Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
پاکستان

امریکا کی ثالثی کی پیشکش پر پاکستان کا خیرمقدم، مگر شرط کے ساتھ: کابل پہلے قابلِ تصدیق کارروائی کرے

اٹلانٹا میں جی ٹوئنٹی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

اسلام آباد نے واشنگٹن کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان ثالثی کے اشارے کا خیرمقدم کیا ہے، مگر اس خیرمقدم کے ساتھ ایک واضح شرط بھی جوڑ دی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ پاکستان مخلص دوست ممالک کی جانب سے مکالمے میں سہولت کاری کی ہر سنجیدہ کوشش کا خیرمقدم کرے گا، بشرطیکہ اس سے اسلام آباد کے جائز سلامتی خدشات کا ٹھوس جواب ملے۔

ترجمان کا یہ بیان اتوار یکم نومبر کو سامنے آیا، ایک روز بعد جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اٹلانٹا میں جی ٹوئنٹی وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیا۔ روبیو نے کہا کہ واشنگٹن نے پاکستان کے ان خدشات کو سن لیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملے ہو رہے ہیں، اور اگر کوئی نتیجہ خیز کردار ادا کرنے کا موقع ملا تو امریکا وہ کردار ادا کرے گا۔

روبیو کے الفاظ محتاط تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کا طالبان کے ساتھ کوئی خاص قریبی تعلق نہیں، مگر واشنگٹن دہشت گردی کے خلاف ہے، خواہ وہ کہیں سے بھی ہو اور کسی کو بھی نشانہ بنائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ یہ بیان کسی باقاعدہ ثالثی منصوبے کا اعلان نہیں تھا — نہ کوئی ایلچی نامزد ہوا، نہ کوئی مقام یا تاریخ طے ہوئی۔

پاکستان کی شرط اسی فرق کو واضح کرتی ہے۔ سجاد حیدر خان کے مطابق بامعنی مکالمے کی بنیاد افغان طالبان حکام کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر گروہوں کے خلاف ٹھوس، مسلسل اور قابلِ تصدیق کارروائی کا واضح عزم ہونا چاہیے۔ اسلام آباد کا موقف ہے کہ بات چیت غیر مشروط نہیں ہو سکتی، اور محض بات چیت کی بحالی کامیابی نہیں کہلائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کا تازہ دور پہلے ہی ناکام ہو چکا ہے۔ طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کو ریڈ لائن قرار دیا تھا، اور اس کے بعد سے سرحدی کشیدگی میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں افغانستان سے ہونے والے حملوں میں تقریباً 4,700 پاکستانی شہری جان سے گئے ہیں۔ یہ اعداد دفتر خارجہ کے حوالے سے رپورٹ ہوئے ہیں، اور ان کی سنگینی ہی وہ پس منظر ہے جس میں ثالثی کی بات ہو رہی ہے۔

روس کی جانب سے بھی ثالثی کی پیشکش سامنے آ چکی ہے۔ ماسکو کے خصوصی ایلچی ضمیر کابلوف نے گزشتہ ماہ یہ تجویز دی تھی، مگر دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فی الحال روس کی کسی علیحدہ، باقاعدہ ثالثی تجویز پر غور نہیں ہو رہا۔ قطر اور ترکیہ کی سہولت کاری سے ہونے والے مذاکرات بھی کسی قابلِ عمل حل تک نہیں پہنچ سکے تھے۔ اس تناظر میں امریکی اشارہ نیا ضرور ہے، مگر اس کی عملی شکل ابھی طے ہونا باقی ہے۔

کابل کی جانب سے ابھی تک امریکی کردار قبول کرنے کا کوئی عوامی اشارہ نہیں ملا۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں اس خبر کی اصل اہمیت چھپی ہے: امریکا کی آمادگی ایک دروازہ کھولتی ہے، مگر دروازے سے گزرنے کے لیے دونوں فریقوں کو اس پر متفق ہونا ہوگا کہ بات کس ایجنڈے پر ہوگی۔ پاکستان نے اپنا ایجنڈا بتا دیا ہے — قابلِ تصدیق کارروائی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اس شرط کو اپنی سفارت کاری کا حصہ بناتا ہے، یا اس کی پیشکش محض ایک عمومی بیان تک محدود رہتی ہے۔ اسلام آباد میں مذاکرات کے تعطل کا حساب پہلے بھی یہی سبق دے چکا ہے کہ بات چیت کا اعلان آسان ہے، اسے نتیجے تک پہنچانا مشکل۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *