Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
بین الاقوامی

پاکستان کے راستے 150 سے زائد افغانوں کی بے دخلی پر طالبان کا شدید تشویش کا اظہار

کابل ہوائی اڈے پر امریکی فوجی طیارے میں سوار ہونے کے منتظر افغان شہری، اگست 2021 کی فائل تصویر

کابل نے امریکہ کے اس منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے تحت 150 سے زائد افغان مہاجرین کو پاکستان کے راستے واپس افغانستان بھیجا جانا ہے۔ طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ امریکہ افغان شہریوں کی قسمت سے متعلق فیصلوں میں ذمہ دارانہ اور نپا تلا رویہ اختیار کرے۔ یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب پہلی چارٹر پرواز آج ہی روانہ ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی تھی۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جمعے کو رپورٹ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ 150 سے زائد افغانوں کو بے دخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے اور پہلی پرواز پیر 2 نومبر کو ہی روانہ ہو سکتی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق بے دخلی پاکستان کے راستے ہوگی کیونکہ واشنگٹن کے طالبان حکومت سے سفارتی تعلقات نہیں ہیں، اس لیے براہ راست کابل کے لیے پرواز ممکن نہیں۔ عدالتی دستاویزات میں ایک افغان شہری کی بے دخلی کے لیے پاکستان کو پہلی منزل لکھا گیا ہے، جس کے بعد اسے افغانستان منتقل کیا جانا ہے۔

جن افراد کو بے دخل کیا جانا ہے ان میں وہ افغان بھی شامل ہیں جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکی ہیں، جن کا عارضی تحفظ ختم کیا گیا ہے یا جن کے خلاف بے دخلی کے احکامات جاری ہیں۔ افغان اتحادیوں کی مدد کرنے والی تنظیم افغان ایویک اور امریکی سینیٹر جین شاہین کے مطابق اس گروپ میں امریکی افواج کے ساتھ کام کرنے والے افغانوں کے رشتہ دار بھی شامل ہو سکتے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی ہیں۔ درجنوں زیر حراست افغانوں کو ملک بھر کے حراستی مراکز سے لوئیزیانا منتقل کیا گیا ہے، جہاں سے چارٹر پرواز روانہ ہونا ہے۔ امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے مستقبل کی بے دخلی کی کارروائیوں کی تصدیق سے انکار کیا ہے۔

طالبان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بیان میں کہا: “اسلامی امارت افغانستان اس امر پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ امریکہ بعض افغان مہاجرین کو پاکستان بے دخل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے جنہوں نے ابھی تک وہاں قانونی رہائش کے دستاویزات حاصل نہیں کیے۔” انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ “ذمہ دارانہ اور نپے تلے انداز” سے کام لے اور افغان شہریوں کی قسمت کے فیصلے “واضح باہمی مفاہمت، ضروری رابطے اور متعلقہ افراد کے حقوق اور جائز مطالبات کو مدنظر رکھ کر” کرے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ “تیسرے ممالک کو کسی دوسرے ملک کے شہریوں کو محدود عارضی رعایتوں یا دیگر مفادات کے بدلے سودے بازی کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔”

اس معاملے میں پاکستان کا کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی براہ راست راستہ نہیں، اور پاکستان ہی وہ ملک ہے جس کے راستے یہ بے دخلیاں ہونا ہیں۔ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والے منصوبے کے مطابق پہلی پرواز آج ہی روانہ ہونا تھی، اور اطلاعات کے مطابق پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اس کی سرزمین سے گزرنے والے افغانوں کو وہ آگے بے دخل کر دے گا۔ دوسری جانب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پہلے ہی کشیدہ ہیں — اسلام آباد کابل پر سرحد پار حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام لگاتا ہے جبکہ کابل اس کی تردید کرتا ہے۔ اسی کشیدگی کے پس منظر میں پاکستان نے اتوار کو امریکہ کی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا، مگر کابل سے قابل تصدیق کارروائی کی شرط لگائی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور وکلاء کو خدشہ ہے کہ پاکستان کے راستے واپس بھیجے گئے افغان طالبان کے ہاتھوں انتقام، گرفتاری یا بدسلوکی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے افغانستان مشن (یوناما) کی جولائی 2025 کی رپورٹ میں غیر رضامندانہ طور پر واپس بھیجے گئے 49 افراد کے انٹرویوز کی بنیاد پر تشدد، بدسلوکی، من مانی گرفتاری اور ذاتی سلامتی کو خطرات کی دستاویز کی گئی تھی۔ ایک امدادی تنظیم ڈسپلیسڈ انٹرنیشنل نے ٹرمپ انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان بے دخلیوں کو فوری روکے اور کسی بھی شخص کو ایسے خطرے کی طرف منتقل نہ کیا جائے جہاں اسے ظلم یا تشدد کا سامنا ہو۔

تاہم ابھی تک یہ تصدیق نہیں ہو سکی کہ پہلی پرواز آج روانہ ہوئی ہے یا نہیں، اور نہ ہی مسافروں کی حتمی تعداد یا فہرست سامنے آئی ہے۔ امریکی انتظامیہ نے اس آپریشن کا عوامی اعلان نہیں کیا ہے، اور تفصیلات غیر مصدقہ حکام، عدالتی دستاویزات اور وکلا کی تنظیموں کے ذریعے سامنے آ رہی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے بھی اس ٹرانزٹ کردار پر آج کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ معاملہ محض 150 افراد کی بے دخلی نہیں ہے — یہ اس سوال کا بھی امتحان ہے کہ تیسرے ملک کے راستے بے دخلی کہاں تک جائز ہے۔ اگر پاکستان واقعی ٹرانزٹ کا کردار ادا کرتا ہے تو وہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک ایسی پوزیشن میں آ جائے گا جہاں اسے ایک طرف واشنگٹن کے ساتھ تعلقات اور دوسری طرف کابل کے ساتھ پہلے سے کشیدہ سرحدی تعلقات دونوں کو سنبھالنا ہوگا۔ اور ان افغانوں کے لیے جنہوں نے کبھی امریکی افواج کے ساتھ کام کیا یا ان کے رشتہ دار ہیں، پاکستان کا راستہ واپسی کا راستہ نہیں بلکہ ایک ایسے مستقبل کی طرف دروازہ ہو سکتا ہے جس سے وہ بھاگ کر نکلے تھے۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *