جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا نے ایک خوفناک سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ملک کی وزارت صحت کے ہفتے کو جاری کردہ تازہ اعداد کے مطابق اس وبا سے اب تک 5,026 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد 10,351 تک پہنچ گئی ہے۔ اعداد کے مطابق 2,788 مریض صحت یاب ہوئے ہیں، یعنی تقریباً ہر دوسرا مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے — شرح اموات 48.6 فیصد ہے۔
یہ وبا مئی کے وسط میں اعلان کی گئی تھی اور صرف 168 دن میں کانگو کی تاریخ کی مہلک ترین ایبولا وبا بن گئی۔ اس سے پہلے ملک کی سب سے ہلاکت خیز وبا 2018 سے 2020 کے درمیان پھیلی تھی جس میں 2,299 افراد ہلاک ہوئے تھے — موجودہ وبا اس سے دو گنا سے زیادہ جانوں کا نقصان کر چکی ہے۔ عالمی سطح پر یہ تاریخ کی دوسری بڑی ایبولا وبا ہے؛ پہلے نمبر پر 2014 سے 2016 تک مغربی افریقہ کی وبا ہے جس میں 28,616 کیسز اور 11,310 اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔
وبا کا مرکز ملک کے شمال مشرقی صوبے اتوری ہے، جو ایک تنازع زدہ علاقہ ہے اور جہاں صحت کی ٹیموں کی رسائی اور مریضوں کی نگرانی دونوں مشکل ہیں۔ وائرس اب کانگو کے 26 میں سے 8 صوبوں تک پھیل چکا ہے۔ اس وبا کی وجہ وائرس کی نایاب قسم بونڈی بوگیو ہے، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں — یہی وہ فرق ہے جو اس وبا کو پچھلی وباؤں سے زیادہ خطرناک بناتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق تقریباً ایک تہائی اموات ایسی ہوئیں جن میں مریض کو کوئی طبی سہولت ہی میسر نہ آ سکی۔ افریقہ کے مراکز برائے امراض کنٹرول (افریقہ سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ژان کاسیا نے خبردار کیا ہے کہ بین الاقوامی برادری اس وقت تک محفوظ نہیں جب تک تیاری اور علاج کی صلاحیت نہ بڑھائی جائے۔ انہوں نے اس وبا کا موازنہ کووڈ سے کرتے ہوئے کہا کہ جو وائرس ایک جگہ شروع ہوتا ہے وہ سرحدیں نہیں پہچانتا۔
وبا کانگو کی سرحدوں سے باہر بھی نکل چکی ہے۔ کینیا میں 9 کیسز اور 2 اموات رپورٹ ہوئی ہیں، یوگنڈا میں 20 کیسز اور 2 اموات کے بعد جولائی کے آخر میں وبا کے خاتمے کا اعلان کیا گیا تھا جس کی عالمی ادارہ صحت نے اگست میں تصدیق کی تھی، جبکہ نائیجیریا میں بھی کیسز سامنے آئے ہیں۔ کینیا کا معاملہ پاکستان کے قارئین کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ اکتوبر کے آغاز میں کانگو سے لوٹنے والے ایک شہری کی کینیا میں موت کے بعد وہاں ایبولا کا پہلا کیس سامنے آیا تھا۔
امید کی ایک کرن ویکسین کی آزمائش ہے۔ 23 اکتوبر کو بونیا میں تومائنی نامی آزمائشی منصوبہ شروع ہوا جس میں رنگ ویکسینیشن کے طریقے سے ہزاروں خوراکیں دی جا رہی ہیں۔ ایک جرمن لیبارٹری تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ موجودہ ایربو ویکسین سے پیدا ہونے والے مدافعتی خلیے بونڈی بوگیو وائرس کو پہچان سکتے ہیں، لیکن یہ لیبارٹری نتیجہ ابھی اس بات کا ثبوت نہیں کہ ویکسین بیماری یا موت سے بچاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بونڈی بوگیو کے لیے مخصوص ویکسین 2027 کے وسط سے پہلے عام دستیاب ہونے کا امکان کم ہے۔
یہ سنگ میل صرف ایک عدد نہیں — یہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ دنیا کی توجہ ہٹتے ہی ایک وبا کس طرح خاموشی سے ہزاروں جانیں لے سکتی ہے۔ کانگو میں تنازع، کمزور صحت کا نظام اور ویکسین کی عدم موجودگی مل کر ایسی صورتحال بناتے ہیں جس میں وبا کا پھیلاؤ روکنا ہر گزرتے ہفتے کے ساتھ مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کے لیے سبق یہی ہے کہ وباؤں کی نگرانی اور تیاری اس وقت کرنی ہوتی ہے جب وہ دور نظر آتی ہیں، نہ کہ جب وہ دروازے پر پہنچ جائیں۔
مزید پڑھیں: کینیا میں ایبولا کے کیسز بڑھ کر 7 ہو گئے اور ایبولا: کینیا کیس کے بعد عالمی ادارہ صحت کی ہدایت

قارئین کے تبصرے (0)