Monday, 2 November 2026
بریکنگ نیوز
سیاست

عمران خان کی بہنوں کی نظربندی: لاہور ہائیکورٹ نے ڈی سی کو 4 نومبر کو طلب کر لیا، بیٹیوں سے ملاقات کا حکم

لاہور ہائیکورٹ کی عمارت کا بیرونی منظر

لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی بہنوں کی نظربندی میں توسیع کے معاملے پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو 4 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے ساتھ ہی نورین نیازی سے ان کی دو بیٹیوں کی کل، منگل کو جیل میں ایک گھنٹے کی ملاقات کا حکم بھی دے دیا۔

جسٹس ابہر گل خان نے پیر کو علیمہ خان کے بیٹے شہریز خان اور سکینہ بی بی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواستوں میں علیمہ خان، ڈاکٹر عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں توسیع کو چیلنج کیا گیا ہے، اور نورین نیازی کے علاج کی درخواست بھی کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل رانا مدثر عمر نے موقف اختیار کیا کہ تینوں بہنوں کو 44 روز سے جیل میں رکھا گیا ہے حالانکہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نظربندی کی ابتدائی مدت مکمل ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر کی جانب سے 7 اکتوبر کو جاری کیا گیا توسیع کا نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے۔

عدالت نے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی نظربندی میں توسیع کے نوٹیفکیشنز پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو 4 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا، جبکہ علیمہ خان کی نظربندی سے متعلق سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کے وکیل ڈی سی کو ملاقات کے لیے درخواست دیں اور ڈی سی اس درخواست پر منگل کو صبح 10 بجے ایک گھنٹے کی ملاقات کا انتظام کریں۔

پنجاب حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نورین نیازی کو اسپتال میں علاج دیا گیا اور ڈاکٹروں کے مشورے پر انہیں واپس جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔ سرکاری وکیل کے مطابق ان کی بیٹی حاجرہ نیازی 29 اکتوبر کو اسپتال میں علاج کے دوران اپنی والدہ سے مل چکی ہیں۔

یاد رہے کہ تینوں بہنوں کو ستمبر میں پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ علیمہ خان کو 20 ستمبر کو اور نورین نیازی و عظمیٰ خان کو 21 ستمبر کو 30 روز کے لیے نظربند کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاریاں عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے اسلام آباد مارچ سے پہلے عمل میں آئی تھیں۔ ابتدائی مدت ختم ہونے پر پنجاب حکومت نے عدالت کو بتایا تھا کہ نظربندی میں مزید 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔

نورین نیازی، جن کی عمر 70 برس ہے، کو 28 اکتوبر کو کوٹ لکھپت جیل سے دل میں تکلیف کے باعث پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں نورین نیازی کی اسپتال منتقلی ہوئی تھی۔ عدالت نے اس سے قبل نظربندی میں توسیع، نورین نیازی کی صحت اور خاندان کو ملاقات کی سہولت سے متعلق رپورٹیں بھی طلب کی تھیں (مزید: لاہور ہائیکورٹ کا 23 اکتوبر کا حکم)۔

عدالت نے تینوں بہنوں کی رہائی کا حکم نہیں دیا ہے۔ آئندہ سماعتوں میں یہ طے ہوگا کہ نظربندی میں توسیع کا قانونی جواز پورا ہوا یا نہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر پورا کیس ٹکا ہوا ہے: ایم پی او کے تحت حفاظتی نظربندی کے لیے نہ کسی الزام کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ مقدمہ چلتا ہے، اس لیے عدالت صرف یہ جانچ رہی ہے کہ توسیع کا طریقہ کار قانون کے مطابق تھا یا نہیں۔ منگل کی ملاقات اور 4 نومبر کو ڈی سی کی پیشی اسی جانچ کے اگلے مراحل ہیں۔

Avatar photo

تحریر

101Urdu team

قارئین کے تبصرے (0)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *