Sunday, 1 November 2026
بریکنگ نیوز
صحت

آنتوں کا ایک عام جراثیم بڑی آنت کے کینسر سے کیسے جڑا؟ 20 سال پرانا معمہ سلجھ گیا

لیبارٹری میں خوردبین سے تحقیق کرتے محقق کا منظر

سوال: یہ دریافت کیا ہے؟ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے یہ معلوم کر لیا ہے کہ آنتوں میں پایا جانے والا ایک عام جراثیم، بیکٹیرائیڈز فراجیلس، بڑی آنت کے کینسر کو کیسے ہوا دیتا ہے۔ یہ جراثیم صحت مند افراد میں سے تقریباً 20 فیصد کی آنتوں میں موجود ہوتا ہے۔ اس کا زہر، جسے بی ایف ٹی کہتے ہیں، آنت کی حفاظتی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے، دائمی سوزش پیدا کرتا ہے اور ٹیومر بننے میں مدد دیتا ہے۔

سوال: معمہ کیسے سلجھا؟ 2009 میں ہی سینئر مصنفہ سنتھیا سیئرز اور ان کے ساتھیوں نے ثابت کیا تھا کہ یہ زہر آنت کے ٹیومر کو بڑھا سکتا ہے، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ زہر خلیوں سے جڑتا کہاں ہے۔ اب جینوم وائیڈ کرسپر اسکریننگ کے ذریعے ٹیم نے کلاؤڈن-4 نامی پروٹین کو اس زہر کا “ڈاکنگ پوائنٹ” قرار دیا ہے — یہ وہ پروٹین ہے جو آنت کے خلیوں کے درمیان مضبوط جوڑ قائم رکھتا ہے۔ جب زہر اس سے جڑتا ہے تو یہ حفاظتی دیوار کمزور ہو جاتی ہے۔

سوال: علاج کی امید کیا ہے؟ محققین نے کلاؤڈن-4 کی نقل پر مبنی ایک “مالیکیولر ڈیکوائے” بنایا ہے — ایک ایسا جال جو زہر کو صحت مند خلیوں تک پہنچنے سے پہلے ہی پکڑ لیتا ہے۔ چوہوں پر تجربات میں اس ڈیکوائے نے زہر سے ہونے والے نقصان کو روک دیا۔ یہ تحقیق جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے اور اسے جزوی طور پر امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی مدد حاصل تھی۔

سوال: مریضوں کے لیے اس کا مطلب کیا ہے؟ ابھی یہ ابتدائی مرحلے کی تحقیق ہے — چوہوں تک محدود، انسانوں میں آزمائش سے بہت دور۔ کسی بھی انسانی دوا تک پہنچنے کے لیے محفوظ اور مستحکم بایولوجک یا چھوٹے مالیکیول کی دوا بنانا، پھر سخت کلینیکل ٹرائلز سے گزرنا ضروری ہوگا۔ اس لیے اس خبر کو “کینسر کا علاج دریافت” کے طور پر پڑھنا غلط ہوگا۔ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ سائنسدانوں کو پہلی بار وہ درست ہدف مل گیا ہے جس پر مستقبل کی روک تھام کی حکمت عملی بن سکتی ہے — اور بڑی آنت کے کینسر جیسی بیماری میں، جہاں یہاں پڑھیں بھی یہی بتاتا ہے کہ انفیکشن اور کینسر کا رشتہ گہرا ہے، ہر درست ہدف قیمتی ہے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *