Sunday, 1 November 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

ایران نے برطانوی بحریہ اور فضائیہ کو دہشت گرد قرار دے دیا، ایم آئی 6 دشمن گروہ

سمندر میں برطانوی طیارہ بردار بحری جہاز ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ اور ایچ ایم ایس پرنس آف ویلز

تہران — ایران کی وزارت خارجہ نے اتوار یکم نومبر کو اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کی رائل نیوی اور رائل ایئر فورس کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی 6 کو دشمن گروہ کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔ وزارت کے مطابق یہ فیصلہ بیان کی اشاعت کے ساتھ ہی نافذ ہو گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی قرارداد کے تحت کیا گیا۔ ایم آئی 6 کو جاسوسی اور دشمن ملکوں سے تعاون کے خلاف سخت سزاؤں کے قانون کے تحت دشمن گروہ قرار دیا گیا، جبکہ رائل نیوی اور رائل ایئر فورس کو امریکا کی جانب سے پاسداران انقلاب کو دہشت گرد قرار دینے کے جواب میں بنائے گئے جوابی قانون کے تحت فہرست میں شامل کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا: “بیان کی اشاعت سے، یکم نومبر 2026 سے، برطانیہ کی بیرونی انٹیلی جنس سروس (ایم آئی 6) کو دشمن گروہ قرار دیا جاتا ہے، اور برطانوی رائل نیوی اور رائل ایئر فورس کو دہشت گرد تنظیمیں تسلیم کیا جاتا ہے۔” ایرانی وزارت خارجہ کا بیان

تہران نے اس اقدام کی وجہ لندن کے وہ اقدامات بتائے ہیں جنہیں وہ گزشتہ ایک برس کے دوران ایران کے خلاف “بدنیتی پر مبنی” قرار دیتا ہے۔ بیان کے مطابق برطانیہ نے ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی جنگ میں حصہ لیا اور اپنے دائرہ اختیار میں موجود فوجی اڈوں اور لاجسٹک سہولتوں تک رسائی فراہم کی۔ تہران نے خاص طور پر جولائی 2026 میں برطانیہ کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس کے تحت پاسداران انقلاب کو نیشنل سیکیورٹی (اسٹیٹ تھریٹس) ایکٹ 2026 کے تحت دہشت گرد قرار دیا گیا تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ تہران نے اس طرح کا جوابی قدم اٹھایا ہو۔ فروری 2026 میں یورپی یونین کے رکن ملکوں کی بحری اور فضائی افواج کو بھی اسی انداز میں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا، جب یورپی یونین نے پاسداران انقلاب کو اپنی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یوں لندن کے خلاف تازہ فیصلہ اسی سلسلے کی اگلی کڑی ہے — ہر فریق دوسرے کی فہرست کا جواب اپنی فہرست سے دے رہا ہے۔

برطانیہ نے ایرانی فیصلے کو فوری طور پر مسترد کر دیا ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا: “ہم اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ برطانوی مسلح افواج اپنے عوام، اہلکاروں اور مفادات کا دفاع جاری رکھیں گی اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کریں گی۔” رپورٹنگ کے وقت تک برطانوی دفتر خارجہ یا وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے کوئی الگ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔

یہ اعلان ایرانی قیادت کے ہفتے کے انتباہ کے صرف ایک دن بعد آیا ہے، جس میں کسی نئے حملے کا بغیر کسی جغرافیائی حد کے جواب دینے کا حکم دیا گیا تھا۔ پس منظر میں دوحہ میں ثالثی کی کوششیں جاری ہیں اور امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں — ایسے میں تہران کا یہ قدم سفارتی دباؤ بڑھانے کی ایک واضح کوشش دکھائی دیتا ہے۔

یہ فیصلہ کیوں اہم ہے؟ اس لیے کہ یہ محض لفظی جنگ نہیں رہی — تہران نے اب برطانوی فوجی اداروں کو اپنے قانون کی نظر میں دہشت گرد تنظیموں کے زمرے میں رکھ دیا ہے، جس سے خطے میں برطانوی اہلکاروں اور مفادات کے لیے قانونی اور سفارتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک بڑا ابہام بھی موجود ہے: تہران نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان فہرستوں کا عملی نفاذ کیسے ہوگا — گرفتاریاں ہوں گی، اثاثے منجمد ہوں گے، یا یہ محض علامتی انتقام ہے؟ یہی ابہام اس فیصلے کو علامتی کارروائی اور عملی دباؤ کے درمیان کہیں رکھتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ لندن کا ردعمل اب تک صرف مسترد کرنے تک محدود رہا ہے۔

ایک وضاحت ضروری ہے: یہ فیصلہ ایرانی قانون کے تحت ہے، اقوام متحدہ یا برطانوی قانون کے تحت نہیں، اس لیے اس سے برطانوی افواج کی بین الاقوامی قانونی حیثیت تبدیل نہیں ہوتی۔ اور یہ اعلان کسی نئی فوجی کارروائی کا اعلان بھی نہیں — بیان میں کسی حملے کی دھمکی نہیں دی گئی۔ پھر بھی، ایران اور برطانیہ کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں یہ ایک اور اینٹ کا اضافہ ہے، اور ایسے وقت میں جب خطے میں جنگ بندی کے باوجود کشیدگی برقرار ہے، اس طرح کے اقدامات مفاہمت کی گنجائش مزید تنگ کر دیتے ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *