Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

اسرائیل انتخابات کے حتمی نتائج برقرار: الیکشن چیف نے نیتن یاہو کا “چوری” کا دعویٰ مسترد کر دیا

یروشلم میں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی عمارت کا سامنے کا منظر

اسرائیل کے مرکزی الیکشن کمیٹی کے سربراہ نے اتوار کی رات واضح کر دیا ہے کہ 27 اکتوبر کے عام انتخابات کے نتائج برقرار رہیں گے، چاہے غیر ملکی مداخلت کے شبہات ثابت بھی ہو جائیں۔ جسٹس نوم سولبرگ نے اٹارنی جنرل گلی بہاراو میارا اور داخلی سلامتی ایجنسی شن بیت کے سربراہ ڈیوڈ زینی کے ہمراہ ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ یہ معاملہ سنگین ضرور ہے، مگر اس سے انتخابی عمل کی مجموعی ساکھ یا نتائج پر سوال نہیں اٹھتا۔

سولبرگ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا: “ہمارا موقف یہ ہے کہ اگر شبہات ثابت بھی ہو جائیں تو اس سے انتخابی عمل کی سالمیت یا مجموعی طور پر انتخابات کے نتائج متاثر نہیں ہوں گے۔” یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب جماعتوں نے ووٹ “چوری” کیا ہے اور اس میں قطر کی رقم استعمال ہوئی ہے۔ لیکود نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، اور قطر نے اس الزام کو غلط معلومات پھیلانے کی مہم قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

مرکزی الیکشن کمیٹی کے 31 اکتوبر کو جاری کردہ حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے بلاک نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں حاصل کی ہیں، جو سبکدوش ہونے والی پارلیمنٹ میں اس کے 68 نشستوں والے اتحاد سے 15 کم ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما گاڈی آئزن کوٹ کے بلاک نے 48 نشستیں جیتی ہیں، جبکہ تین عرب جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستیں لے کر ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جماعتوں کی سطح پر لیکود 27، آئزن کوٹ کی یشار 21، بی یخد 12 اور مشترکہ فہرست 11 نشستوں پر رہی۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے، جو کسی ایک بلاک کے پاس نہیں۔

تنازع کی ایک کڑی پولیس کی تفتیش بھی ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار مشتبہ افراد کا تعلق عرب جماعت رعام سے ہے، جس نے آٹھ نشستیں جیتی ہیں۔ ایک مشتبہ شخص کی حراست میں عدالت نے تین دن کی توسیع کر دی ہے، جبکہ دوسرے کو سخت شرائط پر رہا کر دیا گیا ہے۔ سولبرگ نے اس سے پہلے شن بیت کو لکھے گئے ایک خط میں “سنگین شبہات” کا ذکر کیا تھا، مگر شن بیت نے جواب میں کہا تھا کہ اس کی تحقیقات کا مطلب یہ نہیں کہ قانون کے مطابق ووٹ ڈالنے والی پوری آبادی پر شک کیا جائے۔

حزب اختلاف کے رہنما آئزن کوٹ نے اتوار کو نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ نتائج کو غیر معتبر بنانے کی “منظم اور مربوط مہم” چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شکست تسلیم کرنے کے بجائے انتخابی عمل پر ہی سوال اٹھایا جا رہا ہے۔ اس صورت حال نے اسرائیل کی سیاست کو ایک عجیب موڑ پر لا کھڑا کیا ہے: ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے، مگر یہ بحث ابھی باقی ہے کہ اگلی حکومت کون بنائے گا۔

اب آئینی مراحل تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ نتائج کی رسمی توثیق اسی ہفتے متوقع ہے، جس کے بعد 4 نومبر کو نتائج صدر اسحاق ہرزوگ کو پیش کیے جائیں گے، اور نئی کنیسٹ کی حلف برداری 10 نومبر کو ہوگی۔ اعداد کی زبان میں آئزن کوٹ کے 48 اور عرب جماعتوں کے 19 مل کر 67 بنتے ہیں، یعنی اکثریت کے لیے کافی تعداد، مگر سیاسی فاصلے ابھی بہت زیادہ ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس جوڑ توڑ میں بی یخد کے نفتالی بینیٹ کا کردار فیصلہ کن ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کی جماعت کے بغیر کوئی بھی فارمولا مکمل نہیں ہوتا۔

یہ معاملہ صرف نشستوں کی گنتی کا نہیں ہے۔ 27 اکتوبر کا انتخاب 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ کی جنگ کے بعد پہلا عام انتخاب تھا، اور اسے نیتن یاہو کی قیادت پر ریفرنڈم سمجھا جا رہا تھا۔ نتائج نے ان کی اکثریت چھین لی، مگر کوئی متبادل حکومت بھی سامنے نہیں آئی۔ اگر حکومت سازی کھنچتی ہے تو نیتن یاہو نگراں حیثیت میں برقرار رہیں گے، اور اس دوران غزہ جنگ بندی اور ایران کے معاملے پر فیصلے ایک ایسی حکومت کے ہاتھ میں رہیں گے جسے ووٹروں نے اکثریت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ نتائج پر اعتماد کا سوال اب خود حکومت کی قانونی حیثیت کا سوال بن گیا ہے۔

یاد رہے کہ 27 اکتوبر کو پولنگ کے دن اس انتخاب کو نیتن یاہو کی سیاسی بقا کا امتحان قرار دیا گیا تھا، اور ایگزٹ پولز میں ہی کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا تھا۔ حتمی نتائج نے اسی غیر یقینی صورت حال پر مہر لگا دی ہے، اور اب اصل مقابلہ پارلیمنٹ کے اندر اتحاد سازی کا ہوگا۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *