Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

خامنہ ای کا حکم: نئے حملے کا جواب بغیر کسی جغرافیائی حد کے دیا جائے گا

تہران شہر کا وسیع منظر

تہران — ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی طرف سے کسی نئے حملے کا جواب فوری، مؤثر اور بغیر کسی جغرافیائی حد کے دیا جائے۔ یہ ہدایت ہفتے کو ان کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں سامنے آئی، جو ان کے سرکاری ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بھی شائع ہوا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق خامنہ ای نے یہ بیان مسلح افواج کے تین سینئر ترین کمانڈروں سے ملاقات کے بعد جاری کیا۔ ان میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی، بری فوج کے سربراہ امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی شامل تھے۔ رپورٹوں کے مطابق فروری میں جنگ چھڑنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب سپریم لیڈر کی اپنے مکمل عسکری قیادت سے ملاقات کا اعلان عام کیا گیا ہے۔

بیان میں خامنہ ای نے کہا: “کسی بھی سطح یا نوعیت کے خطرے کا جواب فوری، مؤثر اور بغیر کسی جغرافیائی پابندی کے دیا جانا چاہیے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “اگر دشمن ایک بار پھر فوجی یا دہشت گرد حملے کریں تو یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج اور ایرانی قوم ہی طے کرے گی کہ ایسی لڑائی کب اور کن شرائط پر ختم ہوگی۔”

بیان کے مطابق سپریم لیڈر نے کمانڈروں کو یہ بھی حکم دیا کہ ایران کی ہدفوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کیا جائے تاکہ “امریکی صہیونی دشمن” کے ہر طرح کے مادی اور غیر مادی اثاثے مسلح افواج کی پہنچ میں آ جائیں۔ اس حکم کو مبصرین ایران کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ڈیٹرنس یعنی روک تھام کا پیغام قرار دے رہے ہیں — یعنی حملے کی قیمت اتنی بلند دکھانا کہ مخالف اس سے باز رہے۔

ملاقات میں کمانڈروں نے خلیجی ساحل، آبنائے ہرمز اور خلیج عمان کے اطراف اور ایران کی شمال مغربی و جنوب مشرقی سرحدوں پر اعلیٰ درجے کی تیاری کی اطلاع دی۔ بعض رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی پیداوار اور گولہ بارود کے ذخائر میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ بیان کے بعد پاسداران انقلاب کی جانب سے ایک ویڈیو بھی گردش کرتی دیکھی گئی جس میں بغیر جغرافیائی حد کے جواب کی تیاری کا پیغام دیا گیا۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں آیا ہے جب دوحہ میں سفارت کاری کا ایک اور دور جاری ہے۔ ایرانی مذاکرات کاروں نے ہفتے کو قطر کے دارالحکومت میں قطری ثالثوں سے ملاقات کی، جس کا مقصد خلیج میں جنگ کے نئے دور سے بچنا ہے۔ اس سے ایک روز پہلے تہران میں ایرانی اور قطری نمائندوں کے درمیان بارہ گھنٹے سے زیادہ بات چیت ہوئی تھی۔ دونوں جانب سات روزہ اعتماد سازی کے منصوبوں پر بات ہو رہی ہے، لیکن ان کے مندرجات پر اتفاق ابھی نہیں ہوا — اسی تعطل کی تفصیل دوحہ مذاکرات پر ہماری آج کی رپورٹ میں پڑھیں۔

پس منظر یہ ہے کہ فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے خلیج کی جنگ شروع ہوئی تھی، جس کے آغاز میں خامنہ ای کے والد اور سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای مارے گئے تھے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس کے بعد قیادت سنبھالی، لیکن اس کے بعد سے وہ عوام میں نظر نہیں آئے — یہی وجہ ہے کہ ان کا تحریری بیان اور عسکری قیادت سے ملاقات کا اعلان غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

دوسری طرف امریکا میں وسط مدتی انتخابات منگل کو ہو رہے ہیں۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابات سے پہلے کے ہفتوں میں ایران پر حملے روک رکھے تھے، اور خدشہ یہ ہے کہ ووٹنگ کے بعد حملے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ کی جانب سے خلیجی ریاستوں کو پہلے ہی تیار رہنے کا پیغام دیا جا چکا ہے۔ ابھی تک واشنگٹن یا تل ابیب کی طرف سے خامنہ ای کے بیان پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

پاکستان کے لیے یہ پیش رفت براہ راست اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اس جنگ میں ثالثی کی کوشش کر رہا ہے — فیلڈ مارشل عاصم منیر اس مہینے دو بار تہران جا چکے ہیں، اور پاک فوج کے ترجمان نے ایرانی امریکی ثالثی کے حوالے سے “محتاط امید” کا اظہار کیا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تیل اور گیس کی تجارت میں خلل پاکستان کی توانائی کی قیمتوں اور ایل این جی کی فراہمی پر براہ راست اثر ڈالتا ہے۔

یہ بیان سفارت کاری اور دھمکی کا بیک وقت پیغام ہے۔ ایک طرف دوحہ میں بات چیت جاری ہے، دوسری طرف تہران یہ واضح کر رہا ہے کہ اگر بات چیت ناکام ہوئی اور حملے دوبارہ شروع ہوئے تو اس کا جواب محدود یا علامتی نہیں ہوگا۔ آنے والے دن — خاص طور پر امریکی انتخابات کے بعد کا ہفتہ — یہ طے کریں گے کہ یہ انتباہ محض دباؤ کی چال تھا یا ایک نئی عسکری لہر کی تمہید۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *