Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
کاروبار

پٹرول کی قیمت کا نیا فارمولا آج سے نافذ: درآمدی قیمت اب پی ایس او کے اصل کارگو سے جڑے گی، ریفائنری اجزا 30 دن کے لیے منجمد

ایک پٹرول پمپ کا منظر

پاکستان میں پٹرول کی قیمت طے کرنے کا طریقہ آج سے بدل گیا ہے۔ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد 2 نومبر 2026 سے نافذ ہونے والے نئے فارمولے کے تحت درآمدی پٹرول کی قیمت اب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے متعلقہ کارگو کی اصل درآمدی لاگت سے طے ہوگی۔ یہ تبدیلی صرف موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول پر لاگو ہوتی ہے، دوسری مصنوعات کے قیمتوں کے پیرامیٹرز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

تاریخوں میں یہ کہانی: 7 مارچ 2026 — وہ تاریخ جس پر مقامی ریفائنریوں کے لیے پریمیم، ضمنی اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کو منجمد کیا گیا ہے، یعنی ایران امریکا جنگ سے پہلے کی سطح۔ 30 اکتوبر 2026 — وفاقی کابینہ نے نیا طریقہ کار منظور کیا، پٹرولیم ڈویژن کی دستاویزات کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی۔ 2 نومبر 2026 — نیا فارمولا نافذ۔ آئندہ 30 دن — مقامی ریفائنریوں کے لیے عارضی طریقہ کار کی مدت، جس کے دوران مذکورہ اجزا 7 مارچ کی سطح پر ہی رہیں گے۔

اس عارضی انتظام کا مقصد کیا ہے؟ جنگ کے باعث عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے دوران مقامی ریفائنریوں کی قیمتوں کے حساب کو اچانک جھٹکوں سے بچانا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے حاصل ہونے والا فائدہ صارفین تک پٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں پہنچایا جائے گا۔ اس کے ساتھ پٹرول کی قیمتوں میں 2.950 ڈالر فی بیرل یومیہ کا پریمیم ڈیفرینشل فائدہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس سے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کو ہموار کرنے میں مدد ملے گی۔

ایک بات واضح رہے: پٹرول پر 80 روپے فی لیٹر کا موجودہ لیوی برقرار رہے گا، اور یہ نئی قیمتوں کی ایڈجسٹمنٹ سے الگ ہے۔ یعنی نیا فارمولا قیمت کے حساب کا طریقہ بدلتا ہے، ٹیکس کا ڈھانچہ نہیں۔ صارف کے لیے اصل سوال یہی ہے کہ اس تبدیلی سے پمپ پر قیمت پر کیا اثر پڑتا ہے — اور اس کا جواب آئندہ قیمتوں کے اعلان میں ملے گا، جب نئے فارمولے سے طے شدہ قیمت سامنے آئے گی۔

یہ تبدیلی پاکستان کے روزانہ ایندھن قیمتوں کے نظام کے اندر ہو رہی ہے، جس کے تحت اوگرا روزانہ ایکس ڈپو قیمتیں طے اور شائع کرتا ہے۔ گزشتہ ماہ جب پٹرول 398.96 روپے اور ڈیزل 395.72 روپے تک پہنچا تھا، تو اس وقت بھی یہی سوال اٹھا تھا کہ قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں اور روزانہ نظام کیسے کام کرتا ہے۔ اس کے برعکس، 14 اکتوبر کو پٹرول 2.71 روپے سستا ہوا تھا، جو اسی نظام کے تحت ایک معمول کی نظرثانی تھی۔ نیا فارمولا اس نظام کو مزید شفاف بنانے کی کوشش ہے — درآمدی لاگت اصل کارگو سے جڑے گی، نہ کہ کسی اوسط یا اندازے سے۔ اگر یہ وعدہ پورا ہوا تو صارف کو قیمت میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سمجھنا آسان ہو جائے گا۔ اگر نہیں، تو یہ ایک اور فارمولا بن کر رہ جائے گا جس کا فائدہ کاغذوں تک محدود رہے گا۔ اگلے 30 دن اس کا پہلا امتحان ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *