کینیا میں ایبولا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق کے ایک دن بعد عالمی ادارہ صحت (WHO) نے دنیا بھر کے ممالک سے کہا ہے کہ کینیا، کانگو اور یوگنڈا پر سفری یا تجارتی پابندیاں عائد نہ کی جائیں۔
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس کا کہنا تھا کہ ایسی پابندیاں وائرس کے پھیلاؤ کو نہیں روکتیں؛ وہ صرف متاثرہ ملکوں کی معیشت کو نقصان پہنچاتی ہیں اور ان حکومتوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہیں جو کیسز کی بروقت اور شفاف رپورٹنگ کرتی ہیں۔ انہوں نے کینیا کی شفافیت کو سراہا۔
دوسری طرف نیروبی میں حکام متحرک ہیں — صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور رابطوں کی تلاش تیز کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق مریض کے قریبی رابطوں کو قرنطینہ میں رکھا گیا ہے، متعلقہ طبی کارکنوں کو نگرانی میں رکھا گیا ہے، اور متعلقہ پرواز کے مسافروں سے رابطے کی کوششیں جاری ہیں۔ افریقہ سی ڈی سی نے بھی اپنی اعلیٰ سطحی ٹیم کینیا روانہ کر دی ہے۔
کینیا کے صدر ولیم روتو نے بدھ کے روز بتایا کہ متوفی کے کم از کم آٹھ قریبی رشتہ داروں اور 21 طبی کارکنوں کو قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل پیٹرک آموتھ کے مطابق تمام افراد 21 روز تک الگ تھلگ رہیں گے اور ایبولا کا ٹیسٹ منفی آنے پر ہی انھیں رہا کیا جائے گا۔ ادھر جامبو جیٹ نے اپنے سرکاری بیان میں تصدیق کی ہے کہ مریض کمپالا سے نیروبی آنے والی فلائٹ نمبر JM 8523 میں سوار تھا — اسی پرواز کے 23 مسافروں اور عملے کے چار ارکان کی تلاش جاری ہے۔ دوسری جانب عالمی ادارۂ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبرییسس نے بدھ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کینیا کو سرحدیں بند کرنے کے خلاف مشورہ دیا: ان کے الفاظ میں، “جو ملک ایمانداری سے کیس سامنے لائے اسے پابندیوں اور تنہائی کی سزا نہیں ملنی چاہیے — شفافیت کو انعام ملنا چاہیے، سزا نہیں۔”
واضح رہے کہ مریض کانگو کے شہر بینی سے براستہ سڑک یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا پہنچا، اور وہاں سے 3 اکتوبر کو جمبوجیٹ کی پرواز سے نیروبی آیا۔ نیروبی کے جومو کینیاٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر نصب تھرمل اسکریننگ سے وہ گزر گیا۔
اس کیس میں وائرس کی “بنڈیبوگیو” قسم پائی گئی ہے، جس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں — یہی پہلو اس کیس کو زیادہ تشویشناک بناتا ہے۔
پاکستان میں صورتحال کیا ہے؟ مئی 2026 میں کانگو اور یوگنڈا میں ایبولا کے پھیلاؤ کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی ہدایت پر ملک بھر کے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ سخت کر دی گئی تھی۔ کراچی ایئرپورٹ پر نگرانی بڑھائی گئی اور مشتبہ کیسز کے لیے تھرمل اسکریننگ کے ساتھ آئسولیشن پروٹوکول نافذ ہے۔ پاکستان میں آج تک ایبولا کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا اور حکام خطرے کو “بہت کم” قرار دیتے ہیں۔ یہ واضح رہے کہ یہ مئی کی پالیسی ہے — کینیا کے تازہ کیس کے بعد کوئی نئی ہدایت سامنے نہیں آئی۔
یہ خبر کیوں اہم ہے؟ ایبولا کا ہر نیا کیس محض طبی خبر نہیں ہوتا؛ یہ عالمی سفری نظام، معیشتوں اور عوامی اعتماد کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی “پابندی نہ لگاؤ” والی ہدایت ایک پرانے سبق کی تکرار ہے — 2014 میں مغربی افریقہ کے پھیلاؤ کے دوران سفری پابندیوں نے وائرس سے زیادہ مقامی معیشتوں کو نقصان پہنچایا تھا۔ کینیا کی شفافیت کی تعریف بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے: جو ملک بروقت اطلاع دے، اسے سزا نہیں، مدد ملنی چاہیے۔ پاکستان کے لیے پیغام سیدھا ہے — ہوائی اڈوں پر چوکسی برقرار رکھی جائے، مگر بلا وجہ خوف نہ پھیلایا جائے۔

قارئین کے تبصرے (0)