جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان سرحدی پوسٹوں سے پاکستانی چوکیوں پر بلااشتعال فائرنگ کے بعد پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کی ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر کے مطابق جوابی حملے میں افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹیں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیاں نشانہ بنیں، جس کے بعد طالبان اہلکار اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
ڈپٹی کمشنر نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ افغان پوسٹوں کی جانب سے پاکستانی پوسٹوں پر فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا، جس کا پاکستانی فورسز نے فوری جواب دیا۔ ان کے الفاظ میں، “پاکستانی فورسز کے شدید ردعمل پر افغان طالبان اپنی پوسٹیں چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔” ڈپٹی کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ تاحال پاکستانی جانب سرحدی علاقوں میں کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں، اور سیکیورٹی فورسز ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہ تازہ جھڑپ اسی علاقے میں 27 اکتوبر کی رات ہونے والے واقعے کے چند دن بعد سامنے آئی ہے، جب افغان فائرنگ اور مارٹر گولوں سے انگور اڈہ بازار اور رہائشی مکانات متاثر ہوئے تھے۔ اس واقعے میں ایک شہری شہید اور ایک ہی خاندان کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد پاک فوج نے جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی کئی چیک پوسٹیں تباہ کر دی تھیں۔ وزارت اطلاعات و نشریات نے بعد میں بتایا تھا کہ اس کارروائی میں سات افغان پوسٹیں تباہ ہوئیں۔
دوسری طرف، طالبان پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ یکم نومبر کو پکتیکا کے علاقے شور داغ میں پاکستانی راکٹ فائر سے ایک نوجوان ہلاک اور دو شہری زخمی ہوئے اور کئی مکانات کو نقصان پہنچا۔ پاکستان کی طرف سے اس دعوے پر تاحال کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے، اس لیے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
سرحدی کشیدگی ایسے وقت میں پھر ابھری ہے جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ تعطل کا شکار ہے۔ پاکستان نے امریکا کی ثالثی کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ کابل پہلے قابل تصدیق کارروائی کرے، جبکہ اسلام آباد کا موقف ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری رہی تو مزید کارروائی ہوگی۔
یہ واقعہ اس لیے بھی اہم ہے کہ انگور اڈہ جنوبی وزیرستان میں پاک افغان سرحد کا حساس مقام ہے، جہاں اکتوبر کے دوران کئی بار فائرنگ کے تبادلے ہو چکے ہیں۔ ہر بار پیٹرن ایک ہی رہا ہے: سرحد پار سے فائرنگ، پاکستانی جوابی کارروائی، اور پھر دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات۔ زمینی حقائق البتہ یہ بتاتے ہیں کہ یہ جھڑپیں کسی بڑے تصادم میں بدلنے کے بجائے سرحدی دباؤ کے وقفے وقفے سے آنے والے دوروں کی شکل اختیار کر چکی ہیں، جن میں عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سلسلہ یہیں رکے گا یا اس میں مزید شدت آئے گی۔ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنی سرحدی چوکیوں پر حملے کا جواب دے گا، جبکہ طالبان حکام اپنے دعووں کے ذریعے دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں جانب سے مذاکرات کی بحالی کی کوئی ٹھوس پیش رفت سامنے نہ آنے تک سرحد پر یہ کشیدہ صورت حال برقرار رہنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں: انگور اڈہ میں افغان فائرنگ سے ایک شہری شہید، پانچ زخمی — پاک فوج کا جوابی حملہ، کئی چیک پوسٹیں تباہ اور امریکا کی ثالثی کی پیشکش پر پاکستان کا خیرمقدم، مگر شرط کے ساتھ: کابل پہلے قابلِ تصدیق کارروائی کرے۔

قارئین کے تبصرے (0)