محمد یوسف نے بابر اعظم کے بارے میں وہ بات کہہ دی ہے جو پاکستانی کرکٹ کے حلقوں میں چار برس سے دبی آواز میں ہو رہی تھی۔ سابق بلے باز نے ایکس پر لکھا ہے کہ بابر کو اس وقت تک فرسٹ کلاس کرکٹ نہیں کھیلنی چاہیے جب تک وہ خصوصی کوچنگ سے اپنی تکنیکی خامیاں دور نہ کر لیں۔ ان کے بقول، ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل جدوجہد بابر کے اعتماد اور کیریئر کو مزید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ حل؟ انہیں انگلینڈ یا آسٹریلیا کی کسی اکیڈمی بھیج دیا جائے۔
یوسف کے الفاظ سخت ہیں، مگر ان کا لہجہ دشمنی کا نہیں، فکر کا ہے۔ انہوں نے لکھا: “وہ اب بھی پاکستان کے بہترین کھلاڑی ہیں، اور درست رہنمائی اور تھوڑی سی محنت سے اپنی بہترین فارم میں واپس آ سکتے ہیں۔ میں نے یہ بات چار سال پہلے کہی تھی، اور کسی نے نہیں سنی۔ اب تو سن لیں۔” یہ جملہ اس مشورے کو محض ایک ٹویٹ سے بڑھا کر ایک پرانی شکایت بنا دیتا ہے — یوسف کے مطابق یہ مسئلہ نیا نہیں، اس کی نشاندہی بہت پہلے ہو چکی تھی۔
اعداد یوسف کے موقف کو ہوا دیتے ہیں۔ اکتوبر 2026 کی ون ڈے ٹرائی سیریز میں بابر نے 118 رنز بنائے، اوسط 23.60 رہی، اور فائنل میں وہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔ اسی سیریز کے دوسرے میچ میں راولپنڈی میں انگلینڈ کے خلاف وہ 34 رنز بنا سکے تھے۔ یہ وہ فارم نہیں جس کے لیے بابر جانے جاتے ہیں — ایک وقت تھا جب وہ تینوں فارمیٹس میں بیک وقت آئی سی سی رینکنگ میں نمبر ایک تھے۔ 2024 کے بعد سے ان کی کارکردگی میں وہ تسلسل نظر نہیں آ رہا۔
دوسری طرف، وقت بھی کم ہے۔ بابر 3 نومبر سے ڈائمنڈ کرکٹ گراؤنڈ اسلام آباد میں قائداعظم ٹرافی میں لاہور وائٹس کی طرف سے کھیلنے والے ہیں، جہاں ان کا مقابلہ شاہین آفریدی کی قیادت والی فاٹا ٹیم سے ہوگا۔ اس کے چھ دن بعد، 9 نومبر سے راولپنڈی میں سری لنکا کے خلاف پہلا ٹیسٹ شروع ہوگا، جس میں بابر کپتانی کریں گے۔ یوسف کا مشورہ اگر مانا جائے تو اس شیڈول پر ہی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے — اکیڈمی کا مطلب ہے میچوں سے دوری، اور میچوں سے دوری کا مطلب ہے ٹیسٹ کی تیاری کا نیا منصوبہ۔
یہی وہ نقطہ ہے جہاں رائے تقسیم ہے۔ سابق کھلاڑیوں میں وقار یونس اور عماد وسیم جیسے نام بابر کا دفاع کر چکے ہیں، جبکہ دوسرے یوسف کی بات سے متفق ہیں۔ سچ یہ ہے کہ دونوں طرف وزن ہے۔ میچ پریکٹس کے بغیر فارم واپس نہیں آتی، مگر غلط تکنیک کے ساتھ میچ کھیلتے رہنا بھی عادت کو پکا کرتا ہے۔ بابر نے ستمبر 2026 میں سات سال کے وقفے کے بعد اپنی درخواست پر فرسٹ کلاس کرکٹ میں واپسی کی تھی، تاکہ ریڈ بال کرکٹ سے جڑے رہیں — یہ ان کی اپنی کوشش تھی، کسی دباؤ کا نتیجہ نہیں۔ پاکستان کرکٹ میں نوجوانوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے، انڈر 19 ایشیا کپ 6 نومبر سے شروع ہو رہا ہے، مگر سینئر ٹیم کی قیادت اب بھی بابر کے گرد گھومتی ہے۔ اور ٹرائی سیریز کے فائنل میں فخر زمان کی سنچری نے دکھایا کہ بڑے میچ میں ایک اننگز پورا نقشہ بدل سکتی ہے — بابر کو بھی ایسی ہی ایک اننگز درکار ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ وہ اننگز اکیڈمی کے نیٹ میں بنے گی، یا گراؤنڈ کے بیچ میں۔ پی سی بی کا فیصلہ اس سوال کا جواب دے گا، اور اس کے ساتھ بابر کے اعتماد کا مستقبل بھی جڑا ہوا ہے۔

قارئین کے تبصرے (0)