اہم نکات: طوفان موراسو 2 نومبر کی رات ساڑھے گیارہ بجے سے 3 نومبر کی صبح چار بجے کے درمیان آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرائے گا۔ ٹکرانے کے وقت ہواؤں کی رفتار 100 سے 110 کلومیٹر فی گھنٹہ رہے گی، جھکڑ 120 کلومیٹر تک جا سکتے ہیں۔ آندھرا پردیش میں تقریباً 30 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا منصوبہ ہے، جن میں سے اب تک تقریباً 2 ہزار منتقل ہو چکے ہیں۔
بھارتی محکمہ موسمیات کے مطابق موراسو خلیج بنگال کے مغربی وسطی اور جنوب مغربی حصے میں ایک شدید سمندری طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ 2 نومبر کی صبح ڈھائی بجے اس کا مرکز چنئی سے تقریباً 260 کلومیٹر مشرق شمال مشرق، نیلور سے 290 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق اور اونگول سے 330 کلومیٹر جنوب مشرق میں تھا۔ طوفان تقریباً 20 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے شمال مغرب کی طرف بڑھ رہا تھا۔
محکمے کی پیش گوئی کے مطابق طوفان نیلور اور نرسا پور کے درمیان، اونگول کے قریب، جنوبی آندھرا پردیش کے ساحل کو عبور کرے گا۔ ساحل سے ٹکرانے پر ایک سے ڈیڑھ میٹر بلند سمندری لہریں نشیبی ساحلی علاقوں میں داخل ہو سکتی ہیں۔ یہی وہ لمحہ ہے جب طوفان سب سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے — ہوا کے ساتھ پانی بھی آتا ہے، اور نشیبی بستیوں میں پانی گھروں تک پہنچ جاتا ہے۔
بارش کا خطرہ صرف ساحلی پٹی تک محدود نہیں۔ نیلور، پرکاشم، باپٹلہ، گنٹور اور کرشنا اضلاع میں 2 نومبر کو انتہائی شدید بارش کا ریڈ الرٹ جاری ہے۔ کئی مقامات پر 2 اور 3 نومبر کے دوران 204 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے۔ طوفان کے اندرونِ ملک بڑھنے کے ساتھ بارش کا زون رائلسیما اور اندرونی آندھرا پردیش کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ شمالی تمل ناڈو اور پڈوچیری میں بھی 60 سے 70 کلومیٹر فی گھنٹہ کی ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
آندھرا پردیش کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق 12 این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، اور ہیلپ لائن نمبر فعال ہیں۔ چنئی میں 2 نومبر کے لیے اسکولوں کی چھٹی کا اعلان ہوا، اور اڈیشہ کے ملکانگیری ضلع میں 2 سے 4 نومبر تک اسکول اور کالج بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ماہی گیروں کو 4 نومبر کی صبح تک خلیج بنگال کے جنوب مغربی حصے میں نہ جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی چار بندرگاہوں پر دور کا وارننگ سگنل نمبر دو جاری کیا ہے۔
یہ طوفان اسی ساحل پر آ رہا ہے جو چند روز پہلے ہی طوفان ارناب کا سامنا کر چکا ہے، جس میں چھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور درجنوں مکانات اور فصلیں تباہ ہوئی تھیں۔ ارناب کے مقابلے میں موراسو کمزور بتایا جا رہا ہے، مگر حکام اس موازنے پر بھروسہ نہیں کر رہے — ہر طوفان کا اپنا راستہ، اپنی بارش اور اپنا نقصان ہوتا ہے۔ خلیج بنگال میں طوفانوں کی یہ لگاتار آمد امریکی خلیجی ساحل پر طوفان ایسائیس کی یاد بھی تازہ کرتی ہے، جو کیٹیگری 2 کی شدت کے ساتھ ساحل کی طرف بڑھا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ موراسو کی منزل آج رات ہے، اور تیاری کا وقت اب گھنٹوں میں رہ گیا ہے۔ ساحلی اضلاع کے رہائشیوں کے لیے آج کی رات احتیاط کی رات ہے — سرکاری ہدایات پر عمل، اور غیر ضروری سفر سے گریز ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)