو۔ گوگل کا جواب ہے: ڈیٹا سینٹر کو زمین سے ہی اٹھا کر خلا میں لے جاؤ، جہاں توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ — سورج — مفت اور وافر ہے۔
شمسی توانائی خلا میں 8 گنا زیادہ کیسے؟
زمین پر شمسی پینل فضا، بادلوں اور رات کی وجہ سے محدود بجلی بناتے ہیں۔ نچلے زمینی مدار میں نہ فضا رکاوٹ ہے، نہ بادل، اور سورج کی روشنی تقریباً مسلسل ملتی ہے۔ گوگل کے منصوبے کے مطابق سیٹلائٹس زمین سے تقریباً 400 میل اوپر ایسے مربوط جھرمٹ میں رہیں گے کہ 90 فیصد سے زائد وقت سورج کی روشنی میں رہیں، اور آپس میں انتہائی تیز لیزر لنکس سے جڑ کر ایک ہی ڈیٹا سینٹر کی طرح کام کریں۔ اندازہ ہے کہ وہاں کے شمسی پینل زمین کے مقابلے میں 8 گنا تک زیادہ بجلی بنا سکتے ہیں۔
سب سے بڑی تکنیکی مشکلات کیا ہیں؟
فہرست لمبی ہے۔ پہلا امتحان: کیا ٹی پی یو چپس لانچ کے دھچکے برداشت کر پائیں گے؟ دوسرا: کائناتی شعاعیں — خلا میں توانائی سے بھرپور ذرات میموری میں صفر کو ایک میں بدل سکتے ہیں (بٹ فلپس)، جو حساب کتاب بگاڑ سکتا ہے۔ تیسرا: درجہ حرارت کے شدید اتار چڑھاؤ۔ اور چوتھا، سب سے دلچسپ: خلا میں ہوا نہیں ہوتی، تو گرمی نکالنے کے لیے پنکھے کام نہیں کریں گے — اس کے لیے ہیٹ پائپس اور ریڈی ایٹرز جیسے نظام درکار ہوں گے۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کے جواب یہ پروٹوٹائپ دے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
گوگل کا اگلا قدم 2027 میں ایک فالو اپ مشن ہے جس میں دو سیٹلائٹس بھیجے جائیں گے تاکہ ان کے درمیان ہائی بینڈوڈتھ آپٹیکل لیزر لنکس کا تجربہ کیا جا سکے۔ اگر یہ کامیاب ہوا تو “خلائی ڈیٹا سینٹر” سائنس فکشن سے نکل کر انجینئرنگ کے منصوبے میں بدل جائے گا۔
اس کہانی کا اصل پہلو ٹیکنالوجی سے بڑا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی دوڑ اب صرف بہتر الگورتھم کی دوڑ نہیں رہی — یہ توانائی کی دوڑ بن چکی ہے۔ جو کمپنی سستی اور وافر بجلی حاصل کر لے گی، وہی اے آئی کی اگلی نسل کی مالک ہوگی۔ گوگل خلا کی طرف دیکھ رہا ہے کیونکہ زمین پر بجلی کے بل اور پانی کے تنازعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ خلائی ڈیٹا سینٹر بنیں گے یا نہیں — سوال یہ ہے کہ کون پہلے بنائے گا، اور اس کی قیمت کون چکائے گا۔

قارئین کے تبصرے (0)